Book Name:Faizan e Hafiz e Millat رحمۃ اللہ تعالی علیہ

محبوب ترین عمل وہ ہے جو پابندی سے ہو اگرچہ کم ہو۔ ([1])

حضورحافظِ ملت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیث مبارکہ کی عملی تصویر تھے ۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بچپن ہی سے  فَرائض و سُنَن کے پابند تھے اور جب سے بالغ  ہوئے نمازِ تَہجُّد شروع فرمادى جس پرتاحیات عمل رہا،  صلوٰةُ الاوَّابىن ودلائلُ الخىرات شرىف وغىرہ  بلاناغہ  پڑھتےیہاں تک کہ  آخرى اىام مىں دوسروں سے پڑھوا کر سنتے رہے،  روزانہ صبح  سورۂ ىٰسىن و سورۂ ىوسف کى تلاوت کا التزام فرماتے جبکہ جمعہ کے دن سورہ ٔکہف کى تلاوت معمول میں شامل تھی۔آپ  فرمایاکرتے کہ عمل اتنا ہى کر و جتنا بلا ناغہ کرسکو۔ ([2])

کفایت شعارى اور سخاوت

حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنى ذات پر خرچ کرنے کے بجائے دوسروں پر خرچ کرکے خوشى محسوس کرتے تھےآپ کی سیرت ِمبارکہ  کا مُطالعہ کرنے سے  یہ حدیثِ پاک  بے اختیار زبان پر آجاتی ہے :لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ  یعنی تم میں  کامل ایمان والا وہ ہے جو اپنے بھائی کےلئے بھی وہی چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔([3]) جن پر حافظِ ملّت کا ابرِ کرم برسا ان کا دائرہ بہت وسىع تھا،  بعدِوصال آپ  کى ڈاک والی ایک پرانى  گٹھڑى ملى  جس مىں ملک بھر سے آئے ہوئے  خُطوط تھے۔ ان مىں مُتعدَّدسفىد پوش عُلما اور خُدّامِ دىن کى اىسى تحرىرىں اور تشکُّر نامے تھے جن کی حافظِ ملّت  مدد فرماىا کرتے تھے۔([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضور حافظ ملت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یقیناًایک باعمل  عالمِ دین تھےمگر یہاں یہ بات یاد رکھئے کہ اگر کسی عالم کے مستحبات و نوافل وغیرہ میں بظاہرکمی نظر آئے تو اس کا یہ مطلب  نہیں ہے  کہ وہ قابلِ تعظیم اور لائقِ خدمت نہیں۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت، امام ِاہلسُنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  عُلما ئے کرام  کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : قرآنِ عظیم نے ان  سب کو انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کا وارث قرار دیا حتی کہ بے عمل یعنی فرائض و واجبات کی پابندی کریں مگر دیگر نیک کاموں ،  مُسْتحبَّات و نَوافل میں سُستی کریں ایسے عُلماء کو بھی  وارث قرار دیا جبکہ وہ صحیح عقائد رکھتے ہوں اور سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہوں یہ قیداس لئے ہے کہ جوعقائدمیں صحیح نہیں اور دوسروں کو غلط عقائد کی طرف بلانے والا ہے۔ وہ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے ایسا آدمی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا وارث نہیں شیطان کا نائب ہوتا ہے لہٰذا صرف صحیح عقائد والا اور اس کی طرف دوسروں کو بلانے والا انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کا وارث ہے اگرچہ بے عمل ہو۔([5]) 

سارے سنی عالموں سے تو بناکر رکھ سدا  کر ادب ہر ایک کا ، ہونا نہ تو ان سے جدا

مجھ کو اے عطار سنی عالموں سے پیار ہے                            اِنْ شَآءَ اللہ دو جہاں میں میرا بیڑا پار ہے

                                                                         (وسائل بخشش ص: ۶۴۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                            صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حافظِ ملّت  کى خصوصى ادائے مَحَبَّت

جب بھی حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اعلىٰ حضرت امام احمد رضااور صدرُ الشرىعہ حضرت مولانا مُفْتی امجد علی اَعظمی رَحِمَہُمَااللہُ تَعَالٰی کا نام سنتے تو اپنى گردن جھکالیتے ،  حُضور مُفتى اعظم ہند و دىگر اکابرِ اہلسُنَّت کے تذکرہ پراپنى والہانہ مسرت کا اظہار کرتے۔([6])

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  اللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے مُقرب بندوں میں سے ہیں اور یقیناً اولیاءُاللہ سے وقتا ً فوقتاً  کرامات کا صُدور ہوتا رہتا ہے آئیے! حصول برکت کے لئے حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی کرامات سنئے۔

بغیر پیٹرول کے گاڑی چل پڑی

   ایک مرتبہ سفر سے واپسی پر گاڑی کا  پیٹرول ختم ہوگیا ڈرائیور نے عرض کی: اب گاڑی آگے نہیں جاسکتی ، یہ سن کر دیگر رُفقاء پریشان ہوگئے مگر اس وقت بھی حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پُر اعتماد انداز میں فرمایا:لے چلو! گاڑی چلے گی اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ،  یہ فرمان سنتے ہی  ڈرائیور نےچابی گُھمائی تو گاڑی چل پڑی اور ایسی چلی کہ راستے بھر کہیں نہ رکی ۔([7])

گرتی ہوئی چھت کو روک دیا

شیخِ طریقت،  امیرِ اہلسُنَّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابُو بلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  616 صَفحات پر مشتمل کتاب نیکی کی



[1]    بخاری،کتاب الرقاق،باب القصد والمداومة علی العمل، ۴ / ۲۳۷،حدیث :۶۴۶۴

[2]     حیات حافظ ملت، ص۷۹ملخصاً

[3]     بخاری ،کتاب الایمان ،باب من الایمان ان  یحب    الخ، ۱/۱۶، حدیث :۱۳

[4]     حیات حافظ ملت ص:۱۸۹ ملخصاً

[5]    شریعت وطریقت ، ص ۱۴

[6]     حیات حافظ ملت، ص۱۷۱ملخصاً

[7]     حیات حافظ ملت، ص۲۱۲ملخصاً



Total Pages: 9

Go To