Book Name:Faizan e Sultan Bahoo رحمۃ اللہ تعالی علیہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُرشدِ کامل کی تلاش

 حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ والدہ ماجدہ کےحکم کی تعمیل میں مرشد کامل کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اوردرىائے راوى کے کنارے (گڑھ بغداد شریف )پہنچے  آپ نے یہاں حضرت شاہ حبىبُاللہقادرى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کے فىضان کا شہرہ سنا تو ان کى خدمت مىں حاضر ہوگئے، حضرت شاہ حبىبُاللہ قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کى ىہ کرامت مشہور تھى کہ پانى کى دىگ ہلکی آنچ پر ہر وقت گرم رکھا کرتے جو معرفتِ الٰہی کا طلب گار آتا اسے دىگ مىں ہاتھ ڈالنے  کا حکم فرماتے،  ہاتھ ڈالتے ہى وہ صاحبِ کشف ہوجاتا ۔حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کرامت کو دیکھ  کر اپنی جگہ خاموش بیٹھے رہے، پوچھنے پر  اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو حضرت شاہ حبىبُ اللہ قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِینےفرمایا: پھر اپنا ہاتھ دیگ میں داخل کیوں نہیں  کیا؟  اگر دیگ میں ہاتھ ڈال دیتے تو مُراد کو پہنچ جاتے،آپ نے کہا:   

   مجھے دیگ میں ہاتھ ڈالنے والوں کا حال معلوم ہے اس سے مىرى مُراد پورى نہىں ہوگى، حضرت شاہ حبىبُ اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ٹھیک ہے! یہاں ٹھہر کر چند روز مجاہدہ کریں، مسجدکا حوض بھرنے اورصحن دھونے کا کام  کریں۔ اگلے دن حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پانى بھرنے کے لىے مشکیزہ  مانگاجسے وہاں کے خدمت گاروں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں پیش کردیا، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اىک ہى مشکیزہ  بھر کر ڈالا تو حوض بھر گیا اورپھر مسجد کا پورا صحن دھو ڈالا۔ خدمت گاروں نے تمام ماجرا حضرت شاہ حبىبُاللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى خدمت مىں عرض کیا تو انہوں نے حضرت سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےپوچھا: کىا تمہارے پاس دنىاوى مال ہے؟آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:جی ہاں ! حضرت شاہ حبیبُ اللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:یکسوئی ایسے حاصل نہیں ہوسکتی پہلے مال و مَتاع سے فارغ ہوجاؤ۔ىہ سُن کر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فوراً گھر کی جانب روانہ ہوئے،  گھر میں وَلیّہ کاملہ والدہ ماجدہ حضرت بی بی راستی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ انے کَشْف سے یہ بات جان لی لہٰذاآپ کی  اَزْواج  سے فرماىا: مىرا بىٹا دنىاوى مال و مَتاع سے جان چُھڑانے  آرہاہے، تم اپنا اپنا زىور اور نَقْدى بچالواور کہىں دَبادو تاکہ وقتِ ضرورت کام آئے،انہوں نے اىسا ہى کىا۔ جب حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف لائے اور والدۂ محترمہ نے آنے کى وجہ پوچھى تو عرض کى: شىخ نے دنىاوى مال کو چھوڑنے اور دور کرنے کا حکم  دىا ہے، والدہ ماجدہ نے کہا: اگر کوئى مال ہے تو لے کر دورکردو،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا: مجھے گھر سے مال کی بُو آرہی ہے، والدہ ماجدہ نے کہا: اگریہ بات ہے  تو نکال  لو، لہٰذا جس جگہ زىور وغىرہ دباىا گیا  تھا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نکال کر پھینک دیا اور  فارغ ہو کر حضرت شاہ حبىبُ اللہقادری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کى خدمت مىں پہنچے۔ حضرت شاہ حبىبُ اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تم دنىاوى مال سے توفارغ ہوگئے ، اب اپنی اَزْواج کا کىا کرو گے اللہ    عَزَّوَجَلَّ  کا حق ادا کرو گے ىا اُن کا؟ جا کر انہىں آزاد کردو تاکہ تم پورے طور پر راہِ حق کے لىے تىار ہوجاؤ۔چنانچہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ شوق و وارفتگی میں اُسى وقت پھر گھر کى طرف لوٹے، والدہ ماجدہ نےپھر جان لیا اورآپ کی ازواج سے فرمایا:مىرا بىٹا تم سے قَطع تعلّق کرنے کے لىے آرہا ہے ہوشىار  ہوجاؤ!مىرى پىٹھ کے پىچھے بىٹھ جانا، کہیں شوقِ الہى کے سبب تمہارے حق مىں کوئى شرعى کلمہ(طلاق) زبان سے نہ کہہ دے ۔اتنے مىں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ گھر میں داخل ہوئے، والدہ ماجدہ نے پوچھا: کہو بىٹا! اب کىسے آنا ہوا؟ آپ نےآنے کا مقصد بیان کیا تو والدۂ محترمہ نے(آپ کی ازواج کی  اجازت سے )کہا: سنو بىٹا!ان کے جوحقوق مثلاًنان و نَفْقہ وغیرہ  تم پر لازم ہیں وہ سب رضائے الٰہی کی خاطر  یہ تمہىں مُعاف کرتی ہیں ، تم ان کے حُقُوق ادا کرنے سے فارغ ہو۔تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حُقُوق ادا کرو اور تمہارے جوحقوق  اُن کے ذِمّے ہىں وہ بدستور قائم رہىں گے۔ اگر تم نے سُلوکِ معرفت طے کرلیے تو  بہتر، ورنہ تمہىں ان کے حُقوق  کی ادائیگی کے لىے آنے کى ضرورت نہىں۔چنانچہ اس کے بعدآپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت شاہ حبىبُاللہ قادریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کى خدمت مىں پہنچ گئے۔([1])

 سُبْحٰنَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ  !حضرت سلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ ماجدہ کا کیسا جذبۂ ایمانی تھا کہ انفرادی کوشش کرتے ہوئے اپنے لختِ جگر کو خود  سےجدا کرکے کامل پیرومُرشدتلاش کرنے اورراہِ خدا عَزَّ  وَجَلَّ میں سفر کرنےکا ذہن دیا، اے کاش! ہماری اسلامی بہنیں بھی اس سے  درس حاصل کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے مکمل طورپروابستہ ہوکر تَقْویٰ اورپرہیز گاری اختیار کریں۔

مُرشد کامل کی ضرورت  

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے ظاہر وباطن کی اصلاح کے لئے کسی تربیت کرنے والے کا ہونا انتہائی  ضروری ہے ۔چنانچہ امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی لکھتے ہیں :  تربيت کی مثال بالکل اسی طرح ہےجس طرح ايک کسان کھیتی باڑی کے دوران اپنی فصل سے غير ضروری گھاس اورجڑی بوٹياں نکال ديتا ہے تاکہ فصل کی ہريالی اور نشونما ميں کمی نہ آئے اسی طرح سالکِ راہِ حق(مريد)کے ليے شيخ(یعنی مرشد کامل) کا ہونا نہايت ضروری ہے جو اس کی اَحْسن طریقے سے تربيت کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ تک پہنچنے(معرفتِ الٰہی) کے ليے اس کی رہنمائی کرے ۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انبياء و رُسُلعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو لوگوں کی طرف اس ليے مَبْعُوث فرمايا تاکہ وہ لوگوں کو اس تک پہنچنے کا راستہ بتائيں ۔مگر جب آخری رسول،نبی مقبول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اس جہاں سے پردہ فرمایا  اور نَبوَّت و رسالت کا سلسلہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ختم ہوا تو اس منصبِ جلیل کوخُلفائے راشدين رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بطورِ نائب سنبھال ليا اور لوگوں کو راہ ِحق پر لانے کی سَعی و کوشش فرماتے رہے۔([2]) صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کےبعد ان کے  نائبین ( اولیاو عُلما) یہ فريضہ سرانجام دے رہے ہیں اور تاقیامت دیتے رہیں گے ۔

مدنی مشورہ

    جواسلامی بھائی کسی کے مُرید نہ ہوں اُن کی خدمت میں مَدَنی مشورہ ہےکہ وہ شیخِ طریقت،امیراہلسَّنت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے



[1]        مناقب سلطانی، ص ۵۴ تا۵۶ملخصاً

[2]        بیٹے کو نصیحت، ص۳۴



Total Pages: 8

Go To