Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

شریک ہوئے اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  ہاتھوں   ہاتھ عاشقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں   کی تربیت کے 12دن کے مَدَنی قافلے کے مسافِر بھی بن گئے۔ مَدَنی قافلے سے واپس آنے کے دوسرے یا تیسرے روز ککری گراؤنڈ بابُ المدینہ کراچی کے نزدیک ایک گاڑی نے اِنہیں   کُچَل دیا،  یہ حادِثہ جان لیوا ثابت ہوا،  یُوں   وہ اسلام کی انمول دولت سے مالامال ہونے کے تقریباً 17یا 18دن بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان کی مغفرت فرمائے۔

اللہ  کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں   میں

اے دعوتِ اسلامی تری دھوم مچی ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

٭٭٭٭

  (6 مجلس آئی ٹی

انسانی زندگی ترقی کی منزلیں   طے کرتی ہوئی آج جس دور سے گزر رہی ہے اسے ہم سائبر ایج   (Cyber Age)   کا نام دے سکتے ہیں  ۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے انسانی معاشرے میں   ترسیل و ابلاغ   ([1]کے ایک بالکل نئے باب کا اضافہ ہوا۔ اگرچہ انسانی معاشرے نے اس سے قبل بھی بہت ساری تبدیلیاں   دیکھیں   لیکن اس تبدیلی نے جس تیزی سے انسان کو اپنی لپیٹ میں   لیا ہے خود انسان بھی حیران ہے۔ ترسیل کے اس نئے زاویے سے دنیا سچ مچ واقعی ایک کرہ   (Globe نظر آنے لگی اور دنیا کے ایک کنارے بیٹھا شخص دنیا کے دوسرے کنارے پر رہنے والے انسان سے نہ صرف ہم کلام ہونے لگا بلکہ ٹیلی کانفرنسنگ   (Tele Conferencing)   کے ذریعے اس کے جذباتی تغیرات کے نشان بھی چہرے پر تلاش کرنے لگا۔ ہزاروں   میل کی دوری کی بورڈ   ( Key board)   پر انگلیوں   کی ذرا سی جنبش کے ذریعے طے ہونے لگی۔ اس طرح ٹیکنالوجی کی اس انقلابی دنیا کو سائبر اسپیس   (Cyberspace کا نام دیا گیا۔

سائبر اسپیس ‘‘Cyberspace کیا ہے؟

سائبر اسپیس عہدِ حاضر کا وہ خزانہ ہے جہاں   علوم و فنون اور معلومات کا ذخیر ہ پنہاں   ہے،  یہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس سے ہم آہنگی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔آج کے دور میں   علم کی وسعتیں   بے کنار ہیں   اور اس کی جہتیں   بھی تبدیل ہو چکی ہیں   ۔علم کے اس بحرِبے کنار   ([2]کا تصور اب بدل چکا ہے کیونکہ علم کا یہ سمندر زمین میں   نہیں  بلکہ خلاوٴں   میں   ٹھاٹھیں   مار رہا ہے۔ یہ سمندر آج کی دنیا کی ایسی ضرورت بن گیا ہے کہ اگر اس کی موجوں   کے تلاطم   (آپس میں   شدت سے ٹکرانے)   سے کوئی تہذیب،  خطہ،  ملک یا قوم آشنا نہ ہوئی تو شاید اس عالمی گاؤں     (Global village میں   اس کی حصہ داری نہ رہے۔ جی ہاں  ! سٹیلائٹ   (Satellite)   کے نظام پر مبنی تیزی سے گامزن دنیا کی تمام تر معلومات اور تمام تر امکانات اسی سمندر کی گہرائیوں   میں   پنہاں   ہیں  ۔ اس سمندر سے موتی وہی چُن کر لائیں   گے جو غوطہ خور ہوں   گے۔ عہدِ حاضر کی تمام ترقی اور تنزلی اسی سے منسوب ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گھبرانے کی کوئی بات نہیں   کیونکہ اس مضطرب اور تلاطم خیز سمندر تک رسائی آپ کی انگلی کے پوروں     (Finger Tips)   سے ہو سکتی ہے۔ بس کمپیوٹر   (computer)   آن کریں   اور کلیدی تختے   (Key Board  پر انگلی رکھ کر دنیا اور دنیا کے تمام علوم و فنون اور ممکنہ معلومات آپ گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں  ۔ یہی تو خلاوٴں   میں   علم کا ٹھاٹھیں   مارتا سمندر اور سائبر اسپیس   (Cyberspace ہے۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  تبلیغ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی نے اصلاحِ امت کے لئے دنیا بھر میں   اسلام کی بہاریں   لٹانے کے لئے جو مُتَعدِّد مجالس اور شعبے قائم کر رکھے ہیں   ان میں   سے ایک مجلس آئی ٹی بھی ہے جس کا کام دنیا بھر سے سائبر اسپیس   (Cyberspace یعنی خلا میں   



[1]    ۔یعنی کسی بات ، پیغام ، خیال وغیرہ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا یا بھیجنا۔

[2]    ۔یعنی ایسا سمندر جس کا کوئی کنارہ نہیں۔



Total Pages: 157

Go To