Book Name:Anokhi Kamae

عَزَّوَجَلَّ  اسی دن میں نے بے پردگی اور اپنے سارے گناہوں سے سچی توبہ کی اور نیٹ سسٹم کو ہمیشہ کے لیے بند کردیا ۔ ان اسلامی بہن کے ساتھ دعوت ِاسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں جانا شروع کردیا، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ سے بیعت ہوگئی ، مدنی برقع پہن لیا اورشیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی مقصد ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے  ‘‘ کے تحت نیکی دعوت کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوگئی۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر علاقائی دورہ کی ذمہ دار کی حیثیّت سے مدنی کاموں کی ترقی وعروج کے لیے کوشاں ہوں۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!            صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

 {۲} انفرادی کوشش کی برکت

        بابُ المدینہ(کراچی)میں رہائش پذیر ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل ہمارے گھر والے بدعملی کا شکار تھے ، گھر میں ہروقت فلمو ں ڈراموں اور گانے باجوں کی آوازیں گونجتی رہتی، سبھی گھر والے اپنی ’’  قبر کے امتحان ‘‘  کو بھلائے ’’ غفلت‘‘  کی چادر تانے اپنے ’’ انمول ہیرے ‘‘ ٹی وی دیکھتے ہوئے ضائع کر دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ گھرمیں بے سکونی اور ایک وحشت کی فضاقائم رہتی، گھر کی خواتین بی بی فاطمہ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کی اداؤں کو اپنا کر اپنی قبر وآخرت کو سنوارنے کے بجائے فلمی بے حیااداکاراؤں کی بے ہودہ حرکات وسکنات کے چنگل میں پھنسی ہوئی تھی۔ گھر کا ہر فرد فیشن کی دنیا میں سرگرداں تھا، کوئی ایک بھی تو ایسانہ تھا جو بارگاہِ الٰہی میں سربسجود ہونے کی سعادت پاتا ہو، نمازوں کی ادائیگی کا دور دور تک ذہن نہ تھا ، روزانہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے گھر سے منادی فلاح وکامیابی کی دعوت دیتا مگر ہمارے کان تو گانے باجے کے اس قدر عادی ہوچکے تھے کہ ان نورانی صداؤں کا کوئی اثر نہ ہوتا۔ الغرض ساراگھر گناہوں کی نحوست میں ڈوب چکا تھا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کو ترقی وعروج عطافرمائے جو اس پُرفتن دور میں لوگوں کو گناہوں کی دلدل سے نکالنے میں اہم کردار اداکررہی ہے ، خوش قسمتی سے ایک دن دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ایک باپردہ اسلامی بہن نے ہمارے گھر کے دروازے پر دستک دی، انہوں نے دل موہ لینے والے انداز میں سلام کرتے ہوئے اندرآنے کی اجازت طلب کی، اجازت ملنے پر وہ گھر میں داخل ہوئی اور گھر کی تمام خواتین کو قریب آنے اور نیکی کی دعوت سننے کی دعوت پیش کی۔ ان کی پُراثر زبان سے فکر آخرت کی باتیں سن کر دل میں ایک ہَلچَل سی مچ گئی، انہوں نے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوکر علم دین کی برکتیں سمیٹنے کا ذہن دیا، ان کی پرخلوص دعوت کی برکت یوں ظاہر ہوئی کہ ہم بہت جلد ہی سنّتوں بھرے اجتماع میں جانے لگیں ، اجتماع میں ہونے والے پرسوز بیانات اور رقت انگیز دعا ؤں نے دل پر چھائے غفلت کے پر دے چاک کر دیے، جس کے سبب گناہوں سے نفرت اورنیکیوں سے محبت ہوگئی، فلمیں ڈرامے گانے باجے دیکھنے سننے سے سبھی نے توبہ کرلی، نمازوں کی پابندی شروع کردی اور بے پردگی کو چھوڑ کر شرعی پردہ کرنے لگیں ، گھر میں سکون کی فضا قائم ہوگئی، ہمارا  سارا گھرانا سنّت کا گہوارہ بن گیا ، گھر کا ہر ایک فرد قبرو آخرت کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّتادمِ تحریر سب گھر والے دعوتِ اسلامی سے بے پناہ محبت کرتے اورمدنی کاموں کی ترقی وعروج کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ میرا چھوٹا بھائی مدرسۃالمدینہ میں حفظ کی سعادت پارہا ہے۔ یہ سب فیضانِ دعوت ِاسلامی ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی غلامی پر استقامت اور دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں رہ کر خوب خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

 {۳} گناہوں سے توبہ کرلی 

 



Total Pages: 11

Go To