Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

نے مُسکراتے ہوئے فرمایا:اگر میں اس کی بدزبانی  اور بدسُلوکی پر  صبر نہ کرتا تو کیا  تم مجھے جنّت میں دیکھ پاتے  ۔([1])

فرمانِ غوث ِاعظم پر  گردن جُھکا لی

بہجةُ الاسرار میں ہے کہ قطبِ ربانی ،شہبازِلامکانی،مُحْی الدین  حضرت سیّد عبدالقادرجیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نےجس  وقت قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَةِ کُلِّ وَلِیّ اللهِ (میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے )فرمایا تو حضرت سَیِّد احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  نے اپنی گردن جھکا کرعرض کی:عَلٰی رَقَبَتِیْ(میری گردن پربھی آپ کاقدم ہے) حاضرین نے عرض کی:حضور!آپ یہ کیا فرما رہے ہیں ؟تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس وقت بغداد میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نےقَدَمِیۡ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَةِکُلِّ وَلِیِّ الله کا اعلان فرمایا ہے اور میں نے گردن جھکا کر تعمیل ارشاد کی ہے۔([2])

اعلیٰ حضرت ،امام اہلسُنَّت مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنفتاویٰ رضویہجلد۲۸، صفحہ  ۳۸۸ پرحضرت خضر مَوْصِلی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی   کا واقعہ بیان فرماتے ہیں:ایک روز میں حضرت سرکارِ غوثیت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے حُضور حاضر تھا میرے دل میں خطرہ آیا کہ شیخ احمد رفاعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی زیارت کروں ،حُضور نے فرمایا: کیاشیخ احمدکودیکھناچاہتے ہو؟میں نے عرض کی: ہاں،حُضور(غوثِ اعظم

 



[1]جامع کرامات الاولیاء ،۱/۴۹۴،ملخصاً

[2]بہجةالاسرار،ذکرمن حناراسه من المشایخ ،ص۳۳  ،ملخصاًدارالکتب العلمیه بیروت



Total Pages: 34

Go To