Book Name:Faizan e Sultan Bahoo رحمۃ اللہ تعالی علیہ

طَباعت سے آراستہ ہوئیں ۔ اس وقت جو کُتب اصل یا تراجم کی صورت میں شائع  ہوچکی ہیں ان میں سے چند کے نام یہ ہیں: عقلِ بیدار، ابیاتِ سلطان باہو، عینُ الفقر ،مفتاح ُالعارفین، محبتِ اسرار، عینُ العارفین،شمسُ العارفین، گنج الاسرار۔ ان میں پنجابی ابیات کو نُمایاں حیثیت حاصل ہے ۔جب تک فارسی کی تصانیف تراجم یا مخطوطات کی صورت میں منظر عام پر نہ آئی تھیں آپ کی وجہِ شہرت بطورِ صُوفی شاعرآپ کے  یہی ابیات تھے ۔([1]) حصولِ برکت کے لئے ابیاتِ سلطان باہورَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک شعر بمع شرح ملاحظہ کیجئے ۔

ایمان سلامت ہر کوئی مَنگے                      عشق سَلامت کوئی ہُو

ایمان مَنگَن شَرماوَن عِشقوں                    دِل نُوں غیرت ہوئی ہُو

ترجمہ: ہر ایک ایمان کی سلامتی چاہتا ہے لیکن عشق کی سلامتی چاہنے  والا کوئی کوئی ہوتا ہے،ایمان چاہتے ہیں مگر عشق سے کتراتے ہیں یہ دیکھ کر ہمارے دل میں تو غیرت بھڑک اٹھتی ہے۔([2])

یعنی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایمان کے درجات بڑھانے میں کوشاں رہے لیکن ایمان کے آخری دَرجے پر ایک سطح ایسی آجاتی ہےجسے صُوفیائے کرام عشقِ الٰہی  کہتے ہیں اس سطح پر قدم رکھتے ہوئے لوگ کتراتے ہیں کیونکہ یہاں ہر قسم کی مصلحتیں اپنےآپ  سے الگ  کرنی پڑتی ہیں اور کوئی فیصلہ کن مرحلہ آجائے تو حق کی خاطر سر دَھڑ کی بازی لگانی پڑتی ہےگو یا عشقِ الٰہی  وہ سطح ہےجہاں حق سے شدید لگاؤ انسان کو ہر قسم کے خَطرات سے بے نیاز کردیتا ہے لیکن اس سطح پر ہر شخص نہیں پہنچ سکتا منتخب شُدہ لوگو ں کی ایک قلیل تعداد ہی اس سطح تک پہنچ پاتی ہے جبھی تو آپ نے فرمایا کہ ہرشخص ایمان کی سلامتی تو چاہتا ہے مگر عشقِ الٰہی کی سلامتی کا خواہاں نظرنہیں آتا کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ عشق میں جان کی بازی لگانی پڑتی ہے اور چونکہ حقیقی صُوفی  عشق کی قدر و قیمت اور قُوّت و طاقت سے واقف ہوتا ہےلہٰذا جب عام مومنوں کی کم ہمتی اور ہچکچاہٹ کو دیکھتا ہے تو جوشِ غیرت کی وجہ سے  عشق کے دائرے میں داخل ہوجاتاہے اور اس کی ساری شرائط قبول کر کے عشقِ الٰہی میں ہی زندگی بسر کردیتا ہے،پھر  یہی عشق اس کا سرمایۂ حیات بن جاتاہے۔([3])

ملفوظات ِحضرت سُلطان باہو

(1)راہِ سلوک پر چلنے والے کے لئے چند باتیں لازم ہیں :

(۱) رات کو اکیلا رہ کر یاد الٰہی میں مشغول رہے(۲) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ذات سے انس و رفاقت(محبت و قرب ) رکھے (۳)ہر رات کو قبر کی رات سمجھے کیونکہ قبر میں اللہعَزَّ  وَجَلَّ  (کی رحمت )کے سوا اور کوئی انیس و رفیق نہ ہوگا (۴)جب دن چڑھےاورلوگ جاگیں تو اسے قیامت کا دن سمجھے کہ قبرسے نکل کر کھڑا ہوا ہے (۵)ہر دن  اپنے لئے قیامت کا دن سمجھےاورہر دن  برے اعمال کے مُحاسبے میں گزارے۔([4])

(2) مرشدِ کامل اپنے مُرید کو  باطنی طریقے پرحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ تک پہنچا دیتاہےاس حقیقت کواَحْمق اور مُردہ دل کیا جانے خواہ وہ تمام عمر علم پڑھتا رہے ۔([5])

(3)جو شخص اِخْلاص ویقین سے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں یہ عرض کرے: یارسُولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری فریاد  کو پہنچئے ،تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسی وقت تشریف لاکر زیارت سے مستفیض فرماتے ہیں اور فریاد کرنے والا آپ کی خاکِ پَا کو سُرمہ بناتا ہے ،لیکن بے  اخلاص اور بے یقین اگر  دن رات بھی نوافل  ادا کرتا رہے تب بھی حِجاب  میں ہی رہے گا۔([6])

(4)جو شخص حیاتُ النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہیں مانتا بلکہ موت جانتا ہے اس کے منہ میں خاک اور وہ دونوں جہاں میں سیاہ رُو (سیاہ چہرے والا)ہے اور ضرور بالضرورشفاعتِ مصطفے ٰ سے محروم رہے گا ۔([7])

تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ            مرے چشم ِ عالم سے چھپ جانے والے (حدائق بخشش:۱۵۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

آپ کے خلفاء

    آپ کے چند مشہور خلفاء کے نام یہ ہیں  : (۱) حضرت سَیِّدمُوسیٰ شاہ گیلانی المعروفحضرت مُوسن شاہ (لوموسن شاہ ،بابُ الاسلام سندھ ) (۲) حضرت ملّامعالی میسوی (اخوندمعالی کرک ضلع

 سبّی ) (۳) حضرت سُلطان نورنگ کھیتران (قصبہ وھو آضلع بہاولپور) (۴) حضرت سُلطان حمید(دامن چول ضلع بھکر )(۵)حضرت سُلطان ولی محمد (احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور) رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ۔  

آپ کی اَزْواج واَولاد

     آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے چار شادیاں کیں جن سے آٹھ بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی آپ نے سب کو دینی تعلیم دلوائی۔

آپ کے سجّادہ نشین

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بڑے بیٹے حضرت سُلطان ولی محمد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ پہلے سجادہ نشین ہوئے  اور اب تک یہ سلسلہ ان ہی کی اولاد میں جاری ہے۔  ([8])

 



[1]      ابیات سلطان باہو، ص۲ تا ۳  ملخصاً 

[2]     ابیات سلطان باہو، ص ۵۳

[3]     ابیات سلطان باہو، ص ۵۴بتغیر

[4]    مناقب سلطانی، ص ۲۵۱

[5]    عقل بیدار، ص ۲۹۸ملخصاً

[6]     عقل بیدار، ص ۲۹۸ ملتقطاً

[7]     عقل بیدار، ص ۲۹۷

[8]    باہوعین یاہو ، ص ۱۲۴، وغیرہ



Total Pages: 8

Go To