Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے اپنے مخصوص انداز میں   امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ان گراں   مایہ خدماتِ جلیلہ کو بیان کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ ۱۴۰۱ھ میں   امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعوتِ اسلامی کا جو چراغ جلایا آج اس کی روشنی پوری دنیا میں   پھیل چکی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت یہ لاکھوں   عاشقانِ رسول کا ٹھاٹھیں   مارتا سمندر ہے۔ نیز آپ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری امت کو اُخروی کامیابی کے حصول کے لیے زندگی کے جس شعبے میں   بھی رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوئی امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس کے لیے رُشد و ہدایت کے مدنی پھول عطا فرماتے گئے اور یوں   ہر شعبہ ہائے زندگی کے لیے دعوتِ اسلامی کے تحت بھی ایک الگ شعبہ بنتا گیا۔ حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے اپنے اس بیان میں   امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمات کے حوالے سے دعوتِ اسلامی کے تقریباً 35شعبوں   کا تعارف پیش کیا مگر تادمِ تحریر یہ شعبے 35 سے بڑھ کر 63 بلکہ اس سے بھی زائد ہو چکے ہیں  ۔ چنانچہ ان تمام شعبہ جات کا تعارف مع مدنی پھول احاطۂ تحریر میں   لانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ سعادت مجلس المدینۃُ العلمیہ کے شعبہ رسائلِ دعوتِ اسلامی کے حصے میں   آئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ! متعلقہ شعبہ کے اسلامی بھائیوں   نے بڑی جانفشانی سے اس کتاب میں   دعوتِ اسلامی کے تادمِ تحریر قائم تمام شعبہ جات و مجالس کی اہمیت و افادیت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہماری اس کاوش کو قبول فرمائے،  اس میں   جو بھی خوبیاں   ہیں   وہ یقیناً اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عطاؤں  ،  اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی عنایتوں   اور شیخ طریقت،  امیر اہلسنت،  بانی  دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی پُرخلوص دعاؤں   کا نتیجہ ہے اور جو خامیاں   ہیں   ان میں   ہماری کوتاہ فہمی کا دخل ہے۔

دار الافتاء اھلسنت کے اسلامی بھائیوں   کے علاوہ نگرانِ مجلس المدینۃُ العلمیہ اور نگرانِ پاکستان انتظامی کابینہ نے نہ صرف اس کتاب کا مطالعہ فرمانے کے بعد تحسین سے نوازا بلکہ مفید مدنی پھول بھی عطا فرمائے جن کی مہک سے واقعی مدنی گلدستہ تیار ہو گیا۔

اس کتاب میں   امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی دینی خدمات کا صرف ایک عکس بیان کیا گیا ہے کیونکہ آپ کی خدماتِ جلیلہ کو اگرچہ کما حقہ بیان کرنا ناممکن تو نہیں   مگر مشکل ضرور ہے کیونکہ ان میں   دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اس کتاب کو ترتیب دیتے ہوئے درج ذیل اُمور کا خاص خیال رکھا گیا ہے:

٭…  امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی عظیم دینی خدمات کا جائزہ لینے کے لیے بنیادی طورپر انہیں   8حصوں   میں   تقسیم کیا گیا ہے:   (1 تبلیغی و اصلاحی خدمات   (2 اجتماعی و تربیتی خدمات   (3 علمی خدمات   (4)  ابلاغی خدمات   (5 معاشرتی خدمات   (6 فلاحی خدمات   (7 انتظامی خدمات   (8 متفرق خدمات۔

٭…  ہر شعبے کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس کی ضرورت و حاجت اور اغراض و مقاصد بھی بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

٭…  بیان کردہ آیاتِ مبارکہ کا ترجمہ اعلیٰ حضرت،  امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے ترجمۂ قرآن کنز الایمان سے لیا گیا ہے۔

٭…  بیان کردہ احادیث مبارکہ کی تخریج کا حتی المقدور اہتمام کیا گیا ہے۔

٭…  بعض مقامات پر مفیدحواشی کا اہتمام کیا گیا ہے۔

٭…  مشکل الفاظ کے معانی بریکٹ میں   لکھ دیئے گئے ہیں  ۔

٭…  کئی الفاظ پر اعراب بھی لگائے گئے ہیں  ۔

٭…  علاماتِ ترقیم   (رُموزِاوقاف)   کابھی خیال رکھا گیاہے ۔

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   دعا ہے کہ ہمیں   اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کوشش کرنے کے لئے مدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافلوں   میں   



Total Pages: 157

Go To