Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

1.   افسوس ہے ایسے شخص پر جو دنیا  مل جانے پر اس میں مشغول ہوجاتاہے  اور چھن جانے پرحسرت کرتاہے ۔

2.   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اولیاءُاللہکے علاوہ تمام مخلوق سے وحشت ہو کیونکہ اولیا سے محبت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے محبت ہے ۔

3.   ہمارا طریقہ تین چیزوں پر مشتمل ہے : نہ تو کسی سے مانگو ،نہ کسی سائل کو منع کرو اور نہ ہی کچھ جمع کرو ۔

4.   مرید کےلئے سب سےزیادہ  نقصان دہ بات یہ ہےکہ وہ اپنے نفس کےلئے رخصت اورتاویلات  قبول کرنےمیں چشم پوشی سے کام لے۔([1])

مشہور خُلفاءو تلامذہ

حضرت سَیِّدُنااحمد کبیررفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں اس قدر مقبول تھے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنی مخلوق کے دل ان کی طرف پھیر دئیے تھے جہاں جہاں مسلمان آبادتھے  وہاں آپ  کے متبعین  ومریدین پائے جاتے تھے عقیدت مندوں کی کثرت کا اندازہ بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کی حیات میں صرف آپ کے خلفاء اورخلفاء كےخلفاءکی تعداد ہی ایک لاکھ اسی ہزار تک پہنچ چکی تھی ۔([2]) ان  میں شیخ عمر فاروثی ،شیخ ابو شُجاع فقیہہ شافعی ،شیخ یوسف حسینی سمر قندی،عارف باللہ عبدالملک بن حماد مَوْصِلی،قطبِ کبیرابو عبد الرَّحیم بن محمد بن حسن براعی



[1]طبقات الصوفیة للمناوی ،۲/ ۲۲۱ تا ۲۲۷،ملتقطاً

[2] سیرت سلطان الاولیا ، ص۷۷، بتغیر قلیل



Total Pages: 34

Go To