Book Name:Anokhi Kamae

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

 {۷} نمازوں کی پابندی نصیب ہوگئی

           بابُ المدینہ(کراچی)کے علاقہ پراناگولی مار کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ اور مشکبار مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں بہت ماڈرن لڑکی تھی، علمِ دین سے کوئی لگاؤ نہ تھا، دنیا کی رنگینیوں میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہمَعَاذَاللہ نمازیں قضا ہونے کا بھی احساس نہ تھا میری نیکیوں سے ناآشنا زندگی میں بہار کچھ اس طرح آئی کہ میرے محلّے کی ایک اسلامی بہن وقتاًفوقتاً نیکی کی دعوت عام کرنے کا جذبہ لئے ہمارے گھر تشریف لاتیں اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے تحت  ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کرتیں ، مدنی ماحول کی مدنی بہاریں سناتیں ، مدنی کام کرنے کا جذبہ دلاتیں لیکن میں ہربارحیلے بہانوں کا سہارا لیتے ہوئے انہیں ٹال دیا کرتی۔ ایک دن جب وہ مبلغہ اسلامی بہن ہمارے گھر تشریف لائیں اور نیکی کی دعوت دی تو نجانے کیوں میرا دل ان کی جانب جھکتا چلا گیا، میں نے نیکی کی دعوت سنی، مبلغہ اسلامی بہن کے منہ سے نکلنے والے پُرتاثیر الفاظ میرے دل و دماغ پر نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت تحریر کرتے چلے گئے۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے جونہی اجتماع میں شرکت کی دعوت دی تو میں نے فوراً  لبّیک کہتے ہوئے شرکت کی  ہامی بھر لی۔جب میں نے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی تووہاں کی درودوسلام سے مملو فضاؤں میں مجھے بہت روحانی سکون ملا۔اجتماع کے اختتام پر رقّت انگیز دعا ہوئی تو میری آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی بندھ گئی اوریوں اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّمجھے اس سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی برکت سے فیشن پرستی اور دیگر گناہوں سے توبہ کرنے کی سعادت نصیب ہوگئی۔ اپنی توبہ پر استقامت پانے اوراپنے آپ کو گناہوں سے بچانے، سنّتوں بھری زندگی اپنانے کے لیے میں نیشیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ 63 مَدَنی اِنعامات پرعمل کرنا شُروع کردیا ۔ اس کے بعد تو گویا چمنِ حیات میں بہارآگئی، مدنی ماحول کی برکت سے جہاں مجھے نمازوں کی پابندی نصیب ہوئی وہیں فیشن پرستی سے نجات بھی مل گئی۔ تادمِ تحریر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہوں اور ہر منگل کو ہونے والے علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں بھی ضرور شرکت کرتی ہوں ، اب میری دلی خواہش ہے کہ اے کاش! مَدَنی ماحول میں رہتے ہوئے زندگی تمام ہو جائے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مجھے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی غلامی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں استقامت عطا فرمائے ۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

  {۸} بے پردگی سے نجات مل گئی

          ٹیکسلا (ضلع راولپنڈی ، صوبہ پنجاب) میں مقیم ایک اسلامی بہن کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میری عملی حالت انتہائی اَبتَر تھی۔نت نئے فیشن اپنانے ، گانے باجے سننے اور بے پردگی جیسے گناہوں میں گرفتار تھی نیز غصہ اور چِڑچِڑاپن بھی میری عاداتِ بدمیں شامل تھا ۔ میری زندگی میں مدنی انقلاب کچھ یوں برپا ہوا کہ ایک دن دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ  ایک اسلامی بہن نے مجھے نیکی کی دعوت دی اورانفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا ذہن دیا۔ ان کی زبان میں ایسی تاثیر تھی کہ میں انکار نہ کرسکی اور تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں جا پہنچی۔  تلاوت و نعت شریف کے بعد ہونے والا سنّتوں بھرا بیان تو بڑا دلنشین اور پُر تاثیر تھا۔ پھر ذکرُ اللہ  کی صداؤں اور رو رو کر کی جانے والی رِقّت انگیز دُعاؤں نے مجھے بَہُت متأثر کیا ۔  اجتماع میں ہونے والے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے میرے بے قرار دل کوبہت سکون ملا ۔وہ دن اور آج کا دن! میں دعوتِ اسلامی والی بن گئی ، اس اجتماع میں شرکت سے پہلے مَعَاذَ اللہ میں  بے پردگی جیسے گناہ میں گرفتار تھی، مگراَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ سنّتوں بھرے اجتماع میں



Total Pages: 11

Go To