Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

کا انتقال تو سترہ سال کی عمر میں ہی ہوگیا تھالہٰذا صاحبزادیوں سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا سلسلہ نسل چلا جن کی اولاد میں بڑے بڑے عالم ،فاضل اور باکمال بزرگ ہوئے۔([1])

زندگی کے آخری ایام

آپ کے خادمِ خاص حضرت ىعقوب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہىں: وصال سے پہلے سىدى احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی مرضِ اسہال (پىٹ کى بىمارى )میں مبتلا ہوئے،اىک ماہ تک اسی تکلىف میں مبتلا رہے اوربىس دن تک نہ کچھ کھاىانہ پىا ۔ نیز زندگی کے آخری لمحات میں آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ پر نہایت رقت طاری تھی اپنا چہرہ اور داڑھی مبارک مٹى پر رگڑتے اور رو تے رہتے ،لبوں پریہ دُعائیں جاری تھیں ”یااللہ عَفْوودرگزر فرما، یااللہ مجھے مُعاف فرمادے،ىا اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اس مخلوق پر آنے والى مصىبتوں کے لىے چھت بنادے۔“ ([2])

بالآخر۶۶ سال تک اس دارِ فانی میں رہ کر مخلوقِ خدا کی رُشد وہدایت کا کا م سرانجام دینے کے بعدبروزجمعرات ۲۲جمادی الاولی ۵۷۸ھ؁ بمطابق 13ستمبر 1182؁ ھ بوقتِ ظہر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس عالمِ فنا سے عالمِ بقا کا سفر اختیار کیا،آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والے آخریکلمات یہ تھے:

اَشۡھَدُ اَنۡ لَّا اِلٰهَ اِلَّااللهُ وَاَشۡھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوۡلُ اللهِ

 



[1]سیرت سلطان الاولیا،ص۸۲،ملخصاً

[2]طبقاتِ کبریٰ للشعرانی ، ص۲۰۲،بتغیر



Total Pages: 34

Go To