Book Name:Zakhmi Sanp

مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-  (تَرجَمۂ کنزالایمان:زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار )   (پ۱۸، النور :۳۱ ) فائدہ: یہ آیتِ کریمہ جس طرح نامَحرم کو گہنے  (یعنی زیور) کی آواز پہنچنا مَنْع فرماتی ہے یونہی جب آواز نہ پہنچے  (تو)  اس کا پہننا عورَتوں کے لئے جائز بتاتی ہے کہ دھمک کر پاؤں رکھنے کو منع فرمایا نہ کہ پہننے کو۔       (فتاوٰی رضویہ  ج ۲۲ ص۱۲۸ مُلَخَّصاً )

اس سے وہ اسلامی بہنیں در سِ عبرت حاصل کریں جو خریداری ،محلّہ داری وغیرہ میں غیر مردوں سے بے تکلُّفی کے ساتھ گُفْتْگُو  (گُفْت ۔   گُو) کرتی ہیں۔   انہیں تو گھر کی چار دیواری میں بھی آہستہ آواز نکالنی چاہیے تاکہ دروازے کے باہَر والے لوگ یا پڑوسی و غیرہ آواز نہ سننے پائیں ۔   بچّوں پر بھی گرجتے برستے وقت یہی احتیاط رکھیں ۔    

عورت پوری آستین کا کُرتا پہنے

{24}          عورت پردے سے ہاتھ بڑھا کر غیر مرد کو اس طرح کوئی چیز نہ دے کہ اس کی کلائی   (ہتھیلی اورکہنی کے درمیان کا حصہ کلائی کہلاتا ہے )  ننگی ہو۔    (آج کل عموماً ایسا ہی ہوتاہے ۔   اگر مرد نے قصداً کلائی کی طرف نظر کی تو وہ بھی گنہگار ہے ۔   لہٰذا ایسے موقع پر کلائی کسی موٹے کپڑے سے چھپاناضروری ہے) اسلامی بہنیں پوری آستین کا کرتا پہنیں نیزدستانے اورجرابیں بھی استعمال فرمائیں ۔   

شَرعی پردہ والی کو دیکھنا کیسا؟

{25}          بیان کردہ شَرعی پردے میں ملبوس خاتون کو اگر مردبِلا شَہوَت دیکھے تو مُضایَقہ نہیں کہ یہاں عورت کو دیکھنا نہیں ہو ابلکہ یہ ان کپڑوںکو دیکھنا ہوا۔   ہاں اگر چُست کپڑے پہنے ہوں کہ بدن کا نقشہ کھنچ جاتاہو مَثَلاً چُست پاجامے میں پِنڈلی اورران وغیرہ کی ہَیئت نظر آتی ہو تو اس صور ت میں نظر کرنا جائز نہیں ۔    (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۳ص۴۴۸)

عورت کے بالوں کو دیکھنا حرام ہے

{26}          اگر عورت نے کسی باریک کپڑے کا دوپٹّا پہنا ہے جس سے بال یا بالوں کی سیاہی کان یا گردن نظر آتی ہو تو اس کی طرف نظر کرنا حرام ہے ۔    (ایضاً)  اس طرح کے باریک دوپٹّے میں عورت کی نَماز بھی نہیں ہوتی۔     

{27}آج کل مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ عورَتیں کھلے بالوں کے ساتھ باہَر نکلتیں کلائیاں اوربال کھولے گاڑیاں چلاتیں اوراسکوٹر کے پیچھے اپنی چُٹیا لہراتی ہوئی بیٹھتی ہیں ۔   ان کے بالوں یا کلائیوں پراچانک پہلی نظر مُعاف ہے ۔   جب کہ فوراًپھیرلی اورقَصْداً  اس طرف دیکھنا یا نظر نہ ہٹانا حرام ہے۔    

حکایت

            مفتی دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مفتی محمد فاروق عطّاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِینے اِس خوف سے اپنی اسکوٹر بیچ ڈالی کہ راستے میں بے پردہ عورَتیں بکثرت ہوتی ہیں ،ڈرائیونگ میں نگاہوں کی حِفاظت ممکن نہیں کیوں کہ نہ دیکھے تو حادِثے کا خطرہ اور دیکھنا تو گوارا نہیں ۔           

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حِساب مغفِرت ہو۔   

{28}مرد اَجنَبِیَّہ عورت کے کسی بھی حصّے کو بِلا اجازتِ شَرعی نہ دیکھے ۔    

مرد سے عورت کب عِلاج کرواسکتی ہے؟    

{29}          اگر کوئی طبِیبہ نہ ملے توبامْرِ مجبوری عورت طبیب کو حسبِ ضَرورت اپنے جسم کا بیماری و الا حصّہ دکھا سکتی ہے اوراب طبیب ضَرورتاًچھُو بھی سکتاہے ۔   ضَرورت سے زِیادہ جسم ہر گز نہ کھولے۔    

غیر عورت کے ساتھ تنہائی

{30}          غیر مرد اورغَیر عورت کا ایک مکان میں تنہا ہونا حرام ہے ۔   ہاں ایسی بدصورت بڑھیا کہ جو شَہْوَت کے قابل نہ ہو اس کو دیکھنا اور اس کے ساتھ تنہائی جائز ہے ۔    

 



Total Pages: 8

Go To