Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

جانے آنے میں ایک دو دن لگ جاتے،کبھی یوں بھی ہوتا کہ آپ راستوں پر کھڑے  ہوکر نابیناؤں کا انتظار کرتے اگر کوئی مل جاتا تو ہاتھ پکڑ کر انہیں  منزل تک پہنچا دیا کرتے۔ ([1])

عمر رسیدہ لوگوں پر شَفْقت

 آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  جب کسى عُمر رسیدہ شخص کو دىکھتے تو اس کے محلے والوں کے پاس جاتے اور انہیں سمجھاتے ہوئےیہ حدیثِ پاک سناتے کہ حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرماىا: ”جو بوڑھے مسلمان کی عزت کرتاہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے  بڑھاپے کے وقت کسی اور کو اس کى عزت کرنے پرمُقرر فرمادیتا ہے۔ ([2])([3])

مفسّرِشہیر،حکیم ُالامَّت حضرت مُفْتی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰناس حدیثِ پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:جو شخص بوڑھے مسلمان کاصرف اس لیے احترام کرے کہ اس کی عمر زیادہ ہے،اس کی عبادات مجھ سے زیادہ ہیں،یہ مجھ سے پرانے اسلام والا ہے تواِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّدنیا میں وہ دیکھ لے گا کہ اس کے بڑھاپے کے وقت لوگ اس کا احترام کریں گے۔اس وعدے میں فرمایا گیا کہ ایسا

 



[1]طبقاتِ کبریٰ للشعرانی ، ص۲۰۰،بتغیر

[2]ترمذی،کتاب البر والصله،باب ماجاء فی اجلال الکبیر،۳ /۴۱۱،حدیث:۲۰۲۹

[3]طبقاتِ کبریٰ للشعرانی  ،ص۲۰۰



Total Pages: 34

Go To