Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

اقوام کی تقدیر نوجوان نسل کی تربیت پر منحصر ہوا کرتی ہے۔ ترقی و تنزل کی سینکڑوں   داستانیں   اس بات کی گواہ ہیں   کہ زمانے کی باگ ڈور اسی قوم کے ہاتھ رہی جس کی جواں   نسلیں   اعلیٰ کردار و اَطوار کی حامل تھیں   اور جن اقوام کی نوجوان نسلیں   لہوولعب،  کھیل کود میں   مگن رہیں   پستیوں   میں   گم ہو گئیں  ۔ آج بحیثیت مسلمان ہماری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے ہماری نوجوان نسل بھی تنزلی کا شکار نظر آتی ہے کیونکہ ہمارا تعلیمی معیار،  اداروں   کی حالت،  نظام تعلیم و تربیت قابل رحم ہے۔ اس پر ستم یہ کہ غیر مسلم قوتیں   ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں   کہ مسلمان نوجوانوں   کی سوچ و فکر کے زاویے کبھی درست سمت اختیار نہ کر پائیں  ۔ ان کے تھنک ٹینک   (Think Tank برسوں   کی حکمت عملی بنا کر ہماری نوجوان نسل کو دیمک زدہ بنانے کی کوشش میں   مصروف ہیں  ،  انہوں   نے مغربی تہذیب و تمدن کو اس طرح پیش کیا کہ آج ہمارے طالبعلم اپنی آفاقی تہذیب کو چھوڑ کر اسی تہذیب کے پیکر بن چکے ہیں   اور اپنے مذہب،  اپنی اقدار و روایات پر شرمندہ شرمندہ نظر آتے ہیں۔ وہ نوجوان جس نے ملت کی تقدیر بدلنا تھی اپنی منزل سے بے خبر ناچ گانے،  بیہودہ محافل،  مخلوط تعلیم   (Co-education کی آڑ میں   بے حیائی و فحاشی میں   مگن ہو کر ملت کے ستارے کو روشنی سے محروم کر رہا ہے۔

شیخ طریقت،  امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے سرمایۂ ملت کو تباہی سے بچانے کا بیڑا اٹھایا اور ہر وہ کوشش کی جس سے ملت کا یہ ڈوبتا ہوا ستارہ دوبارہ اپنی آب و تاب سے پوری دنیا کو چمکانے لگے۔ چنانچہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں  : ”طلبہ ملک وملت کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں  ،  مستقبل میں   قوم کی باگ ڈور یہی سنبھالتے ہیں  ،  اگر ان کی شریعت وسنّت کے مطابق تربیت کر دی جائے تو سارا معاشرہ خوفِ خدا وعشقِ مصطَفےٰ کا گہوارہ بن جائے۔“

پس تمام گورنمنٹ وپرائیویٹ اسکولز،  کالجز،  یونیورسٹیز،  انسٹی ٹیوٹز،  اکیڈمِیز،  ٹیوشن سنٹرز اور تعلیمی دفاتر سے منسلک لوگوں   میں   تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مجلس شعبۂ تعلیم کا قیام عمل میں   آیا جس کا بنیادی مقصد مذکورہ اداروں   سے وابستہ لوگوں   کو دعوتِ اسلامی سے وابستہ کرتے ہوئے اس مدَنی مقصد  ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   ‘‘  کے مطابق زندگی گزارنے کا مدنی ذہن دینا ہے۔

شیخ طریقت کے عطا کردہ مدنی پھول:

شیخ طریقت،  امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے شعبۂ تعلیم کے ذمہ داران کو کام کرنے کے یہ چند مدنی پھول عطا فرمائے ہیں  :

٭… اَساتذہ سے اچھی اچھی نیّتوں   کے ساتھ مُراسِم قائم کریں   اور انہیں   مَدَنی قافلوں   میں   سفر کروائیں  ۔

٭… شعبۂ تعلیم میں   مَدَنی انعامات کا سلسلہ جاری کریں  ۔

٭… ہاسٹل میں   مدرسۃ المدینہ بالغان قائم کریں   کہ مدرسۃ المدینہ بالغان انفرادی کوشش کے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔

٭… کالجز/ یونیورسٹیز کی مساجد میں   مَدَنی قافلے ٹھہرائیں  ۔

مجلس کے کام کرنے کے مدنی پھول:

شیخ طریقت،  امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی پھولوں   کی روشنی میں   مجلس شعبۂ تعلیم کے مدنی کام کرنے کے طے کردہ چند مدنی پھول یہ ہیں  :

٭… تعلیمی اداروں   میں   مَدَنی ماحول بنانے کیلئے مسجد یا کسی بھی مناسب مقام پر   (درجے کے کمرے،  ہاسٹل،  لائبریری،   لان وغیرہ میں  )   مَدَنی مرکز کے دئیے گئے طریقِ کار کے مطابق درسِ فیضانِ سنت،  مدرسۃ المدینہ بالغان اور   (مسجد اور فنائے مسجد کے علاوہ دیگر مقامات پر)   VCD اجتماع وغیرہ کی ترکیب بنائی جاتی ہے۔

٭… اسلامی بھائیوں   کا ہفتہ وار اجتماع میں   شرکت کا مدنی ذہن بنایا جاتا ہے اور تمام رہائشی اور غیررہائشی تعلیمی اداروں   سے ہفتہ وار اجتماع کیلئے مخصوص مقامات سے سواریوں   کی ترکیب بنانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔

٭… شعبۂ تعلیم سے وابستہ اسلامی بھائیوں   کے ہفتہ وار اجتماع میں   الگ سے حلقے لگائے جاتے ہیں   کیونکہ ہر تعلیمی اِدارے کا حلقہ الگ سے لگنا زیادہ مفید



Total Pages: 157

Go To