Book Name:Faizan e Sultan Bahoo رحمۃ اللہ تعالی علیہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

                                                                                                فیضان  سُلطان باہو  رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ

درود شریف کی فضیلت

حضرتِ سَیِّدُنا ابو دَرْداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہےنبیٔ  کریم ،رؤفٌ رَّحیم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ شفاعت نشان ہے:جوشخص صبح و شام مجھ پر دس دس باردُرودپاک  پڑھے گا بروزِ قِیامت اُسے میری شَفاعت  نصیب ہوگی۔([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

صوبہ ٔ پنجاب (پاکستان )میں جن صُوفیائے کرام رَحِمَھُمُ  اللہ ُالسَّلام نے اپنے علم و عمل  اورحُسنِ اخلاق سے  ہزار ہا لوگوں کو دائرۂ اسلام میں داخل کیا ،انہیں کُفر  کے اندھیروں سے نکال کران کے دلوں کو نُورِ ایمان سے مُنور کیا ،اسلامی تعلیمات کوعام کیااور مخلوقِ خُدا کو فائدہ پہنچایا انہی  میں سے ایک عظیمُ المرتبت صُوفی بزرگ بُرہانُ الواصلین ، شمسُ السالکین ،سلطانُ العارفین حضرت خواجہ سُلطان باہو رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے وصالِ پُرملال  کوسینکڑوں سال گزرنے کے باوجود آج بھی ان کا نام زندہ و تابِندہ ہے۔آئیے حُصُولِ برکت اور نُزولِ رحمت کے لئے ان کا ذِکر خیر سنئے اوران  کی تعلیمات پر عمل کا جذبہ پیدا کیجئے۔   

نام و نسب

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا نام سُلطان باہُوہے، صُوفیائےکرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام میں آپ سلطانُ العارفین کے لقب سے معروف ہیں۔ آپ کا تعلق قبیلہ اَعوان سے ہے۔آپ کا شجرۂ نسب سُلطان باہو بن بازید محمد بن فتح محمد بن اللہ  دِتّہ ہےجو آگے چل کراَمیرُالمومنین حضرت سَیِّدُناعلیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تک پہنچتاہے۔ ([2])

اَعْوان کہلانے کی وجہ 

واقعۂ  کربلا کے بعد جب خاندانِ نَبوَّت پر ظُلم و سِتم کے پہاڑ توڑے گئےاور مختلف واقعات پیش آئے تو اُنہوں نے ایران و ترکستان کے مختلف حصّوں میں رہائش اختیار کرنا شروع کردی قبیلۂ اعوان چونکہ عَلَوی([3]) ہونے کی وجہ سے ساداتِ کرام کے قریبی تھےلہٰذا اُنہوں نے  اس غُربت ،تنگی اور غریبُ الوطنی میں ساداتِ کرام کی مدد کی اور ان کے رفیق اور مُعاون بنے اسی وجہ سے انہیں اَعوان (یعنی ساداتِ بنی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی مدد کرنے والے)کہا جانے لگا۔ ([4])

قبیلۂ اَعْوان کی ہندوستان آمد

خلافتِ عباسیہ کےآخری  دور میں قبیلہ اَعْوان نے ہند کی جانب ہجرت کی اورسُون سَکیسر(ضِلع خُوشاب ،پاکستان )اوراس کے گرد ونواح میں آباد ہوگئے ان کی کثیر تعداد آج بھی وادیٔ سُون سَکیسر میں آباد ہے۔ ([5])

 



[1]     الترغیب والترھیب، كتاب النوافل، ۱/ ۳۱۲، حدیث : ۹۹۱

[2]               باہو عین یاہو ، ص ۱۰۵، ۱۰۱، وغیرہ

[3]    علوی حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی وہ اولادکہلاتی ہے  جو خاتون جنت فاطمہ الزہر اء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے علاوہ دیگر ازواج سے پیدا ہوئی۔

[4]    مناقب سلطانی، ص ۱۶ ملخصاًوغیرہ

[5]    ابیات سلطان باہو، ص۱، وغیرہ 



Total Pages: 8

Go To