Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

میں اڑتا ہوا واپس چلا گیا،اس کے جانے کے بعدآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مُرغابی کی تمام ہڈیوں کو بائیں ہاتھ میں لیا اوران پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا: اے بکھری ہوئی ہڈیو! اے ٹوٹے ہوئے جوڑو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے حکم سے بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الَّرحِیم کی برکت سے اُڑجاؤ، چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہڈیاں زِندہ مُرغابی میں تبدیل ہوگئیں اور وہ مرغابی فضا میں اُڑتی ہوئی  نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔ ([1])  

﴿۵ جہنّم سے آزادی کا پروانہ

ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُناامام رفاعیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے دو مرید عبادت و ریاضت  کے لئے صحرا میں موجود تھے۔ان میں سے ایک نے تمنا کی کہ کاش!ہم پر جہنم سے آزادی کا پروانہ نازل ہوجائے، اتنے میں آسمان سے ایک سفید کاغذگرا ، انہوں نے اسے اُٹھاکر دیکھا تو بظاہر کوئی عبارت تحریر نہ تھی،وہ دونوں اس کا غذ کو پیر و مرشد کے  پا س لے گئےمگر واقعہ کا پسِ منظر نہ بتایا، آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کاغذ  کو دیکھا تو سجدے میں گر گئے ،پھر سر اٹھاکر فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا شکر ہے کہ اس نے میرے مریدوں  کی جہنم سے  آزاد ی کا پروانہ دنیا ہی میں مجھے دکھادیا ،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےعرض کی گئی:حضور! یہ تو کورا کاغذ ہے، فرمایا: دست ِقدرت سیاہی وغیرہ کا مُحتاج نہیں یہ کاغذ نور سے لکھا ہوا ہے ۔([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]جامع کرامات الاولیاء، ۱/۴۹۴،ملخصاً

[2]جامع کرامات الاولیا ء،۱/۴۹۳



Total Pages: 34

Go To