Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

ہر روز میں   قراٰن پڑھوں   کاش خدایا

اللہ  ! تلاوت میں   مرے دل کو لگا دے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

٭٭٭٭

  (5  مدرسۃُ المد ینہ آن لائن

شَوَّالُ الْمُکَرَّم ۱۴۳۲؁ھ بمطابق ستمبر 2011؁ء مجلس مدرسۃُ المدینہ آن لائن کا قیام عمل میں   لایاگیا۔اس شعبہ کے تحت دنیا بھر سے مسلمان انٹرنیٹ کے ذریعے نہ صرف دُرست مخارج کے ساتھ فی سبیل اللہ  قرآنِ پاک پڑھنا سیکھتے ہیں   بلکہ بنیادی اسلامی تعلیمات وضو،  غسل،  تیمم،  اذان،  نماز،  زکوٰۃ،  روزہ اور حج وغیرہ کے احکامات سکھانے کی ترکیب بھی ہے۔ اس کے ذریعے درسِ نظامی کروانا بھی ہدف میں   شامل ہے۔

دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ   (www.dawateislami.net  پر اس شعبے کا تعارف اور داخلہ فارم   (Admission Form موجود ہے۔ مدرسۃُ المدینہ آن لائن میں   داخلہ کے خواہشمند اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ   (Website کا وِزٹ   (Visit فرمائیں  ۔ فی الحال یہ سہولت فقط بیرونِ ملک مقیم اسلامی بھائیوں   کے لیے ہے۔

٭…٭…٭…٭

   (6 دارُ المدینہ

سرکارِ مدینہ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے:  طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ یعنی علم کا حاصل کرناہر مسلمان پر فرض ہے۔   ([1]یہاں   اسکول کالج کی دُنیوی تعلیم نہیں   بلکہ ضروری دینی علم مُراد ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے بنیادی عقائد کا سیکھنا فرض ہے،  اس کے بعدنَماز کے فرائض و شرائط و مفسدات،  پھر رَمضانُ المبارَک کی تشریف آوری پر فرض ہونے کی صورت میں   روزوں   کے ضَروری مسائل،  جس پر زکوٰۃ فرض ہو اُس کے لئے زکوٰۃ کے ضَروری مسائل،  اسی طرح حج فرض ہونے کی صورت میں   حج کے،  نکاح کرنا چاہے تو اس کے ، تاجر کو خرید و فروخت کے، نوکری کرنے والے کو نوکری کے،  نوکر رکھنے والے کو اجارے کے،  وَ علٰی ھٰذا الْقیاس   (یعنی اور اسی پر قِیاس کرتے ہوئے)   ہر مسلمان عاقِل و بالِغ مردو عورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عَین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔ نیز مسائلِ قلب   (باطِنی مسائل)   یعنی فرائضِ قَلْبِیہ   (باطِنی فرائض)   مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہ اوران کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلاً تکبُّر،  ریاکاری، حَسَد وغیرہ اوران کا علاج سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔ مُہلکات یعنی ہلاکت میں   ڈالنے والی چیزوں   جیسا کے جھوٹ،  غیبت،  چغلی،  بہتان وغیرہ کے بارے میں   ضَروری معلومات حاصل کرنا بھی فرض ہے تاکہ ان گنا ہوں  سے بچا جا سکے۔   ([2]

بدقسمتی سے مسلمانوں   کی ایک بہت بڑی تعداد فرض علوم سے ناآشنا ہے۔ مروجہ اسکولز،  کالجز اور یونیورسٹیوں   کا نظام فرض دینی علوم سے دور ہے پھر وہاں   کا غیرشرعی ماحول مسلمانوں   کی نسلوں   کو سنوارنے کے بجائے بگاڑنے میں   اہم کردار ادا کررہا ہے۔ جدید اور عصری تعلیم کے اداروں   میں   داخل ہو کر مدنی منے اور منیاں   اپنی اسلامی شناخت کھو دیتے ہیں  ۔ کیونکہ یہ عام مشاہدہ ہے کہ جدید اور عصری تعلیم کے اداروں   میں   یونیفارم کے نام پر غیرمسلموں   جیسا لباس پہننا ضروری سمجھا جاتا ہے گویا اس یونیفارم کے بغیر جدید اور عصری تعلیم کا حصول ممکن ہی نہیں  ۔

اسی طرح اسلامی روایات و تعلیمات کے برعکس اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے ہیلو،  ہائے اور رخصت ہوتے وقت ٹاٹا اور بائے بائے کہنا تعلیم یافتہ ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جدید اور عصری علوم و فنون کے معروف اداروں   میں   وردی   (Uniform  اور تہذیب کے نام پر جو بے حیائی و بے پردگی



[1]    ابن ماجہ ،  الحدیث: ۲۲۴،  ج ۱، ص  ۱۴۶

[2]    تفصیل کیلئے دیکھئے فتاویٰ رضویہ،  ج۲۳،  ص۶۲۳، ۶۲۴



Total Pages: 157

Go To