Book Name:Zakhmi Sanp

باریک پاجامہ مت پہنئے

{15}بعض لوگ باریک کپڑے کا پاجامہ پہنتے ہیں جس سے ران کی جِلد کا رنگ چمکتا ہے ،اسے پہن کرنَماز نہیں ہوتی ایسا پاجامہ بلا مقصدِ شرعی پہننا حرام ہے۔    

دوسرے کے کُھلے ہوئے گھٹنے دیکھنا گناہ ہے

{16} بعض لوگ دوسروں کے سامنے گھٹنے بلکہ رانیں کھولے رہتے ہیں یہ حرام ہے ۔     (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۱ص۴۸۱)  ان کی کھلی ہوئی ران یا گُھٹنے کی طرف نظر کرنا بھی جائز نہیں ۔   لہٰذا نیکر پہن کر کھیلنے اورورزِش کرنے اورایسوں کو دیکھنے سے بچنا ضَروری ہے ۔    

تنہائی میں بے ضَرورت ستر کھولنا کیسا؟

{17}          سَتْرِ عورت ہر حال میں واجِب ہے بِغیر کسی صحیح وجہ کے تنہائی میں کھولنا بھی جائز نہیں لوگوں کے سامنے اورنمَاز میں تو سَتْر بِالاِجْماع فرض ہے ۔    

   (دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۲ص۹۳ ،بہارِ شریعت ج۱ص۴۷۹ مُلَخَّصاً)  

اِستنجا کے وَقْت سَتْر کب کھولے؟

{18}          اِستنجا کرتے وَقْت جب زمین سے قریب ہوجائیں اُس وَقْت سَتْر کھولنا چاہئے اورضَرورت سے زِیادہ حصّہ نہ کھولیں۔   ( ماخوذ ازبہارِ شریعت ج۱ص۴۰۹)  ا گر پاجامے میں زِپ (zip) ڈلوالی جائے تو پیشاب کرنے میں بے حدسَہُولت ہوسکتی ہے کہ اس طرح بہت کم سَتْر کھُولنے کی ضَرورت پڑے گی۔   مگر پانی سے اِستنجا کرنے میں سخت اِحتِیاط کرنی ہوگی ۔  زِپ باریک والی سب سے زِیادہ کامیاب ہے ۔   

ناف سے لے کرگھٹنے تک کا حصّہ

{19}          مرددوسرے مرد کے ناف سے لے کر گھٹنے تک کا کوئی حصہ نہیں دیکھ سکتا اورعورَت بھی دوسری عورت کے ناف سے گھٹنے تک کا کوئی حصّہ نہیں دیکھ سکتی۔   عورت عورت کے باقی اَعضاء پر نظر کرسکتی ہے جب کہ شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو ۔   (ایضاًج۳ص۴۴۲،۴۴۳)

                 پردے کے بال دوسروں کی نظر سے بچائیے

{20}          موئے زیر ناف مونڈ کر ایسی جگہ پھینکنا دُرُست نہیں جہاں دوسرے کی نظر پڑے۔      (بہارِ شریعت ج۳  ص۴۴۹)              

عورَت کی کنگھی کے بال

{21}          عورَتوں کے لیے لازِم ہے کہ کنگھا کرنے یا سر دھونے میں جو بال نکلیں انہیں کہیں چھپادیں کہ غیر مَرد کی ان پر نظر نہ پڑے۔     (ایضاًص۴۴۹)  

{22}          حیض کا  لتّا ایسی جگہ ہر گز نہ پھینکیں جہاں دوسروں کی نظر پڑے۔   

عورت کے پاؤں کی جھانجھن کی آواز

{23} حدیث شریف میں ہے :’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اُس قوم کی دُعا نہیں قَبول فرماتا جن کی عورَتیں جھانجھن پہنتی ہوں ۔   ‘‘   (التفسیرات الاحمدیہ، ص۵۶۵)   حدیثِ پاک میں جس باجے دار جھانجھن پہننے کی ممانعت کی گئی اس سے مراد گھنگرو والا زیور ہے۔    اس سے سمجھناچاہئے کہ جب زیور کی آوازعَدَم قَبولِ دُعا  (یعنی دعاقَبول نہ ہونے )  کا سبب ہے تو خاص عورَت کی (اپنی)  آواز (کا بِلااجازتِ شَرعی غیر مردوں تک پہنچنا)  اور اسکی بے پردگی کیسی مُوجِبِ غَضَبِ الٰہی ہوگی،پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے۔   اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بجنے والے زیور کے استِعمال کےمُتَعَلِّق فرماتے ہیں :  بجنے والا زیور عورتک کے لئے اس حالت میں جائز ہے کہ نامحرموںمَثَلاً خالہ ماموں چچا پھوپھی کے بیٹوں ،جیٹھ ،  دَیور ،بہنوئی کے سامنے نہ آتی ہو نہ اس کے زیور کی جھنکار  (یعنی بجنے کی آواز)   نا محرم تک پہنچے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:  وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ   (تَرجَمۂ کنزالایمان:اور اپنا سنگارظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر۔  ۔  ۔  اِلخ)   (پ ۱۸ ، النور :  ۳۱ )  اور فرماتا ہے   :   وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ



Total Pages: 8

Go To