Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

اس لئے مغفرت فرما دی گئی کہ اس کا گزر ایک  کتے کے پاس سے ہو ا جو کنویں کی مُنْڈیر کے پاس پیا س کے مارےہانپ رہا تھا ،قریب تھا کہ شدتِ پیا س سے مرجاتا ۔ اس عورت نے اپنا موزہ اتا ر کر دوپٹے سے باندھا اور پا نی نکال کر اسے پلایا تو یہی عمل اس کی بخشش کا سبب ہو گیا۔([1])

کوڑھیوں اور اَپاہجوں  کى خدمت

حضرت سَیِّدُنا امام احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  کا یہ بھی معمول تھا کہ مریضوں  اور اپاہجوں کے پاس جاتےاور ان سے ہمدردی بھراسلوک کرتے  ان کے کپڑے دھوتے، ان کے سر اور داڑھیوں سے میل  صاف کرتے، ان کے پاس کھانا لے جاتے اوران کے ساتھ مل کر کھاتےاوربطورِ عاجزی  ان سے دُعائیں کرواتے ، اىک دن آپ  کا گزر  چند بچوں کےپاس سے ہوا جو کھیل رہے تھے،آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کو دیکھا تو  ہیبت کی وجہ سے بھاگ گئے آپ ان کے پىچھے گئے اورفرمایا: مىرى وجہ سے تم ہیبت میں مبتلا ہوئے لہٰذا مجھے مُعاف کردو اوراپنا کھیل جاری رکھو ۔ ([2])

تم نے مجھے آداب سکھا ئے ہیں

اىک مرتبہ  آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کا گزر ایسی جگہ سے ہواکہ جہاں  بچے آپس میں جھگڑ رہے تھے ،آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہنے انہیں ایک دوسرے سے الگ کردیا

 



[1]بخاری،كتاب بدء الخلق ،باب اذا وقع الذباب في شراب…الخ ، ۲/۴۰۹، حدیث:۳۳۲۱

[2]طبقاتِ کبریٰ للشعرانی،  ص۲۰۰،مفہوماً



Total Pages: 34

Go To