Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

تم لوگوں نے میرے اندر کوئی عیب دیکھا ہو تو مجھے بتادو، اىک مریدنے کھڑے ہوکر عرض کی : ىا سىدى !آپ مىں ایک  بہت بڑا عىب ہے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ    نے پوچھا :  اے میرے بھائی !کون سا عیب ؟ اس نے (بھی عاجزی پر مبنی جواب دیتے ہوئے)عرض کی : ہمارے جیسے(برےلوگوں)کو اپنی صحبت سے نوازے رکھنا۔یہ سن کرسب مرید رونے لگے ساتھ ہی ساتھ آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   کی آنکھیں بھی اَشکبار ہوگئیں اور فرمانےلگے : مىں تمہارا خادم ہوں ،مىں تم سب لوگوں سے کم تر  ہوں۔([1]) 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا  آپ نےامام احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی   ولایت کے عظیم مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود کس قدر عاجزی و اِنکساری فرماتے۔یقیناً آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ    کی سیرتِ مبارکہ میں ہمارےلئے بے شما ر مدنی پھول ہیں۔مگر یہ بھی یاد رکھئےکہ عاجزی صرف اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کی رضا کی خاطر ہونی چاہیےکیونکہ یہی عاجزی عظیم ثواب اور ترقی درجات کا باعث بن سکتی ہےاگر کوئی شخص ریاکاری کے لئے عاجزی کرتا ہے تو ایسی عاجزی وبالِ جان بھی  بن سکتی ہے۔ شیخِ طریقت ،امیرِاہلسنَّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمدالیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  جھوٹی عاجزی سے بچنے کی ترغیب دیتے ہوئے مدنی انعام نمبر45میں فرماتے ہیں : آج آپ نے عاجزی کے ایسے الفاظ جن کی تائید دل نہ کرے بول کر نِفاق اور رِیا کاری کا ارتکاب تو نہیں کیا ؟ مثلاً اس طرح کہنا کہ میں حقیر ہوں ،کمینہ ہوں وغیرہ جب کہ دل میں خُود کو حقیر نہ سمجھتاہو۔([2])

عورت کی بد اَخْلاقی پر صبر

حضرت سَیِّداحمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کا ایک مریدجو کئی مرتبہ خواب میں آپ کو جنّت میں دیکھ چکا تھا لیکن   آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی  عَلَیْہسے اس کا  کوئی ذکر نہ  کیا تھا، ایک دن  آپ کی خدمت میں حاضر ہواتوآپ کی بیوی کو آپ سے بدسُلوکی کرتے پایا اورآپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   اس زیادتی  پر خاموش ہیں۔وہ مریدیہ دیکھ کر بے قرار ہوگیا اور دیگرعقیدت مندوں  کےپاس جا کر کہنے لگا :  یہ حضرت پر اس قدر  زیادتی کرتی ہےاور تم خاموش رہتے ہو ؟کسی نے  کہا : اس کا مہر پانچ سو دینار ہے اور حضرت غَنی نہیں ہیں۔و ہ آدمی گیااورپانچ سو دینارلے کرآپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   کی خدمت میں پیش کردیئے، آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   نے فرمایا : یہ کیا ہے؟عرض کی :  اس عورت کا حق مہر ہےجو آپ کے ساتھ بُراسُلوک  کرتی ہے،آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   نے مُسکراتے ہوئے فرمایا : اگر میں اس کی بدزبانی  اور بدسُلوکی پر  صبر نہ کرتا تو کیا  تم مجھے جنّت میں دیکھ پاتے  ۔([3])

فرمانِ غوث ِاعظم پر  گردن جُھکا لی

بہجةُ الاسرار میں ہے کہ قطبِ ربانی ،شہبازِلامکانی،مُحْی الدین  حضرت سیّد عبدالقادرجیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نےجس  وقت قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَةِ کُلِّ وَلِیّ اللهِ (میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے )فرمایا تو حضرت سَیِّد احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی   نے اپنی گردن جھکا کرعرض کی : عَلٰی رَقَبَتِیْ(میری گردن پربھی آپ کاقدم ہے) حاضرین نے عرض کی : حضور!آپ یہ کیا فرما رہے ہیں ؟تو آپ نے ارشاد فرمایا :  اس وقت بغداد میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نےقَدَمِیۡ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَةِکُلِّ وَلِیِّ الله کا اعلان فرمایا ہے اور میں نے گردن جھکا کر تعمیل ارشاد کی ہے۔([4])

