Book Name:Fatawa Razawiyya Jild 1 - Risala 1 - fatwa

الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ پیشِ خدمت ہے: کم سنی ہی میں میرے سرسے والد صاحب کا سایۂ عاطفت اُٹھ گیاتھا۔ والدصاحب کے دنیا سے کوچ فرمانے کے بعد میرے دو چھوٹے بھائی صحبت ِبد کا شکار ہو گئے، جس کی نحوست سے ان کے اخلاق و کردار بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ ان کی شرارتوں سے نہ صرف والدہ پریشانی سے دوچار رہتیں تھیں بلکہ دیگر لوگ بھی ان کی حرکات و سکنات کی وجہ سے بیزار تھے۔ والدہ محترمہ انہیں اچھا انسان بنانے اور برائی سے روکنے کے لیے سمجھاتیں ، برائی سے نفرت اور اچھے افعال کے ذریعے دنیاوآخرت میں کامیابی پانے کا جذبہ دلاتیں مگر ان پر والدہ کی سود مند نصیحت کا کوئی اثر نہ ہوتا اور یہ افعالِ بد سے رُک کر ان کا دل خوش کرنے کے بجائے اپنی روِش پر قائم رہتے۔ ’’گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘ کے مصداق میں بھی اپنا دامن ان کانٹوں سے نہ بچا سکا اور بدقسمتی سے ان کی صحبت میں اٹھنے بیٹھنے لگا حتی کہ میں بھی ان کے ساتھ دنیا کی موج مستیوں میں مبتلا ہو گیا اور پھر رفتہ رفتہ  گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ پہلے ہی دو چھوٹے بھائی والدہ کے لیے دردِ سر بنے ہوئے تھے مزید میں نے بھی ان کے غم و پریشانی میں اضافہ کر دیا۔ افسوس! والدہ کے قلبِ شفیق کو ٹھنڈا کر کے جنت کا حقدار بننے کے بجائے ہم تینوں بھائی ان کی پریشانی میں اضافہ کر کے نارِجہنم کے خریدار ہوتے جا رہے تھے۔ ہمیں نہ تو اس بات کی فکر تھی کہ ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے لوگ والد مرحوم کو برا بھلا کہیں گے اور نہ ہی معاشرے میں اپنی

 

 

 

 

 



Total Pages: 5

Go To