Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

میں سید احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے صرف بیس سال کی عمر میں ہی تفسیر، حدیث، فقہ ، معانی،منطق وفلسفہ اورتمام مروجہ علومِ ظاہری کی  تکمیل کرلی اور ساتھ ہی اپنے ماموں جان شیخ منصور بَطائحیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  سے علومِ باطنی بھی حاصل کرنے لگے لُطفِ خداوندی اور مناسبتِ طبعی کی وجہ سے آپ نے باطنی عُلوم میں بھی بہت جلد کمال حاصل کرلیا۔([1])

اساتذہ کرام

حضرت سَیِّدُنااحمد کبیررفاعیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِینےاپنے وقت کے ناموراور جلیل ُالقدر اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا ۔آپ کے ماموں جان شیخ الاسلام حضرت سیدمنصور عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفُوراور قاضی ابُو الفضل علی واسِطی المعروف اِبنُ القاری تو آپ کے اساتذہ میں سرِ فہرست ہیں کیونکہ ماموں جان کی نگرانی ہی میں آپ کی تعلیم و تربیت پایۂ تکمیل کو پہنچی اور دیگر تمام اساتذہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ  عُلوم  وفُنون قاضی ابُو الفضل رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ہی سے حاصل کئے البتہ ان دونوں حضرات کے علاوہ شیخ ابُو الفتح محمد بن عبد الباقیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْکافی  ،شیخ محمد بن عبد السمیع عباسی ہاشمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی اورشیخ عارف باللہ سیدعبد الملک بن حسین حربونی واسِطیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی بھی آپ کے اساتذہ میں شامل ہیں۔ ([2])

 

 



[1]سیرت سلطان الاولیا، ص۴۵تا۴۶،ملخصاً ،وغیرہ

[2]سیرت سلطان الاولیا،ص۴۷،بتغیر



Total Pages: 34

Go To