Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

1.    چھوڑ کر  سب کچھ پالیا (یعنی   رضائے الٰہی کی خاطر کائنات کوچھوڑا تو رَبّ کو پالیا اورجب  رَبّ مل گیا تو سب کچھ  مل گیا)۔([1])

2.    ولیٔ  کبیر حضرت سَیِّدُنا ابراہیم ہَوازِنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی فرماتے ہیں :میں سَیِّد احمد کبیر کی کیا تعریف کرسکتا ہوں۔ ان کے جسم کا ہر بال ایک آنکھ بن چکا ہے جس کے ذریعہ وہ دائیں بائیں، مشرق و مغرب ہر سمت میں دیکھتے ہیں ۔([2])

3.    اعلیٰ حضرت ،امام اہلسُنَّت رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں :آپ کا شمار اَقطابِ اربعہ سے یعنی ان چہار میں جو تمام اَقْطاب میں اعلی وممتاز گنے جاتے ہیں۔ اَوّل حُضور پر نور سَیِّدُنا غوثُ الاعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ،دُوم سَیِّد احمد رفاعی،سِوم حضرت سَیِّد احمد کبیر بدوی، چَہارم حضرت سید ابراہیم دُسُوقی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ۔([3])

شاخِ تمنا ہری ہوگئی !

حضرت سیِّد احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  کورسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی بارگاہ میں بھی خاص مقام حاصل تھا۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی   عَلَیْہ حج سے فراغت کے بعد جب حضورنبیِّ پاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے روضۂ انور پر مُواجہہ شریف کے سامنے حاضرہوئے تو یہ دو شعر پڑھے:

 



[1]سیرت سلطان الاولیا،ص۲۰۰،ملخصاً

[2]سیرت سلطان الاولیا، ص۲۰۰،ملخصاً

[3]فتاویٰ رضویہ ،۲۱/ ۵۵۰ ،بتغیر



Total Pages: 34

Go To