Book Name:Faizan e Hafiz e Millat رحمۃ اللہ تعالی علیہ

مدرسہ حفظُ القرآن میں مُدرِّس اوربڑی مسجد میں اِمامت  کے فرائض سر انجام دئیے ۔  ([1])

سلسلہ ٔتعلیم رُک جانے پر اظہارجذبات

جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا سلسلہ ٔ تعلیم رُک گیاتوکبھی کبھار غمگین ہوکر والدۂ ماجدہ سے عرض کرتے :آپ  تودادا حُضُورکا یہ فرمان کہ ’’تم عالم بنوگے‘‘سنایا کرتی تھیں لیکن میں عالم نہ بن سکا۔یہ سن کر والدہ ماجدہ کی آنکھیں پُر نَم ہوجاتیں اوردُعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دیتیں ۔ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سلسلۂ تعلیم کا دوبارہ آغاز

کچھ عرصے بعد حالات بدلے اوروالدِ ماجد حافظ غلام نور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْغَفُور   کی خواہش اور دادا حضور مولانا عبد الرحیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی پیشن گوئی پوری ہونے کا سامان یوں ہوا کہ حضرت علامہ عبد ُالحق خیر آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کے شاگردِ رشید،   طبیبِ حاذِق مولانا حکیم محمد شریف حیدر آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی علاج مُعالَجہ کے سلسلے میں بھوجپورتشریف لانے لگے اور جب  بھی آتے تو حضور حافظ ملت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ۔ایک دن کہنے لگے :آپ قرآنِ  مجید تو بہت عُمدہ پڑھتے ہیں اگرعلمِ طِب پڑھنا چاہتے ہیں تو میں پڑھادوں گا، آپ نے جواب دیا : میرا ذریعۂ معاش اِمامت اور تدریس ہی ہےاور روزانہ مُرادآبادآنا جانا میری اِستطاعت سے باہر ہے، حکیم صاحب نے کہا:آپ ٹرین سے مُراد آباد چلے جایا کریں اورسبق پڑھ کربھوجپور سے واپس آجایا کریں، اَخراجات کی ذِمّہ داری  میں اُٹھاتا ہوں۔  والد صاحب نے اس کی اجازت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: روز کا آنا جانا مُناسب نہیں لہٰذامُراد آباد  میں  رہ کر ہی تعلیم مکمل کرو۔یوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاِمامت و تدریس چھوڑ کر مرادآباد تشریف لے گئے اورکچھ عرصہ حکیم صاحب سے  علم ِ طب پڑھا۔ ([3])

جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ

حکیم صاحب نے آپ کی ذہانت اورقابلیت کو دیکھتے ہوئے کہا:میری مصروفیات زیادہ ہیں اورآپ کو پڑھانے کے لیے مجھےمزید مطالعہ کرنے کا وقت نہیں ملتا لہٰذا اب آپ تعلیم جاری رکھنے کے لئے جامعہ میں داخلہ لے لیجئے ۔ چنانچہ حافظ ملت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ۱۳۳۹ ھ کوتقریباً ۲۷ سال کی عمر میں جامعہ نعیمیہ مُراد آباد میں داخلہ لے  لیااور تین سال تک تعلیم حاصل کی ۔مگر اب علم کی پیاس شدت اختیار کرچکی  تھی جسے بجھانے کے لیے کسی علمی سمندر کی تلاش تھی۔ ([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!تحصیلِ علم کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں،  یقیناً علمِ دین حاصل کرنا خوش نصیبوں حصہ ہے  اگر ممکن ہو تو درسِ نظامی (عالم کورس)میں داخلہ لے کرخلوصِ نیت  کے ساتھ علمِ دین حاصل کیجئے  اور اس کی  خوب خوب برکتیں لوٹئے۔اگریہ نہ ہوسکے تو تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے  مَدَنی قافِلوں میں سفر کیجئے کہ یہ بھی عِلم دین حاصل کرنےاور بے شمار بَرَکتیں پانے کا ذریعہ ہے۔آئیے ! علم ِدین کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے ایک حدیث پاک سنئے اورحصولِ علم ِ دین میں مشغول ہوجائیے ۔

 تاجدارِ رِسالت،  شہنشاہِ نَبوّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان  ہے:  جو علم حاصل کرے اور اسے پَابھی لے تو اس کے لئے دوہرا ثواب ہے اور جو نہ پَا سکے اس کے لئے ایک ثواب ہے ۔ ([5])

مفسرِشہیرحکیمُ الامُّت حضرت مُفْتی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  دوہرے ثواب کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک علم طلب کرنے کا،  دوسرا پَالینے کا کیونکہ یہ دونوں عبادتیں ہیں۔اور ایک ثواب کی وضاحت میں ارشاد فرماتے ہیں :یا تو زمانۂ طالبِ علمی میں مرجائے (کہ )تکمیل کا موقعہ نہ ملے یا اس کا ذہن کام نہ کرے مگر وہ لگا رہے تب بھی ثواب پائے گا۔([6])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                            صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

صدرُ الشریعہ کی صحبت کیسے ملی ؟

۱۳۴۲ھ میں آل انڈیا سنی کانفرنس مُراد آبادمیں منعقد ہوئی جس میں مشہور ومعروف اورنامورعلمائے اہلسُنَّت تشریف لائے جن میں صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ مُفْتی  اَمجد علی اَعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بھی شامل تھے۔حضور حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے موقع دیکھ کرصدرُ الشریعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بارگاہ میں درخواست کی توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ



[1]     مختصر سوانح حافظ ملت، ص۲۲ملخصاً

[2]     حافظ ملت نمبر ،ص ۲۳۸ملخصاً

[3]     مختصر سوانح حافظ ملت، ص۲۳،۲۴ملخصاً

[4]     مختصر سوانح حافظ ملت ص: ۲۴ملخصاًوغیرہ

[5]     مشکاۃالمصابیح،کتاب العلم، الفصل الثالث ۱/۶۸،حدیث: ۲۵۳

[6]     مراٰۃ المناجیح ۱/۲۱۸



Total Pages: 9

Go To