اعلیٰ حضرت ،امام اہلسُنَّت مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنفتاویٰ رضویہجلد۲۸، صفحہ  ۳۸۸ پرحضرت خضر مَوْصِلی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی    کا واقعہ  نقل کرتے ہیں : وہ فرماتے ہیں کہایک روز میں حضرت سرکارِ غوثیت رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے حُضور حاضر تھا میرے دل میں خطرہ آیا کہ شیخ احمد رفاعی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کی زیارت کروں ،حُضور نے فرمایا :  کیاشیخ احمدکودیکھناچاہتے ہو؟میں نے عرض کی :  ہاں،حُضور(غوثِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ  تَعَالٰی عَنْہ) نے تھوڑی دیر سر مبارک جھکایا پھر مجھ سے فرمایا :  اے خضر! لویہ ہیں شیخ احمد ۔ اب جو میں دیکھوں  تواپنے آپ   کو حضرت احمد رفاعی کے پہلو میں پایا اورمیں نے اُن کو دیکھا کہ رُعب دار شخص ہیں میں کھڑا ہوا اورانہیں سلام کیا۔ اس پرحضرت رفاعی نے مجھ سے فرمایا :  اے خضر! وہ جو شیخ عبدالقادرکو دیکھے جو تمام اولیا کے سردار ہیں وہ میرے دیکھنے کی تمنا(کیوں کرتا ہے؟)میں تو انہیں کی رَعِیَّت (یعنی ماتحتوں )میں سے ہوں،یہ فرماکر میری نظر سے غائب ہوگئے پھر حُضور سرکارِغوثیت رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے وصالِ اقدس کے بعد بغداد شریف سے حضرت سید ی احمد رفاعی کی زیارت کو اُمِّ عَبیدہ گیا انہیں دیکھا تو وہی شیخ تھے جن کو میں نے اس دن حضرت  شیخ عبدالقادررَضِیَ اللّٰہُ  تَعَالٰی  عَنْہ کے پہلو میں دیکھا تھا۔اس وقت کے دیکھنے نے کوئی اورزیادہ ان کی شناخت مجھے نہ دی۔حضرت رفاعی نے فرمایا :  اے خضر! کیا پہلی(زیارت)تمہیں کافی نہ تھی۔

امام رفاعی اور اولیائے اُمَّت

امام رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کی عَظمت و رِفعت اور قدر ومنزلت کے بیان میں بہت سے جلیلُ القدر اولیا اور بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کے ملفوظات ملتے ہیں آئیے ان میں سے تین ہَسْتیوں کے ملفوظات مُلاحَظہ کیجئے :

1.کسی نے حضور غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کی بارگاہ میں امام رفاعیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کے متعلق پوچھا تو ارشاد فرمایا : ان کا اَخلاق سرتاپا شریعت اورقرآن و سُنَّت کے عین مطابق ہےاور ان کا دلاللہ ربُّ العزت کے ساتھ مشغول ہے ۔انہوں نے سب کچھ چھوڑ کر  سب کچھ پالیا (یعنی   رضائے الٰہی کی خاطر کائنات کوچھوڑا تو رَبّ کو پالیا اورجب  رَبّ مل گیا تو سب کچھ  مل گیا)۔([5])

2.ولیٔ  کبیر حضرت سَیِّدُنا ابراہیم ہَوازِنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی فرماتے ہیں : میں سَیِّد احمد کبیر کی کیا تعریف کرسکتا ہوں۔ ان کے جسم کا ہر بال ایک آنکھ بن چکا ہے جس کے ذریعہ وہ دائیں بائیں، مشرق و



[1]     طبقاتِ کبریٰ للشعرانی  ، ص۲۰۱

[2]      امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِس پُرفتن دور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کے طریقہ کار پرمشتمل شریعت وطریقت کا جامِع مجموعہ بنام”مَدَنی انعامات“ بصورتِ سُوالات مُرتّب فرمایا ہے۔یہ دراصل خود احتسابی کا ایک جامع اور خود کار نظام ہے جس کو اپنا لینے کے بعد نیک بننے کی راہ میں حائل رکاوٹیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فضل وکرم سے بتدریج دور ہوجاتی ہیں اوراس کی برکت سے باجماعت نماز پڑھنے پراستقامت پانے، پابند ِ سنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کڑھنے کا ذہن بنتا ہے۔

[3]      جامع کرامات الاولیاء ، ۱/ ۴۹۴، ملخصاً

[4]      بہجةالاسرار، ذکرمن حناراسه من المشایخ ، ص۳۳  ، ملخصاًدارالکتب العلمیه بیروت

[5]      سیرت سلطان الاولیا، ص۲۰۰، ملخصاً



Total Pages: 9

Go To