Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں   عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے،  اِن تمام اُمور کو بحسنِ خوبی سر انجام دینے کے لئے مُتَعَدَّد مجالس کا قیام عمل میں   لایا گیا ہے جن میں   سے ایک مجلس  ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘  بھی ہے جو دعوتِ اسلامی کے عُلما و مُفتیانِ کرام کَثَّرھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی پر مشتمل ہے،  جس نے خالص علمی،  تحقیقی او راشاعتی کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔

اس کے مندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں  :

  (۱)  شعبۂ کتُبِ اعلیٰ حضرت   (۲)  شعبۂ درسی کُتُب 

  (۳)  شعبۂ اصلاحی کُتُب          (۴)  شعبۂ تراجمِ کتب

  (۵)  شعبۂ تفتیشِ کُتُب          (۶)  شعبۂ تخریج

 ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘  کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلیٰ حضرت اِمامِ اَہلسنّت،  عظیم البَرَکت،  عظیم المرتبت،  پروانۂ شمعِ رِسالت،  مُجَدِّدِ دین و مِلَّت،  حامیٔ سنّت،  ماحیٔ بِدعت،  عالِمِ شَرِیْعَت،  پیرِ طریقت،  باعثِ خَیْر و بَرَکت،  حضرتِ علاّمہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی گِراں   مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں   کے مطابق حتَّی الْوَسْعْ سَہْل اُسلُوب میں   پیش کرنا ہے۔ تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں   اِس عِلمی،  تحقیقی اور اَشاعتی مدنی کام میں   ہر ممکن تعاون فرمائیں   اور مجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں   اور دوسروں   کو بھی اِس کی ترغیب دلائیں  ۔

اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘  کی تمام مجالس بَشُمُول  ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘  کو دن گیارہویں   اور رات بارہویں   ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اخلاص سے آراستہ فرما کر دونوں   جہاں   کی بھلائی کا سبب بنائے۔ ہمیں   زیرِ گنبدِ خضرا شہادت،  جنّت البقیع میں   مدفن اور جنّت الفردوس میں   جگہ نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

   

رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ

پہلے اسے پڑھئے

ماہِ اکتوبر کی وہ پر رونق بہاریں   کیسی سہانی تھیں   جب ملک کے کونے کونے سے عاشقانِ رسول مدینۃ الاولیا   (ملتان)   کی طرف کشاں   کشاں   رواں   دواں   تھے،  دنیا بھر سے لوگوں   کا ایک ٹھاٹیں   مارتا سمندر امڈا چلا آ رہا تھا،  مگر کس لیے اور کیوں   یہ لوگ صحرائے مدینہ میں   اکٹھے ہو رہے تھے،  انہیں   کس شے کی طلب نے یہاں   آنے پر مجبور کیا؟  کیا انہیں   یہاں   سے کوئی مال و دولت ملنے کی توقع تھی؟  یا اس کی کوئی دوسری وجہ تھی؟  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! وجہ کوئی بھی ہو مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ لاکھوں   عاشقانِ رسول نے صرف ایک ہستی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے مدینۃ الاولیا   (ملتان)   کا رخ کر لیا تھا اور وہ ہستی پندرھویں   صدی کی عظیم روحانی و علمی شخصیت،  شیخِ طریقت،  امیرِ اہلسنّت،  بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تھی۔

جب یہ لاکھوں   عاشقانِ رسول امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی پکار پر اپنی محبتوں   اور عقیدتوں   کے پھول نچھاور کرتے ہوئے مدینۃ الاولیا   (ملتان)   کے صحرائے مدینہ میں   اکٹھے ہوئے تو مبلغِ دعوتِ اسلامی و نگران مرکزی مجلسِ شوریٰ حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نےاس موقع پر شیخ طریقت،  امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمات سراپا با برکت میں   ہدیہ تبریک کچھ یوں   پیش کیا کہ تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدینۃ  الاولیا   (ملتان)   میں   ہونے والے اس عظیم الشان بین الاقوامی سنتوں   بھرے اجتماع میں   شریک لاکھوں   عاشقانِ رسول کے سامنے امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کارہائے نمایاں   بیان فرمائے۔

 



Total Pages: 157

Go To