Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

﴿۴﴾پتھر روٹی بن گئے!

حضرت سَیِّدُنا امام احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے بھانجے حضرت سیِّدنا ابو الفرج عبد الرحمن رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں  ایسی جگہ چھپ کر  بیٹھا  تھاکہ جہاں سے امام رفاعی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکودیکھ کر ان کی باتیں سن سکتاتھاکہ یکایک فضا سےایک  آدمی زمین پر اُترااورآپ کے سامنےآکر  بیٹھ گیا،آپ رَحْمَۃُ اللہ  ِ    تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:مشرق سے آنے والے کو خوش آمدید ،اس نے عرض کی: بیس دن سے میں نے نہ  کچھ کھایا ہے نہ پیا ہے میں چاہتاہوں آپ مجھے میری پسند کا کھانا کھلائیں،آپ نے فرمایا:تمہاری خواہش کیا ہے؟اس نے نظر اٹھائی تو پانچ مُرغابیاں فضا میں اڑ رہی تھیں  اس نے کہا:مجھے ان میں سے  ایک بھنی ہوئی مُرغابی، گندم کی دو روٹیاں اور ٹھنڈے پانی کا ایک جگ چاہیے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان مُرغابیوں کو دیکھا اورفرمایا:فوراًاس آدمی کی خواہش پوری کردو!ابھی بات  مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ ان میں سے ایک بھنی ہوئی مُرغابی آپ کی خدمت میں حاضر  ہوگئی ، پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے پہلو میں پڑے ہوئے دو پتھروں کو اُٹھاکر جونہی اس کے سامنےرکھا حیرت انگیز طور پر فوراً وہ پتھر چَھنے ہوئے آٹے کی دو عُمدہ روٹیاں بن گئے، پھر فضا میں ہاتھ بلند کیا تو سرخ رنگ کا پانی سے بھرا ہوا جگ  نمودار ہوگیا اس کے بعد اس درویش آدمی نے کھانا کھایا اور پھر جس طرح آیا تھا اسی طرح فضا

 

 

 



Total Pages: 34

Go To