Book Name:Anokhi Kamae

کہ ا نہوں نے قریب آتے ہی سلام کیا، پہلی ہی ملاقات میں اس قدر اپنائیت بھراانداز دیکھ کر میں بے حد متأثر ہوئی، مجھے کیا خبر تھی کہ یہ آنے والی باحیا اسلامی بہن مجھے گناہوں کے اس جنگل سے نکالنے کا سبب ثابت ہو گی، دورانِ گفتگو نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے مجھے بے پردگی کے دلدل سے نکلنے کی ترغیب دلاتے ہوئے وہ کہنے لگیں :  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّہم مسلمان ہیں ، ہمارا ہرکام اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کے لیے ہونا چاہئیے، ہمیں ہر اس کام سے اپنا دامن بچاناچاہئے جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ناراض ہو ، میری پیاری اسلامی بہن شریعت میں پردے کی بڑی اہمیّت ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمان عورتوں کو نامحرم مردوں سے پردہ کرنے کا حکم فرمایا ہے، اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ آپ ذرا غور تو فرمائیے یہاں کیسے کیسے لوگ آتے ہوں گے اور نجانے آپ کو کیسی کیسی نظروں سے گھورتے ہوں گے؟  میرا مشورہ ہے کہ آپ اس کام کو چھوڑ کر دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے۔ دورانِ گفتگو ہی انہوں نے بتایا کہ میں آپ کے ساتھ والے فلیٹ میں ہی رہتی ہوں۔ انکی پرخلوص نیکی کی دعوت سے میں متأثرتوہوئی مگر اپنی بری روش نہ چھوڑ سکی، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ اس اسلامی بہن نے میری فراغت کے اوقات جانچ لئے اور ایسے وقت میں ہی تشریف لاتیں جبکہ میں بالکل تنہا ہوا کرتی ۔وہ انفراد ی کوشش کے ذریعے میرا مدنی ذہن بناتیں ، کبھی اپنے پیرو مُرشد امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کا تذکرہ کرتیں تو کبھی دعوتِ اسلامی کی مدنی بہاریں بیان فرماتیں۔ ایک دن وہی خیر خواہ اسلامی بہن میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں : کہ میرے بچوں کے ابو باہر کھڑے ہوئے ہیں ، انہیں ضروری کال کرنی ہے، میں نے کہا:  انہیں اندر بلالیجیے، تو کہنے لگی:  وہ اندر نہیں آسکتے ۔میں نے کہا کیوں ؟ تواس باپردہ اسلامی بہن نے کہا:  ’’ پہلے آپ پردہ کیجیے پھر وہ اندر آئیں گے۔ ‘‘ مجھے اس بات سے حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ اس پُرفتن دور میں بھی شرم و حیا کا وصف رکھنے والے خوش نصیب موجود ہیں۔میں نے چہرے پر کپڑا ڈال لیا تو اسلامی بہن نے انہیں اندر آنے کو کہا : جونہی دروازہ کھلا، ان کے شوہر حیاسے نظریں جھکائے اندر داخل ہوئے ، انہوں نے سفید لباس پہن رکھا تھا اورسر پر سبزسبز عمامہ شریف سجا ہوا تھا ۔ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ میاں بیوی کی شرعی حدود کی محافظت دیکھ کر مجھے اپنی بے باکی اور گناہوں بھری زندگی پر افسوس ہونے لگا ، بے ساختہ میری آنکھیں پُر نم ہوگئیں او ر میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے :  ’’ یہ بھی تو مسلمان ہیں وہ مرد ہو کر بھی اس قدر شرم و حیا والا ہے اور میں ہوں کہ بے پردگی کے عظیم گناہ کا ارتکاب کرتی ہی چلی جا رہی ہوں۔ ‘‘  اس اسلامی بہن کے شوہر جتنی دیر فون کرتے رہے، انہوں نے ایک بار بھی میری طرف نظراٹھا کر نہ دیکھا ۔ان کے جانے کے بعدمیں ایک اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہوگئی۔آج پہلی بار شرم و حیااور اسلامی تعلیمات کی عملی تصویر دیکھ کر شمعِ فکرِ آخرت میرے دل میں فروزاں ہوگئی، جس کی کرنوں سے میرے تاریک دل کی دنیا روشن ومنور ہونے لگی، مجھے شدت سے اپنے گناہوں پرندامت ہونے لگی، خوفِ خداکا اس قدر غلبہ ہوا کہ اس اسلامی بہن کے جاتے ہی میں نے فوراًنیٹ کیفے بند کردیا اور اپنے کمرے میں آکر زور زورسے رونا شروع کردیا ، میں اپنی زندگی میں اتنا کبھی بھی نہ روئی تھی، میرے آنسو تھے کہ رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے حتی کہ کافی سارے ٹشو پیپر میرے آنسوؤں سے شرابور ہو گئے ۔ جوں جوں میری آنکھوں سے اشک بہہ رہے تھے میرے دل سے بے پردگی اور دوسرے گناہوں کامیل دُھل رہاتھا۔ اس دن آنے والے گاہگ نیٹ کیفے کا دروازہ بند پاکر واپس لوٹ گئے۔ شام کو جب میرے بچوں کے ابوگھر آئے تو میں نے کہا:  آج میں نے بہت سارے پیسے کمائے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا لاؤ میں بھی تو دیکھوں کتنے پیسے کمائے ہیں آپ نے؟  میں نے آنسوؤں سے بھیگے ٹشوپیپر کی صورت میں اپنی انوکھی کمائی لاکر ان کے سامنے رکھ دی۔وہ یہ دیکھ کر حیرانگی سے کہنے لگے : یہ کیاہے ؟   میں نے انتہائی درد بھرے انداز میں سارا واقعہ ان کے گوش گزار کر دیا۔ اس پر وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا : میں نیٹ کیفے بند کرنے کا فیصلہ کر چکی ہوں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ



Total Pages: 11

Go To