Book Name:Anokhi Kamae

میں ڈوب رہی تھی، میری اصلاح کا سبب ایک اسلامی بہن کی انفرادی کوشش بنی۔ہوا کچھ یوں کہ ہمارے علاقے کی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ کچھ اسلامی بہنیں ہمارے گھر نیکی کی دعوت دینے آیا کرتی تھیں ، میں ان کی باتوں کی طرف کوئی توجہ نہ دیتی اورسُنی اَن سُنی کردیتی۔ بلکہ بعض اوقات تو مَعَاذَاللہ ان کی باتوں کا مذاق بھی اڑاتی مگر نیکی کی دعوت کے جذبے سے سرشار وہ اسلامی بہنیں کبھی ناراض نہ ہوتیں شاید انہوں نے مجھے سُدھارنے کا عزم بالجزم کر لیا تھا۔ان کی مسلسل انفرادی کوشش سے میری بہن نے دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ للبنات میں داخلہ لے لیا میں چونکہ قراٰنِ مجید درست پڑھنا جانتی تھی اس لئے مدرسۃ المدینہ کی ناظمہ نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے مدرسۃ المدینہ للبنات میں پڑھانے کا ذہن دیا، میں نے والدین سے اجازت لے کر پڑھانے کی ترکیب بنالی۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّمدنی ماحول کی برکت سے میں نے کچھ ہی عرصے میں مدنی برقع پہن لیا۔ مدنی ماحول میں آنے سے پہلے مجھے دعوتِ اسلامی سے کچھ خاص محبت نہ تھی، مگر اب میری نَس نَس میں دعوتِ اسلامی کی محبت گھر کر گئی ہے کیونکہ اسی مدنی ماحول کی برکت سے ہی تو میری فیشن پرستی اور دیگر گناہوں کی عادت ختم ہوئی ہے ۔تادمِ تحریر میں حلقہ مشاورت کی ذمہ دار کے طور پر دعوتِ اسلامی کے مدنی کام سر انجام دے رہی ہوں۔

نہ چھوٹے ہاتھ سے دامن کبھی عطار کا یارب

بنادے با حیا تو واسطہ سرکار کا یارب

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!            صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

 {۶} گناہوں بھری زندگی سے نجات

           بابُ المدینہ(کراچی) میمن سوسائٹی میں رہائش پذیر ایک اسلامی بہن کے بیان کا لُبّ لباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول میں آنے سے قبل میں بہت بگڑی ہوئی تھی ۔میرے شب و روز اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی نافرمانی میں بسر ہو رہے تھے ، ناچ گانوں کاجنون کی حد تک شوق تھا، قرب و جوار میں ہونےوالی شادی بیاہ کی تقریبات میں مجھے گانے اور ڈانس کے لیے بلایا جاتا۔ سینکڑوں گانے مجھے نہ صرف زبانی یاد تھے بلکہ ان میں سے ہر گانے پر ڈانس بھی کر سکتی تھی۔ان ہی بے ہودگیوں میں میری زندگی کا ایک حصہ ضائع ہوچکا تھا ، وہ تو قسمت اچھی تھی کہ ایک دن دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ایک باپردہ اسلامی بہن سے ملاقات ہوگئی ، انہوں نے شفقت فرماتے ہوئے نیکی کی دعوت کے دوران گناہوں سے بچنے کا ذہن دیا، ان کی دعوت کی برکت سے قبرو آخرت کی تیاری کا ذہن بنا، دل پر چھائی گناہوں کی تاریکیاں چھٹنے لگیں اور میرے دل کا آبگینہ صاف وشفاف ہونے لگا۔مزید شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے پُر تاثیر بیان کا تحریر ی گلدستہ بنام ’’  گانوں کے 35 کفریہ اشعار ‘‘   پڑھنے کی سعادت میسر آگئی ، جس میں گانے باجوں کے عذابات اور کفریہ اشعار کے بارے میں پڑھ کر خوفِ خداسے کانپ اٹھی، گناہوں پر ندامت ہونے لگی، میں نے فوراً سے پیشتر ناچ گانوں اور دیگرگناہوں سے سچی توبہ کی اور گناہوں بھری زندگی چھوڑکر نیکیوں کی راہ اپنا لی ۔ ایک اسلامی بہن کی انفرادی کوشش کے نتیجے میں مدرسۃ المدینہ (بالغات )میں شرکت کرنا شروع کردی، جہاں قراٰنِ مجید درست مخارج سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ وضو، نمازا ورطہارت وغیرہ سے متعلق بھی اہم باتیں سیکھنےکاموقع ملتا ۔ایک دن ہماری معلّمہ اسلامی بہن نے عام فہم اندازمیں نماز کا طریقہ سکھایا تو بہت سی اہم باتوں کا پتاچلا اور میری کئی خامیاں دور ہو ئیں۔ وقتاً فوقتاً ملنے والی نیکی کی دعوت کی برکت سے دن بدن دعوتِ اسلامی کی محبت میرے دل میں بڑھتی چلی گئی ، اچھی عادات واخلاق کی خوشبوؤں سے میراظاہر وباطن مہکنے لگا، فضولیات ولغویات سے جان چھوٹ گئی، ذکرودرودمیری زبان پرجاری ہو گیا اب مجھے ایک روحانی سکون کا احساس ہونے لگا ۔تادمِ تحریراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں مدنی ماحول میں ترقی کرتے کرتے علاقائی سطح پر اجتماع ذمّہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں میں مصروف ہوں۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

 



Total Pages: 11

Go To