Book Name:Faizan e Khwaja Ghareeb Nawaz

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فیضانِِِخواجہ غَریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ

دُرُود شریف کی فضیلت

حضرتِ سَیِّدُناابُوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن،  شفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ دلنشین ہے: لَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قُبُورًا وَلَا تَجْعَلُوْا قَبْرِی عِیْدًا، یعنی اپنے گھروں کوقَبرستان مت بناؤ اور نہ ہی میری قَبر کوعید بناؤ وَصَلُّوْاعَلَیَّ فَاِنَّ صَلَا تَکُم تَبْلُغُنِیْ حَیْثُ کُنْتُمْ یعنی اورمجھ پردُرُود ِپاک پڑھا کرو، بے شک تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے چاہے تم جہاں بھی ہو۔ ([1])

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان مراٰۃُ المناجیح میں اس حدیث پاک کے تَحت فرماتے ہیں :اپنے گھروں کو قبرستان کی طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِکر سے خالی مت رکھوبلکہ فَرائض مسجد وں میں اَدا کرو اورنَوافل گھر میں ۔ اور جیسے عیدگاہ میں سال میں صرف دوبار جاتے ہیں ایسے میرے مَزار پر نہ آؤ بلکہ اکثر حاضِری دیا کرویا جیسے عید کے دن کھیل کود کے لیے میلوں میں جاتے ہیں ایسے تم ہمارے روضہ پر بے اَدَبی سے نہ آیا کرو بلکہ بااَدَب رہا کرو۔ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عرصۂ درازسے پاک و ہند اللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے نیک بندوں کی توجُّہ کا مرکز رہا ہے۔ مُختلف اَدوار میں یکے بعد دیگرے بے شُمار اولیائے کبار عَلَیْہِم رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّارنے ہند کا رُخ کیا اور لوگوں کو نہ صرف دینِ اسلام کی دعوت دی بلکہ کُفْر و شِرْک کی تاریکیوں میں بھٹکنے والے اَن گِنت غیرمُسلموں کواللہعَزَّ  وَجَلَّ کی وَحداِنیَّت اور پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی رِسالت سے آگاہ کرکےانہیں دائرہ اسلام میں داخل بھی فرمایا۔ تاجُ الاولیاء، سَیِّدُ الاصفیاء، وارثُ النبی، عطائے رسول ، سُلطانُ الھند، حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نوازسَیِّدمُعینُ الدّین حسن سَنْجری چشتی اجمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی   کا شمار بھی انہی بُزرگوں میں ہوتا ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ چھٹی صدی ہجری میں ہند تشریف لائے اور ایک عظیمُ الشان روحانی و سماجی انقلاب کا باعث بنےحتی کہ ہندکا ظالم و جابر حکمران بھی آپ کی شخصیت سے مرعوب ہوکرتائب ہوااورعقیدت مندوں میں شامل ہوگیا۔آئیے !خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی کےحسین پہلوؤں کو مُلاحظہ کیجئے۔

وِلادتِ باسعادت

حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز سَیِّدمُعینُ الدین حسن سَنْجَری چشتی اجمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی ۵۳۷ ھ بمطابق 1142ء میں سِجِسْتان یاسیستان کے علاقہ” سنجر“مىں  پیداہوئے ۔ ([3])

نام وسلسلۂ نسب

آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کااسمِ گرامی حسن ہےاورآپ نَجیبُ الطرفین حسنی وحسینی سَیِّدہیں۔آپ کے القاب بہت زیادہ ہیں مگرمشہور ومعروف القاب میں مُعینُ الدین ،  خواجہ غریب نواز، سُلطانُ الہند،  وارثُ النبی اور عطائے رسول وغیرہ شَامل ہیں آپ کا سلسلہ ٔ نسب سَیِّدمُعینُ الدّین  حسن بن سَیِّدغیاثُ الدّین  حسن بن سَیِّدنجمُ الدّین طاہر بن سَیِّدعبدالعزیز ہے۔  ([4])

 



[1]    ابو داود، کتاب المناسک ، باب زیارةالقبور،  ۲/۳۱۵، حدیث:۲۰۴۲

[2]     مراةالمناجیح، ۱/۱۰۱

[3]     اقتباس الانوار، ص۳۴۵

[4]     معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ، ص۱۸ملخصاًوغیرہ



Total Pages: 11

Go To