Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

تھوڑی ہی دیر میں بستی  اُمِّ عَبیدہ کے گرد و نَواح میں آپ کے وصالِ پُر ملال کی خبر مشہور ہوگئی ،بس پھر کیا تھا! آپ کے آخری دیدار اور نمازِ جنازہ میں  شرکت کے لئے لوگ دور دور سے جمع ہونے لگے یہاں تک کہ نمازِ جنازہ کے وقت کئی لاکھ کا مَجمَع موجود تھا،بعدنمازِ جنازہ خانقاہ ِاُمِّ عَبیدہ ہی میںآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کیتدفین کی گئی۔ آج آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال مُبارک کو صدیاں ہوچکیں مگر اس کے باوجود جنوبی عراق میں آپ کا مزارمبارک بے شمار عقیدت مندوں کی اُمیدوں کا مرکز بنا ہواہے۔ ([1])

بعدِ وصال حاجت روائی

حضرت شیخ عمرفاروثی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :مجھے کئی مرتبہ امام رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے مزارِ اقدس پر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی،ایک مرتبہ تو ایسا بھی ہوا کہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےقبر مبارک سے بآوازبلند میری ایک حاجت کے بارے میں فرمایا:جا!تیری حاجت پوری کردی گئی۔([2])

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]طبقاتِ کبریٰ للشعرانی  ،ص۲۰۲ ،ملتقطاً،وغیرہ

[2]جامع کرامات الاولیاء،۱/۴۹۱



Total Pages: 34

Go To