Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

اسلامی بھائی مرکز الاولیاء   (لاہور)   پہنچے۔ وہاں   جاکر معلوم ہوا کہ 25برس سے عرسِ مبارَک کے موقع پر ڈیف اسلامی بھائیوں   کے قیام و طعام کے انتظامات قریبی اسکول میں   ہوتے ہیں  ۔ مجلس خصوصی اسلامی بھائی کے ذمہ داران Deaf کے صدر اور منتظمین سے مسلسل رابطہ کرتے رہے مگر اجازت کی کوئی صورت نہیں   بن رہی تھی۔ عرس میں   شریک Deafکی خیرخواہی کیلئے بھی پیش کش کی گئی وہ بھی قبول نہ ہوئی۔ بدقسمتی سے 25سال سے جس جگہ گونگے بہرے جمع ہوتے وہاں   مختلف خرافات مثلاً جوا اور نشہ وغیرہ کا عام استعمال رہتا تھا۔

اتفاق سے گورنمنٹ کی طرف سے  Deafکو اس بار اسکول میں   رکنے کی ہی اجازت نہ مل سکی۔08مارچ کو Deafکی آمد شروع ہوگئی۔ مگر اسکول کے دروازے بند تھے۔دعوتِ اسلامی کی تنظیمی ترکیب کے مطابق متعلقہ ذمہ دار نے باہمی مشورے سے دربار مارکیٹ میں   واقع مکتبۃُ المدینہ کی عظیم الشان عمارت میں   گونگے بہروں   کے قیام وطعام کی ترکیب بنانے کی اجازت عطا فرمادی۔ کل تک مجلس کے ذمہ داران گونگے بہروں   کی اقامت گاہ میں   داخل ہونے کی تدابیر کررہے تھے اور اجازت حاصل نہیں   ہوررہی تھی۔ ربّ عَزَّ وَجَلَّ  کے کرم سے اب ڈیف کلب کے صدر،  منتظمین و دیگرگونگے بہرے قیام وطعام کی سہولت فراہم کرنے پر دعوتِ اسلامی کی مجلس خصوصی اسلامی بھائی کے شکر گزار نظر آرہے تھے۔ رہائش کاسارا انتظام مجلس خصوصی اسلامی بھائی کے ذمہ داران نے سنبھال لیا۔ عرس کے دوسرے روز کم وبیش1000کے قریب گونگے بہرے آچکے تھے مگر انہیں    ’’ سنّتوں   بھرے بیانات ‘‘  کے حلقوں   میں   شرکت کروانا انتہائی مشکل امر تھا۔ یکایک رَبِّ کائنات عَزَّ وَجَلَّ  کا خاص کرم ہوا اور آسمان پر گہرے بادل چھا گئے دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ جس کی وجہ سے تمام گونگے بہرے یکے بعد دیگرے مکتبۃ المدینہ کے ہال میں   جمع ہو نا شروع ہوگئے۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  رات گئے تک گونگے بہرے اسلامی بھائیوں   کے مختلف حلقوں   میں   درس و بیان کا سلسلہ جاری رہا۔ سنّتوں   بھرے بیان اور ذکرو دعا کی ترکیب بھی بنائی گئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  حُضور داتا گنج بخش  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خُصوصی فیضان سے سینکڑوں   گونگے بہرے اسلامی بھائیوں   نے رو رو کر گناہوں   سے توبہ کی اور آئندہ زندگی رضائے الٰہی میں   گزارنے کی نیّتیں   بھی کیں  ۔ ڈیف کلب کے صدر،  منتظمین و دیگر شرکا گونگے بہروں   پر طاری ہونے والی رقّت دیکھ کربے انتہا متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ گونگے بہروں   کے اس روپ کو ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں  ۔

اجتماعاتِ ذکر و نعت :

 ’’ شبِ معراج ‘‘  ہو یا  ’’ شبِ برأت ‘‘ ،   ’’ شب قدر ‘‘  ہو یا  ’’ یومِ عاشورہ ‘‘  ،   ’’ اجتماعِ میلاد ‘‘  ہو یا  ’’ ربیع الغوث شریف ‘‘  یا  ’’ اجتماعِ ذکر و نعت ‘‘ ،  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  ہر مرتبہ خصوصی اسلامی بھائیوں   کے حلقے لگانے کی کوشش رہتی ہے جس میں   اشاروں   کی زبان میں   بیانات،  ذکرو دعا کے ساتھ حمد و نعت و مناقب وصلوٰۃ وسلام کی ترکیب بھی بنائی جاتی ہے۔

پاکستان بھر کے مختلف شہروں   میں   ربیع الاوّل کے سلسلے میں  مختلف Deaf کلب،  فلاحی تنظیم یا ویلفیئر سوسائٹیز کے تحت پروگرامز ہوتے رہے ہیں  ۔ جس میں   خصوصی اسلامی بھائی جمع ہو کر آپس میں   مل بیٹھ کر اشاروں   کی زبان میں   اِدھر اُدھر کی گفتگو کرنے کے بعد کھانا کھاتے اورفارغ ہوکر گھروں   کو لوٹ جاتے۔ مجلس خصوصی اسلامی بھائی کے ذمہ داران نے جب Deaf کلبز اور ویلفیئر سوسائٹیز میں   نیکی کی دعوت  کے سلسلے میں   جانا شروع کیا تو انہیں   بھی ربیع الاوّل کے پروگرامز میں   مدعو کیا گیا۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  ان اسلامی بھائیوں   کی انفرادی کوششوں   سے یہ پروگرامز اجتماعِ ذکرو نعت میں   تبدیل ہو گئے۔ اجتماعِ میلاد میں   اشاروں  کی زبان میں   حمد و نعت،  خوفِ خدا و عشقِ رسول میں   ڈوبے ہوئے سنّتوں   بھرے بیانات نے گونگے بہرے اسلامی بھائیوں   اور منتظمین کو ایک نئی روحانی لذّت سے آشنا کیا۔انہیں   فکر آخرت پر مبنی مَدَنی ذہن ملا۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  ربیع الاوّل شریف میں   منعقد ہونے والے اجتماعِ میلاد میں   گونگے بہرے اسلامی بھائیوں   کے عشقِ رسول میں   ڈوبا ہوا دیوانگی کا



Total Pages: 157

Go To