Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

فرمائے۔ ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس واقعے سے معلوم ہواکہ ہمارے بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْن زبان کےمعاملے میں کس قدرحساس ہواکرتے تھے کہ اگرکوئی کم عمربھی اس بارے میں ان کی توجہ دلاتا تو اسے  ڈانٹنے دھمکانے کے بجائے  دعاؤں سے نوازتے ۔آئیے ہم بھی شیخِ طریقت ،امیرِاہلسُنَّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی مستقل قُفلِ مدینہ تحریک میں شامل ہوکر زبان کی حفاظت کی ترکیب بنائیں ۔

          مرے اخلاق اچھے ہوں مرے سب کام اچھے ہوں

بنادو مجھ کو تم پابند سنت یارسولاللہ!                           (وسائل بخشش، ص۱۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی  عَلٰی مُحَمَّد

بیمار وں کی عیادت

جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   گاؤ ں کے کسی شخص کی بیماری کا سنتے تو اس کے پاس جاکر اس کی عیادت کرتے اگرچہ راستہ کتنا ہی دور کیوں نہ ہوتااور (کبھی کبھار) جانے آنے میں ایک دو دن لگ جاتے،کبھی یوں بھی ہوتا کہ آپ راستوں پر کھڑے  ہوکر نابیناؤں کا انتظار کرتے اگر کوئی مل جاتا تو ہاتھ پکڑ کر انہیں  منزل تک پہنچا دیا کرتے۔ ([2])

عمر رسیدہ لوگوں پر شَفْقت

 آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ    جب کسى عُمر رسیدہ شخص کو دىکھتے تو اس کے محلے والوں کے پاس جاتے اور انہیں سمجھاتے ہوئےیہ حدیثِ پاک سناتے کہ حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرماىا :  ”جو بوڑھے مسلمان کی عزت کرتاہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس کے  بڑھاپے کے وقت کسی اور کو اس کى عزت کرنے پرمُقرر فرمادیتا ہے۔ ([3])([4])

مفسّرِشہیر،حکیم ُالامَّت حضرت مُفْتی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  اس حدیثِ پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : جو شخص بوڑھے مسلمان کاصرف اس لیے احترام کرے کہ اس کی عمر زیادہ ہے،اس کی عبادات مجھ سے زیادہ ہیں،یہ مجھ سے پرانے اسلام والا ہے تواِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّدنیا میں وہ دیکھ لے گا کہ اس کے بڑھاپے کے وقت لوگ اس کا احترام کریں گے۔اس وعدے میں فرمایا گیا کہ ایسا  آدمی درازعمر بھی پائے گا دنیا میں مال،عیش، عزت بھی اسے ملے گی آخرت کا اجر اس کے علاوہ ہے۔([5])

مسکینوں اور بیواؤں کی دادرسی

آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   سفر سے واپسی پر جب اپنی بستی کےقرىب پہنچتے تو سامان باندھنے والی رسی نکال لیتے اورلکڑیاں جمع کر کے اپنے سر پر رکھ لیتے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ    ِ تَعَالٰی  عَلَیْہ کی دیکھا دیکھی دیگر فُقرا بھی ایسا ہی کرتےاور شہر میں داخل ہوکر بىواؤں ،مسکینوں اَپاہجوں ، بىماروں ،نابیناؤں  اور بوڑھوں مىں وہ تمام لکڑیاں تقسىم کردىتے، آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   کبھى بھى برائى کا بدلہ برائى سے نہ  دىتے۔([6])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نےہمارے اَسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا طرزِزندگی کس قدر خوب تھا کہ کہیں جانوروں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آتے تو کہیں بیماروں کی تیمارداری کیا کرتے،کہیں محتاجوں اورپریشان حالوں کی دَسْت  گیری فرماتے تو کہیں نابیناؤں اور عمر رسیدہ لوگوں کی خَیر خواہی اور دِلجوئی فرمایاکرتے غرض یہ حضرات میٹھےآقا ،مدینے والے  مصطفےٰ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس  فرمانِ ذیشان خَیْرُ النَّاسِ اَنْفَعُہُمْ لِلنَّاسِ یعنی بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔([7]) کی عملی تصویر ہواکرتے تھے،لہٰذا ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خیرخواہی ودِلجوئی سے پیش آنا چاہئے ۔

شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنَّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  خیر خواہی اور دِلجَوئی کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں : مسلمانوں کی دِلجوئی کی اَہمِّیَّت بَہُت زیادہ ہے۔چُنانچِہ حدیثِ پا ک میں ہے :  فرائض کے بعد سب اعمال میں اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کو زِیادہ پیارا مسلمان کا دل خوش کرنا ہے۔([8])واقِعی اگرا س گئے گزرے دَور میں ہم سب ایک دوسرے کی غمخواری وغمگُساری میں لگ جائیں تو آناً فاناً دُنیا کا نقشہ ہی بدل کررَہ جائے۔لیکن آہ!اب تو بھائی بھائی کے ساتھ ٹکرا رہا ہے،آج مسلمان کی عزّت وآبرو اور اُس کے جان ومال مسلمان ہی کے ہاتھوں پامال ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  ہمیں نفرتیں مٹانے اور مَحَبَّتیں بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔([9])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی  عَلٰی مُحَمَّد

مجھے میرا عیب بتاؤ

اىک دن حضرت سیِّد احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  نے بطورِ عاجزی اپنے مرىدوں سے فرماىا :

 



[1]      طبقاتِ کبریٰ للشعرانی،  ص۲۰۰

[2]      طبقاتِ کبریٰ للشعرانی ، ص۲۰۰، بتغیر

[3]      ترمذی، کتاب البر والصله، باب ماجاء فی اجلال الکبیر، ۳ / ۴۱۱، حدیث:۲۰۲۹

[4]      طبقاتِ کبریٰ للشعرانی  ، ص۲۰۰

[5]       مرا ٰةالمناجیح، ۶/۵۶۰، ضیاء القرآن

[6]     طبقاتِ کبریٰ للشعرانی ، ص۲۰۰

[7]     جامع صغیر، ص۲۴۶، حدیث:۴۰۴۴

[8]     معجم کبیر، ۱۱/ ۵۹، حدیث :۱۱۰۷۹

[9]     فیضان سنت ، ۱/۱۲۴۴ ، مکتبۃالمدینہ



Total Pages: 9

Go To