Book Name:Faizan e Hafiz e Millat رحمۃ اللہ تعالی علیہ

دعوت صَفْحَہ ۲۱۳پرحافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی ایک کرامت بیان کرتے ہوئے  ارشاد فرماتے ہیں: الجامِعۃالاشرفیہ کے بانی مَبانی حافظِ ملّت حضرتِ علّامہ شاہ عبدُالعزیز محدِّث مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی بڑے پائے کے بُزُرگ تھے۔ سوانِح نگاروں نے آپ کی کئی کرامات بیان کی ہیں۔ان میں ایک یہ بھی ہے، جامِع مسجِد مبارَک شاہ بھی پہلے مختصر ہی تھی اور بَوسیدہ بھی ہوگئی تھی ،  آبادی کی وُسعَت کے لحاظ سے مسجِد کا وسیع ہونابھی ضَروری تھا،  بَہر حال پُرانی مسجِد شہید کر کے نئی بنیادیں بھری گئیں اور مسجِد کی توسیع کاکام شُروع ہو ا ۔ مبارَک پور کے مسلمانوں نے بڑی دلچسپی اور لگن کے ساتھ اس تعمیر میں بھی حصّہ لیا،  حضرتِ حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  اس کام کے بھی رہنما اور سربراہ تھے،  حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے جامِع مسجِد کے لیے پوری توجُّہ اور محنت سے چندے کی فَراہَمی کی ،  مبارَک پور میں کافی جوش و خَروش تھا،  غُربت کے باوُجُود مسلمان اپنی دینی حَمِیّت کاپورا پورا ثُبُوت دے رہے تھے ،  مَردوں نے اپنی کمائی اور عورَتوں نے اپنے زیورات وغیرہ سے امداد کی۔ چھت پڑنے کے بعد حاجی محمد عمر نہایت پریشانی کے عالم میں دوڑے ہوئے حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کے پاس آئے اورکہا : حافظ صاحِب! جامع مسجِد کی چھت  نیچے آ رہی ہے اب کیا ہو گا!حاجی صاحِب یہ کہتے کہتے رو پڑے ۔ حضرتِ حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فورا ًاُٹھے وضو کیا اور حاجی صاحِب کے ساتھ گھر سے باہَر نکلے  اور اپنے پڑوسی خان محمد صاحِب کو ہمراہ لیا،  جامِع مسجِد پہنچ کر  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم پڑھتے ہوئے لکڑی کی چند بَلّیاں لگا دیں(یعنی لمبے بانس یا لکڑی کے تھم لگا دیئے)۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کہ چھت نہ صر ف برابر اور دُرُست ہوگئی ،  بلکہ آج دیکھئے تو یہ پتا بھی نہ لگ سکے گا کہ کس حصّے کی چھت جُھک رہی تھی۔

حافظ ملت کی دینی خدمات

حضور حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک بہترین مدرس ،  مصنف،  مناظِر اور منتظمِ اعلیٰ تھے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کا سب سے عظیم کارنامہ الجامعۃُ الاشرفیہ مبارک پور (ضلع اعظم گڑھ یوپی ہند) کا قیام ہےجہاں سے فارغُ التحصیل عُلما  ہند کی سرزمین سے لے کر ایشیا،  یورپ و امریکہ اورافریقہ کے مختلف ممالک میں دینِ اسلام کی سربلندی اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج واشاعت میں مصروف ِ عمل ہیں ۔([1])

