Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

سے مدد لے اور اپنے امور کو احسن انداز میں   پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ بلکہ زندگی میں   بہت سے مواقع ایسے بھی آتے ہیں   کہ آدمی ہر اعتبار سے دوسروں   پر فوقیت و فضیلت رکھنے کے باوجود اپنے امور و معاملات کو دوسروں   کے سپرد کر دیتا ہے اور ان کو اپنا قائم مقام بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ خود شفیعِ روزِ شُمار،  بِاذْنِ پروردگار دو عالَم کے مالک و مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بعض امور میں   لوگوں   کو وکیل بنایا۔ حالانکہ روزِ آفرینشِ دنیا سے قیامِ قیامت تک،  تمام جہاں   کے لوگوں   کو جتنی عقل عطا ہوئی ہے وہ سب مل کر سرکارِ والا تَبار،  ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عقل مبارک کے آگے ایسی ہے جیسے تمام دنیا کے ریگستان کے سامنے ریت کا ایک ذرّہ۔

وکالت اسلامی تعلیمات کا ایک اہم جزو ہے،  جس کے متعلق اسلامی کتب میں   سیر حاصل رہنمائی موجود ہے،  اگرچہ یہ ایک عام لفظ ہے اور اپنے اندر بہت سی وسعت رکھتا ہے مگر فی زمانہ یہ باقاعدہ ایک شعبہ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کی ایک مخصوص پہچان ہے۔ مگر بدقسمتی سے دیگر شعبوں   کی طرح یہ شعبہ بھی گناہوں   کی لپیٹ میں   آ چکا ہے۔ جھوٹی قسم،  سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنا اس پیشہ میں   عام ہے،  جس کی اصلاح ضروری ہے۔ چنانچہ،  تبلیغ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ایک مجلس بنام مجلسِ وُکلا کا قیام عمل میں   آیا جس کا کام شعبۂ وکالت سے منسلک لوگوں   میں   دعوتِ اسلامی کے نیکی کی دعوت کی دھومیں   مچانے کے پیغام کو عام کرنا اور انہیں   دعوتِ اسلامی سے وابستہ کرتے ہوئے اس مدَنی مقصد  ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   ‘‘  کے مطابق زندگی گزارنے کا مدنی ذہن دینا ہے۔

اللہ  کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں   میں

اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو !

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

٭٭٭٭

  (6 مجلس ذرائع آمد و رفت

ذرائع نقل و حمل کی اہمیت سے کون آگاہ نہیں  ،  ابتدائے زمانہ سے لے کر موجودہ زمانے تک ان کی نئی نئی شکلیں   سامنے آتی رہی ہیں   اور آتی رہیں   گی۔ چونکہ ذرائع آمد و رفت سے مراد وہ ذرائع ہیں   جن کی بدولت لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں   یا اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں   اور جب تک یہ سلسلہ قائم ہے اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  ان ذرائع سے انسان کا ناطہ   (رشتہ)   بھی قائم رہے گا۔ زمانۂ قدیم سے انسان بری   (خشکی)   اور بحری   (سمندری)   راستوں   کا استعمال تو جانتا ہی تھا مگر دورِ جدید نے فضائی سفر کو آسان بنا کر سفر کو آسان سے آسان تر بنا دیا ہے،  مگر کسی بھی زمانے میں   ان ذرائع کو حرکت میں   لانے والے لوگوں   کی اہمیت سے بھی انکار نہیں   کیا جا سکتا،  زمانۂ قدیم میں   بری سفر پر حُدی خوان   ([1] اُونٹوں   کے قافلے کو منزل پر بروقت پہنچانے کا کام کرتے تھے تو آج یہی کام موٹر کار ڈرائیورز نے سنبھال رکھا ہے۔ ایک زمانے میں   ملاح چھوٹی چھوٹی کشتیوں   کو کھیتے   (کھینچتے)   اور سمندروں   اور دریاؤں   کے منہ زور پانیوں   کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں   تو دورِ جدید میں   سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے دیو ہیکل بحری جہازوں   کے کیپٹن سمندر کے سینے کو چیرتے ہوئے انسانی عظمت کا احساس دلا رہے ہیں  ۔ بہرحال زمانۂ قدیم کے حدی خواں   یا ملاح ہوں   یا دورِ جدید کے ڈرائیورز اور کیپٹن یہ لوگ اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر بڑی چابکدستی اور مہارت سے مسافروں   کو ان کی منزل مقصود تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ہیں   اور دیتے رہیں   گے۔ مگر بدقسمتی سے اس شعبہ سے منسلک افراد کی اکثریت ان پڑھ اور بنیادی تعلیم سے دور رہی ہے۔ بلکہ دورِ جدید میں   معاشی مسائل کے ہاتھوں   مجبور ہو کر یہ پیشہ اختیار کرنے والوں   کو معاشرے میں   بھی عزت کی نگاہ سے نہیں   دیکھا جاتا۔ ٹرانسپورٹ کی



[1]    ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو اونٹوں کے قافلوں میں سب سے آگے گیت گاتے ہوئے چلتے،  اونٹ ان کی آواز پر مسحور ہو کر تیز تیز چلنے لگتے اور یوں سفر تیزی سے طے ہونے لگتا۔



Total Pages: 157

Go To