Book Name:Faizan e Hafiz e Millat رحمۃ اللہ تعالی علیہ

ارشدالقادرى(3)بحرالعلوم حضرت مفتى عبدالمنان اعظمى (4)خطیبُ البراہینحضرت علامہ صوفی محمد نظام الدىن بَسْتَوى(5)مُصْلحِ اہلسُنَّت حضرت علامہ قارى مُصْلحُ الدّىن صدیقی قادری(6)بانیِ دارُالعلوم امجدیہ حضرت علامہ مُفْتى ظفر على نعمانی(7) فقیہِ اعظم ہندحضرت علامہ مُفْتى محمد شرىفُ الحق امجدى (8) بدراہلسنت حضرت علامہ مفتی بدرُالدین احمد گورکھپوری (9)شیخ القرآن حضرت علامہ عبدُاللہ خان عزیزی (10)اشرفُ العلماء سَیِّد حامد اشرف اشرفی مِصْباحی (11)ادیب اہلسُنَّت مُفْتی مجیبُ الاسلام نسیم اَعْظمی (12)شیخ اعظم  سَیِّد محمد اظہاراشرف اشرفی کچھوچھوی(13) نائبِ حافظِ ملّت علامہ عبدالرؤف بلياوی رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔ ([1])

حافظ ملت کےملفوظات

1- بلاشبہ اىسى تعلىم جس مىں تربىت نہ ہو آزادى و خُود سرى ہى کى فضا ہو ، بے سُود ہى نہىں بلکہ نتىجہ بھی  مُضر (نُقصان دہ )ہے۔

2- مىں نے کبھى مُخالف کو اس کى مُخالفت کا جواب نہىں دىا،  بلکہ اپنے کام کى ر فتار اور تىز کردى ،  جس کا نتىجہ ىہ ہوا کہ کام مکمل ہوا اور  مىرے مُخالفىن کام کى وجہ سے مىر ے مُوافق بن گئے۔

3- انسان کو مُصىبت سے گھبرانا نہىں چاہىے،  کامىاب وہ ہے جو مُصىبتىں جھىل کر کامىابى حاصل کرے مُصىبتوں سے گھبرا کر مَقْصد کو چھوڑ دىنا بُزدلى ہے۔

4- جب سے لوگوں نے خُدا سے ڈرناچھوڑ دىا ہے،  سارى دُنىا سے ڈرنے لگے ہىں۔

5- کامىاب انسان کى زندگى اپنانى چاہىے،  مىں نے حضرت صدرُ الشرىعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو ان کے تمام مُعاصرىن مىں کامىاب پاىا،  اس  لىے خود کو انہىں کے سانچے مىں ڈھالنے کى کوشش کى۔

6- بُزرگوں کى مجلس سے بلاوجہ اُٹھنا خلافِ ادب ہے۔

7- جس کى نظر مَقْصد پر ہوگى اس کے عمل مىں اِخلاص ہوگا اور کامىابى اس کے قدم چومے گى۔

8- جسم کى قُوّت کے لىے ورزش اور رُوح کى قُوّت کے لىے تَہجُّد ضرورى ہے۔

9- کام کے آدمى بنو،  کام ہى آدمى کو مُعزَّ ز بناتا ہے۔

10- ہر ذِمّہ دار کو اپنا کام  ٹھوس کرنا چاہىے،  ٹھوس کام ہى پائىدارى کى ضمانت ہوتے ہىں۔

11- انسان کو دوسروں کى ذِمّہ دارىوں کے بجائے اپنے کام کى فکر کرنى چاہىے۔

12- احساسِ ذِمّہ دارى سب سے قىمتى سرماىہ ہے۔

13- تَضْىىع ِاوقات(وقت ضائع کرنا) سب سے بڑى مَحرومى ہے۔ ([2])

اَزْواج و اَولاد

حضور حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے دو نکاح کئے پہلی زوجہ سےکوئی اولاد زندہ نہ رہی جبکہ دوسری زوجہ سے تین لڑکے اور تین لڑکیاں ہوئی جن میں سے ایک لڑکے اور لڑکی کا انتقال بچپن میں  ہوگیا تھا ۔([3])

بیعت و خلافت

حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شیخ ُالمشائخ حضرت مولانا شاہ سَیِّد علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کے مُرید اور خلیفہ تھے۔ استادِ محترم صدرُ الشریعہ حضرت علامہ مولانا اَمجد علی اَعْظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیسے بھی آپ کو خلافت و اجازت حاصل  ہوئی ۔ ([4])

جانشینِ حافظِ ملت

حافظِ ملت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے جلسۂ تعزىت کے اِخْتِتام پر مشائخِ کرام اور علمائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے حافظِ ملّت کے شہزادۂ اکبر عزیزِ ملت حضرت مولانا عبد الحفیظ  مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  کو حضرت صدرُ الشرىعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا خِرقہ اور حضور حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی   عَلَیْہ کا جُبہ ودَستار پہنایا اورحافظِ ملّت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى مَسند پر بٹھا کر ان کى جانشىنى کا اعلان کىا ۔([5])

حافظ ملت کامقام علمائے  کرام کی نظر میں

صدرُ الشریعہ بدرُ الطریقہ مُفْتی امجد علی اَعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: میری زندگی میں دوہی باذوق پڑھنے والے ملے ایک مولوی سرداراحمد (یعنی مُحدِّثِ اعظم پاکستانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)اور دوسرے حافظ عبد العزیز (یعنی حافظِ ملّت مولانا شاہ عبد العزیز  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)۔ ([6])

شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیٔ اعظم ہندعلامہ مولانا مصطفےٰ رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: اس دُنیاسے جولوگ چلےجاتے ہیں ان کی جگہ خالی رہتی ہے خصوصاً مولاناعبد العزیز جیسے جلیلُ القدر عالم ، مردِمومن ، مجاہد ، عظیمُ المرتبت  شخصیت اور ولی کی  جگہ پُر ہونا بہت مشکل ہے۔([7])

امینِ شریعت مفتی ٔاعظم کانپور حضرت علامہ مُفْتی رفاقت حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :حافظ ملت نے اپنی زندگی کو مُجاہد و مُتحرِّک اَسلاف ِکرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نقش قدم پر چلا کر اور



[1]    حیات حافظ ملت ،ص۱۲۸ تا۱۳۰ ،ملتقطاً

[2]     سوانح حافظ ملت ،ص۷۴ تا ۷۶ ملتقطاً

[3]     حیات حافظ ملت، ص۵۶ ملخصاً

[4]     سوانح حافظ ملت، ص۲۲ملخصاً

[5]     حیات حافظ ملت، ص ۵۷ملخصاً

[6]     حیات حافظ ملت، ص۸۲۵

[7]     حیات حافظ ملت، ص۸۲۴بتغیر



Total Pages: 9

Go To