Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

﴿۲﴾بہرے بھی کلام سن لیتے

حضر ت سیِّد احمد کبیر عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَدِیْر کی عادتِ مبارکہ تھی کہ  بىٹھ کربیان فرمایاکرتے،آپ کى آواز   دور والے بھى اسى طرح بآسانی سن لیتے تھے جس طرح قرىب والے سنتے،حتّٰى کہ آس پاس کی بستی  والے اپنى چھتوں پر بىٹھ کرآپ کابیان سنتے اور انہیں ایک ایک لفظ صاف سُنائی دیتا تھا،جب بہرےآپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں  حاضر ہوتے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کى گفتگوسننے کے لىے ان کے کان کھول دىتا اورمشائخِ طرىقت حاضر ہوتے تو دورانِ بیان اپنے دامن پھیلائے رکھتے جب امام رفاعیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی   بیان سے فارغ ہوتے تویہ حضرات اپنادامن سىنے سے لگالىتےاورواپس آکر اپنے مرىدوں  کے سامنے ہر بات بیان کردیتے ۔([1])

﴿۳﴾تعویذ پہلے ہی لکھا ہوا ہے

جب کوئی آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  سے  تعویذ لینے آتا اور آپ  کے پاس سیاہی نہ ہوتی تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ درخت کا پتَّا لیتے اور بغیر سیاہی(انگلی سے ) لکھ دیتے ۔ ایک مرتبہ  ایک شخص کو سیاہی کے بغیرتعویذ  لکھ کر دیا ،اس نے پتَّا لیا اور عرصۂ دراز کے بعد آپ کی خدمت میں وہی پتا لے کر حاضر ہوا اور بطورِ امتحان آپ کی خدمت میں تعویذ لکھنے کے لئے پیش کیا،  جب آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نےپتا دیکھا تو اسے جِھڑکنے کے بجائےنہایت نرمی کے ساتھ ارشاد فرمایا: بیٹا !یہ تو پہلے ہی لکھا ہوا

ہے اور پھروہ پتا اسے واپس کردیا۔([2])

 



[1]طبقاتِ کبریٰ للشعرانی  ،ص۱۹۹

[2]جامع کرامات الاولیاء ۱/ ۴۹۳



Total Pages: 34

Go To