حافظِ ملت شخصیت ساز تھے

آپ ایک شفیق اور مہربان باپ کی طرح طلبہ کی ضروریات اورتعلیم و تربىت کے ساتھ ساتھ ان کی شخصىت کو بھی نکھارا کرتے تھے چنانچہ رئىسُ القلم حضرت علامہ ارشدُالقادرى  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشاد فرماتے ہیں :استاد شاگرد کا تعلُّق عام طور پر حلقۂ درس تک محدود ہوتا ہے لىکن اپنے تلامذہ کے ساتھ حافظِ ملّت کے تعلُّقات  کا دائرہ اتنا وسىع ہے کہ پورى درسگاہ اس کے اىک گوشے مىں سماجائے،  ىہ انہى کے قلب و نظر کى بے اِنْتہا وُسعت اور انہى کے جگر کابے پاىا حوصلہ تھا کہ اپنے حلقہ درس مىں داخل ہونے والے طالب علم کى بےشمار ذِمّہ دارىاں وہ اپنے سَر لىتے تھے،  طالبِ علم درس گاہ مىں بىٹھے تو کتاب پڑھائىں،  باہر رہے تو اخلاق و کردا رکى نگرانى کرىں،  مجلسِ خاص مىں شرىک ہو تو اىک عالمِ دىن کے محاسن و اوصاف سے روشناس فرمائىں، بىمار پڑے تو نقوش و تعوىذات سے اس کا علاج کرىں،  تنگدستى کا شکار ہوجائے تو مالى کفالت فرمائىں،  پڑھ کر فارغ ہو تو ملازمت دلوائىں اور ملازمت کے دوران کوئى مشکل پىش آئے تو اس کى بھى عُقدہ کشائى فرمائىں،  طالبِ علم کى نجى زندگى ،  شادى بىاہ،  دُکھ سُکھ سے لے کر خاندان تک کے مسائل حل کرنے میں توجہ فرمائیں،  طالب علم زىرِ درس رہے ىا فارغ ہو کر چلا جائے اىک باپ کى طرح ہر حال مىں سرپرست اور کفىل ،  ىہى ہے وہ جو ہرِمُنفردجس نے حافظِ ملّت کو اپنے اَقْران و مُعاصرىن کے درمىان اىک معمارِ زندگى کى حىثىت سے مُمتاز اورنُماىاں کردىا ہے۔([2])

آپ کی تصانیف

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  تحریر وتصنیف میں بھی کامل مَہارت رکھتے تھےآپ نے مختلف مَوضوعات پر کُتب تحریر فرمائیں جن میں سے چند کے نام یہ ہیں: (1)مَعارفِ حدىث  (احادىثِ کرىمہ کا ترجمہ اور اس کى عالمانہ تشرىحات کا مجموعہ )(2) اِرشادُ القرآن(3) الارشاد (ہند کی سیاست پر ایک مُسْتقل رسالہ )(4) المصبَاح ُالجدىد (بد مذہبوں کے عقائد سے مُتعلق30سوالوں کے جوابات بحوالہ کتب، یہ رسالہ  مکتبۃ المدینہ سے ”حق و باطل میں فرق “کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ )(5) العذابُ الشَّدىد (المصباحُ الجدىدکے جواب ’’مَقامعُ الحدىد‘‘کا جواب)(6)  اِنْباء ُالغىب (علمِ غىب کے عُنوان پر اىک اچھوتا رسالہ)(7)   فرقۂ ناجىہ(اىک اِسْتفتاکا جواب)(8)   فتاوىٰ عزىزىہ(ابتداءً دارُ العُلوم اشرفىہ کے دارُالافتاء سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات کا مجموعہ، غىرمطبوعہ)(9)حاشیہ شرح مرقات ۔([3])

آپ کے تلامذہ

ملک اور بىرون ملک حضور حافظِ ملت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے تلامذہ کى تعداد پانچ ہزار سے زائد ہى ہوگى اور ان مىں اىسے اىسے ذى علم قابلِ قدر و فخر اور قائدانہ صلاحىت کے حامل افراد ہىں جن پر مذہبى ،  سىاسى ،  سماجى،  علمى،  روحانى،  اصلاحى اور تبلىغى دنىا کو فخراور ناز ہے۔ آپ کے تراشے ہوئے چند انمول و نایاب ہیروں کے اسمائے گرامی یہ ہیں:(1)عزىز ملت حضرت علامہ شاہ  عبدالحفىظ مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  خلفِ اکبر حافظِ ملت و موجودہ سربراہ ِاعلىٰ الجامعۃ الاشرفىہ مبارک پور(2)قائدِ اہلسُنَّت رئىسُ القلم حضرت علامہ



[1]     حیات حافظ ملت، ص۵۳۳،ملخصاً

[2]     حیات حافظ ملت، ص۳۰۷،بتغیر

[3]     سوانح حافظ ملت، ص۷۳ملخصاً



Total Pages: 9

Go To