Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

مخلوقِ خدا میں شہرت

پہلے پہل توصرف  علوم ظاہری میں آپ کی خداداد قابلیت اور ذہانت کی وجہ سےآپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کاشہرہ ہوا جس کے نتیجے میں بڑے بڑے علما و فُضَلاآپ کے درس میں اِستفِادہ کے لئے حاضر ہونے لگے اور پھر جب آپ نے نصابِ طریقت اورسلوکِ مَعرفت کے مَدارجِ عالیہ کو بھی طے کرلیا اور آپ کے تَقْویٰ وپرہیز گاری کاہر خاص وعام کو علم  ہوگیا تو دور دور سے لوگ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے  دریائے علم ومعرفت سے اپنے تِشْنگی مٹانے آنے لگےلہٰذا آپ کے ماموں سَیِّدمنصوررَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے خانقاہ ِاُمِّ عَبیدہ (صوبہ  ذِیقار، جنوبی عراق)کی خلافت آپ کے سِپُرد فرمادی  تاکہ وہاں رہ کر آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ خلقِ خدا کی ہدایت و رہنمائی کریں اور اپنے علمِ ظاہری کے ساتھ ساتھ علمِ  باطنی سے بھی  لوگوں کو فیض پہنچائیں۔

سجادہ نشینی کا واقعہ

جب حضرت سَیِّدُنا شیخ منصورعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفُور   کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی زوجہ محترمہ  نے عرض کی:اپنے فرزندکے لئے خِلافت  کی وَصیَّت کردیں ، شیخ منصورعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفُور   نے فرمایا:نہیں بلکہ میرے بھانجے احمد کے لئےخلافت کی وصیت ہے،زوجہ محترمہ  نےجب اصرار کیا تو آپ نے اپنے بیٹے اور بھانجے امام رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  کو بلوایا اور دونوں سے فرمایا :میرے پاس کھجور کے پتے لاؤ ،بیٹا تو بہت سے پتے کاٹ کرلے آیا مگرسَیِّدُنا امام رفاعی کوئی پتا نہ لائے،وجہ پوچھی تو حکمت سے

 



Total Pages: 34

Go To