Book Name:Faizan e Hafiz e Millat رحمۃ اللہ تعالی علیہ

اگر یہ مُیَسَّر نہ ہو توتنہائی بدر جہابہتر ہے ) ،  اسلامی بھائیوں سے دینی ضروریات کے تحت ملاقات وغیرہ کے اَوقات مُتعیَّن کر لئے جائیں جو اس کے عادی نہیں ہیں ان کے لئے ہو سکتا ہے شروع میں کچھ دُشواری پیش آئے ۔  پھر جب عادت بن جائے  گی تو اس کی برکتیں خود ہی ظاہر ہوجائیں گی۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سُنَّت سے مَحَبَّت  

حضور حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی پوری زندگی معلمِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکى سىرتِ پاک کا نمونہ تھى چنانچہ شیخِ طریقت،  امیرِ اہلسُنَّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابُو بلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 616 صَفحات پرمشتمل کتاب نیکی کی دعوت صَفْحَہ 213پرارشادفرماتے ہیں: حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے ہر عمل میں سُنَّت کابَہُت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ایک بار حضرت کے دائیں پاؤں میں زَخم ہوگیا ،  ایک صاحِب دوا لے کر پہنچے اور کہا: حضرت !دوا حاضِر ہے۔ جاڑے(یعنی سردیوں) کا زمانہ تھا حضرت مَوزہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے پہلے بائیں (یعنی اُلٹے )پاؤں کا مَوزہ اُتارا،  وہ صاحِب بول پڑے: حضرت! زَخم تو داہنے (یعنی سیدھے) پاؤں میں ہے! آپ نے فرمایا : بائیں (یعنی اُلٹے)پاؤں کا پہلے اُتارنا سُنّت ہے۔

سُنَّت پر عمل کی برکتیں

نیکی کی دعوت کے صفحہ 214پر ایک اور واقعہ نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :حُضُورحافظِ ملّت کی عمر شریف ستَّر سال سے مُتجاوِز(زیادہ ) ہو چکی تھی ،  ٹرین سے سفر کر رہے تھے جس بَرتھ پرتشریف فرما تھے ، ا تِّفاق سے اُس پر ایک ڈاکٹر صاحِب بھی بیٹھے تھے،  ڈاکٹر صاحِب نے سِلسلۂ  کلام شُروع کیا تو آپ کی جلالتِ علمی سے بہت متاثر ہوئے اور بار بار آپ کی طرف حیرت سے دیکھتے رہے ،  دورانِ گفتگو ڈاکٹر صاحِب نے تَعَجُّب کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مولانا صاحِب! میں آنکھوں کا ڈاکٹر ہوں،  میں دیکھ رہا ہوں کہ اِس عمر میں بھی آپ کی بِینائی میں کوئی فَرق نہیں، بلکہ آپ کی آنکھوں میں بچّوں کی آنکھوں جیسی چمک ہے،  مجھے بتایئے کہ اس کے لئے آخر کیاچیز استِعمال کرتے ہیں؟ فرمایا:ڈاکٹر صاحِب! میں کوئی خاص دوا وغیرہ تو استِعمال نہیں کرتا،  ہاں ایک عمل ہے جسے میں بِلا ناغہ کرتا ہوں،  رات کو سونے کے وَقت سُنّت کے مطابِق سُرمہ استِعمال کرتا ہوں اورمیر ا یقین ہے کہ اِس عمل

سے بہتر آنکھوں کے لیے دُنیا کی کوئی دَوا نہیں ہو سکتی۔

 حافظِ ملّت کی سادگی اور حَیا

آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی زندگی نہایت سادہ اور پُرسُکون تھی کہ جو لباس  زىبِ تن فرماتے وہ موٹا سوتى کپڑے کا ہوتا،  کُر تاکلی دار  لمبا ہوتا،  پاجامہ ٹخنوں سے اوپر ہوتا ،  سر مبارک پر ٹوپی ہوتی  جس پر عمامہ ہر موسم میں سجا ہوتا ،  شىروانى بھى زىبِ تن فرمایا  کرتے،  چلتے وقت ہاتھ میں عصا ہوتا ۔راستہ چلتے تو نگاہىں جُھکاکر چلتے اور فرماتے: مىں لوگوں کے عُىوب نہىں دىکھنا چاہتا۔  گھرمىں ہوتے تو بھی حَیا کو ملحوظِ خاطررکھتے،  صاحبزادیاں بڑی ہوئیں توگھرکےمخصوص کمرے میں ہی آرام فرماتے،  گھر مىں داخل  ہوتے وقت  چَھڑى زمىن پر زور سے مارتے تاکہ آواز پىدا ہو اورگھرکےلوگ خبردار  ہوجائىں، غىرمَحْرَم عورتوں کوکبھى سامنے نہ آنے دىتے۔([1])

صرف سوکھى روٹى کھا کر پانى پى لىا

اندرونِ خانہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکى سادگى اور قناعت  کا ىہ حال تھا کہ ایک  بار آپ کى بڑ ى صاحبزادى نے رات کے کھانے مىں آپ کے سامنے ڈَلىا مىں روٹى رکھى اوربعد میں دال کا پىالہ لا کر قریب ہی رکھ دىا،  روشنى دور اورکم تھی لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دال کو نہ دىکھ سکے صرف سوکھى روٹى کھا کر پانى پى لىااور پھر  کھانے کے بعد کی دُعا پڑھنے لگے ، صاحبزادی نے عرض کی: ابّا جان! آپ نے دال نہىں کھائى؟  آپ  نے تعجُّب سے پوچھا: اچھا! دال بھى ہے ، مىں نے سمجھا آج صرف روٹى ہى ہے۔([2])

سُبْحٰنَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ  !صد ہزار آفریں حافظِ ملّت جیسی مُبارک ہستیوں پر جنہوں نے رِضائے الٰہیعَزَّ  وَجَلَّکی  خاطر دُنیاوی عارضی لذّتوں ٹھکرایا اورآرائش و آسائش کو چھوڑ کر سادگی وعاجزی اختیار کی۔اللہعَزَّ وَجَلَّ ان پاکیزہ ہستیوں کے صَدْقے ہمیں بھی ا عمالِ صالحہ  پر استقامت اور ہر حال میں اپنی رضا پر راضی رہنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔

ہمیشہ نگاہوں کو اپنی  جھکا کر              کروں خاشعانہ دعا یا الٰہی

میں مٹی کے سادہ سے برتن میں کھاؤں   چٹائی کا ہو بسترا یا الٰہی

                                                                                      (وسائل بخشش،  ص ۸۵)

حدیث مبارکہ کی عملی تصویر

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے محبوب،  دانائے غُیُوب،  مُنزہٌ عن العُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے: وَاِنَّ اَحَبَّ الْاَعْمَالِ اِلَى اللهِ اَدْوَمُهَا وَاِنْ قَلَّ یعنی اللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے نزدیک



[1]     حیات حافظ ملت ص۱۷۵،۷۹ا ،وغیرہ

[2]     حیات حافظ ملت ص۷۹ملخصاً 



Total Pages: 9

Go To