Book Name:Faizan e Hafiz e Millat رحمۃ اللہ تعالی علیہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنط

اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم طبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط

فیضانِ حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  

دُرُودشریف کی فضیلت    

سرکارِ مدینہ ، سلطانِ باقرینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ برکت نشان ہے:مجھ پردُرود شریف پڑھ کر اپنی مجالس کو آراستہ کرو کہ تمہارا دُرُودِپاک پڑھنا بروزِ قیامت تمہارے لیے نور ہو گا۔ ([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 پىرِ طرىقت ، رہبر ِشریعت ، قائدِ قوم وملت، مُقتدائے اہلسُنَّت ، استاذُ العلماء جلالۃُ العلم، حضور  حافظِ ملَّت حضرت علامہ مولاناشاہ عبد العزیز مُحدِّث مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کا نام عبد العزیزاورلقب حافظِ ملت ہےجبکہ سلسلۂ نسب عبدالعزیز بن حافظ غلام نور بن مولانا عبدالرحیم رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیہے۔

ولادتِ باسعادت

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ۱۳۱۲ھ بمطابق1894ء قَصْبہ بھوج پور (ضلع مراد آباد،  یوپی ہند ) بروز پیر صبح کے وقت  اس عالَم رنگ وبومیں جلوہ فرما یا۔

دا دا حضور کی پیشن گوئی

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے دادا مولانا عبد الرحیمرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے دہلی کے مشہورمحدث شاہ عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْحَفِیظکی نسبت سے آپ کا نام  عبد العزیز رکھاتاکہ   میرایہ  بچہ بھی  عالم دین  بنے۔([2])

والد ماجدکی خواہش

والدماجد حضرت حافظ غلام نور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْغَفُور  کی شروع سے یہی تمنا تھی کہ آپ ایک عالمِ دین کی حیثیت سے دینِ متین کی خدمت سر انجام دیں  لہٰذا بھوجپور مىں جب بھی کوئى بڑے عالم ىا شىخ تشرىف لاتے توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے صاحبزادے حضور حافظ ملت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو ان کے پاس لے جاتے اور عرض کرتےحضور! مىرے اس بچے کے لىے دعا فرمادىں ۔ ([3])

حافظِ ملّت کے والدین

 آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے والد ماجد احکامِ شرع کے پابند ، متَّبعِ سنت ، با عمل حافظ اور عاشقِ قرآن تھے۔  اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے  قرآنِ مجید کی تلاوت زبان پر جاری رہتی حِفْظ ِ قرآن اس قدر مضبوط تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  ”بڑے حافظ جى“کے لقب سے مشہورتھے ،  بچوں کی عمر سات سال ہوتے ہی انہیں نماز کى تاکىد کرتے اور ان کامدنی ذہن بناتے۔کوئی ملنے آتا تو خُوب مہمان نوازی کیا کرتے اگرمہمان نماز کا پابندہوتا تورات ٹھہرالیتے ورنہ صرف کھانا کھلاکررخصت کردیتے،  جب حج و زیارت  سے مُشرف ہوئےاور واپسی پر اَخراجات ختم ہوگئے تو کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا  بلکہ محنت مزدوری کرکے اخراجات جمع کئےاور۹ ماہ بعد تشریف لائے۔ تقریباً سو سال  عمر پاکر اس دارِفانی سے عالمِ جاودانی کی طرف کوچ کرگئے۔([4])

آپ کى والدۂ محترمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نماز روزے کی بڑى پابندی فرماتیں ۔ مسلمانوں کی خَیْرخواہی اورایثار کا ایسا جذبہ عطا ہواتھا کہ  گھر میں غُربت ہونے کے باوجود  پڑوسىوں کا بہت خیال رکھا کرتیں، اکثر اپنا کھانا اىک بىوہ پڑوسن کو کھلادىتىں اور خود بھوکی رہ جاتیں ۔ ([5])

اِبتدائی تعلیم اورحفظ ِقرآن

حُضُور حافظِ ملت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےابتدائی تعلیم ناظرہ اور  حفظِ قرآن کی تکمیل والد ِماجد حافظ غلام نور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْغَفُور  سے کی۔اس کے علاوہ اُردو کی چار جماعتیں وطنِ عزیز بھوجپور میں پڑھیں، جبکہ فارسی کی اِبتدائی کتب بھوجپوراور پیپل سانہ (ضلع مُرادآباد)سے پڑھ کر گھریلو مسائل کی وجہ سے سلسلۂ  تعلیم موقوف کیا اور پھر قَصْبہ بھوجپور میں ہی



[1]     فردوسُ الاخبار۱/۴۲۲،حدیث:۳۱۴۹

[2]    مختصر سوانح حافظ ملت ص:۱۸بتغیر ،وغیرہ

[3]     حیات حافظ ملت ص:۵۳ملخصاً

[4]     حیات حافظ ملت ص۵۴ملخصاً

[5]     حیات حافظ ملت ص۵۵ملخصاً



Total Pages: 9

Go To