Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Deeni Khidmat

وَ  لْتَكُنْ  مِّنْكُمْ  اُمَّةٌ  یَّدْعُوْنَ  اِلَى  الْخَیْرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الْمُفْلِحُوْنَ  (۱۰۴)   ترجمۂ کنز الایمان:  اور تم میں   ایک گروہ ایسا ہونا چاہے کہ بھلائی کی طرف بلائیں   اور اچھی بات کا حکم دیں   اور بُری سے منع کریں   اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے۔    (پ۴،  اٰلِ عمران:۱۰۴) 

اِس آیتِ مُقَّدسہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے مُفَسّرِشہیر،  حکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان تفسیرِ نعیمی جلد 4صَفْحَہ 72 پر فرماتے ہیں   :  ’’ اے مسلمانو! تم سب کو ایسی جماعت ہونا چاہئے یا ایسی جماعت بنو یا ایسی جماعت بن کر رہو جو ٭… تمام ٹیڑھے لوگوں   کو خَیر   (یعنی بھلائی)   کی دعوت دے ٭… کافروں   کو ایمان کی ٭… فاسِقوں   کو تقوے کی ٭… غافِلوں   کو بیداری کی ٭… جاہِلوں   کو عِلم ومَعرِفَت کی ٭… خشک مِزاجوں   کو لذّتِ عِشق کی ٭… سَونے والوں   کو بیداری اور اچّھی باتوں   ٭… اچّھے عقیدوں   ٭… اچّھے عملوں   کا زَبانی،  قلمی،  عملی،  قوّت سے،  نرمی سے   (اور حاکِم،  مَحکوم کو)   گرمی سے حُکم دے اور بُری باتوں  ،  بُرے عقیدے،  بُرے کاموں  ،  بُرے اِرادوں  ،  بُرے خیالات سے لوگوں   کو زَبان،  دِل،  قلم،  تلوار سے   (اپنے اپنے منصب کے مطابِق)   رَوکے۔ ‘‘

 ’’ مدنی قافلہ ‘‘  کے نو حروف کی نسبت سے راہِ خدا میں   سفر کرنے کی ترغیب پر مشتمل   (9)   روایات:

  (1 جو آدمی علم تلاش کرنے کے لیے کسی راستہ پر چلے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔  ([1]

  (2  ’’ اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ! ہمارے خُلَفَا پر رحم فرما۔ ‘‘  عرض کیا: یا رسولَ اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ کے خُلَفَا کو ن ہیں  ؟  فرمایا:  ’’ جو میرے بعد آئیں   گے اور میری احادیث اور سنتیں   بیان کریں   گے اورلوگوں   کو سکھائیں   گے۔ ‘‘    ([2]   (3 جو شخص علم کی تلاش میں   نکلے وہ لوٹ آنے تک راہِ خدا کا مسافر ہے۔   ([3]

  (4 جس نے علم کا ایک باب اس لیے سیکھا کہ لوگوں   کو اس کی تعلیم دے گا تو اُسے ستر صدیقین کا ثواب عطاکیا جائے گا۔  ([4]

  (5 اِنَّ الدَّالَّ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ بے شک نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔  ([5]

   (6 افضل صدقہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان علم حاصل کرے،  پھر اپنے مسلمان بھائی کو علم سکھائے۔   ([6]

  (7 جو صبح مسجد میں   صرف نیکی سیکھنے یا سکھانے کی نیت سے گیا اس کے لیے مکمل حج کرنے والے کی طرح اجر ہے۔([7]

  (8 کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں   جو بھلائی کے پھیلنے اوربرائی کوروکنے کا ذریعہ ہوتے ہیں   اورکچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں   جو برائی پھیلنے اوربھلائی میں   رکاوٹ کا ذریعہ ہوتے ہیں  ۔ سومبارک ہے ان لوگوں   کے لیے جنہیں   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے خیر و بھلائی کے پھیلنے کا ذریعہ بنایا اورہلاکت ہے ان لوگوں   کے لیے جو برائی پھیلنے کا سبب ہو گئے۔     ([8]

  (9 جس نے ہدایت وبھلائی کی دعوت دی اسے اس بھلائی کی پیروی کرنے والوں   کے برابر اجر ملے گا اوراُن کے ثواب میں   کوئی کمی نہ ہوگی



[1]    مسلم، کتاب الذکر والدعاء،  باب فضل الاجتماع   الخ، الحدیث:۲۶۹۹،  ص۱۴۴۸

[2]    المعجم الاوسط،  الحدیث:۵۸۴۶، ج۴، ص ۲۳۹

[3]    الترمذی،  کتاب العلم،  باب فضل طلب العلم، الحدیث:۲۶۵۶، ج۴، ص۲۹۵

[4]    الترغیب والترھیب، کتاب العلم،  باب الترغیب فی العلم...إلخ،  الحدیث:۱۱۹، ج۱،  ص۶۸

[5]    الترمذی،  کتاب العلم،  باب ماجاء الدال   الخ، الحدیث:۲۶۷۹، ج۴، ص۳۰۵

[6]    ابن ماجہ، کتاب السنۃ،