Book Name:Ajnabi Ka Tohfa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود پاک کی فضیلت

          شیخِ طریقت،  امیرِ اہلسنّت،  بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ اوراد ووظائف پر مشتمل اپنی مایہ ناز تالیف  ’’  مَدَنی پَنْج سُورَہ ‘‘ میں بحوالہ مَجْمَعُ الزَّوَائِد درود پاک کی فضیلت نقل فرماتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب،  دانائے غُیُوب،  مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ مُشکبار ہے :  ’’  جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا اللّٰہ تعالٰی اُس کی دونو ں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ نِفاق اور جہنَّم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قیامت شُہَدَاء کے ساتھ رکھے گا۔ ‘‘

(مَجْمَعُ الزَّوَائِد،  ۱۰/ ۲۵۳حدیث: ۱۷۲۹۸)

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!    صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد

 {1}  اجنبی کا تحفہ

          گوجرانوالہ (پنجاب،  پاکستان) کے شہر راہوالی کے محلہ چراغ پورہ کے رہائشی اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے : دعوت ِاسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میں طرح طرح کے گناہوں میں مست اپنی زندگی کے قیمتی لمحات ضائع کر رہا تھا،  دنیا کی محبت نے میرے دل کو اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا لڑکیوں سے دوستی اور بسا اوقات رات گئے تک فون پر ان سے باتیں کر کے اپنی شہوت کی تسکین کا سامان کیا کرتا تھا،  علاوہ ازیں فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے سننے کا بھی انتہائی شیدائی تھا،  گو کہ میرے پاس سات سو کے لگ بھگ گانوں کی کیسٹیں پہلے ہی موجود تھیں اس کے باوجود جب بھی کسی نئی کیسٹ کے بارے میں پتا چلتا تو یہ سوچ کر کہ مارکیٹ میں تو یہ کیسٹ آتے آتے ہی آئے گی میں ہول سیل والوں سے پہلے ہی خرید کر لے آتا،  دن بھر کھیل کود کے لئے کرکٹ کا میدان اور رات بھر آوارہ گردی کے لئے سڑکیں ،  ہوٹل اور گلی کوچوں کے چوراہے میرا مسکن تھے،  میں رات گئے تک گھر سے باہر رہتا یہاں تک کہ ہر طرف رات کی تاریکی اور سناٹا چھا جانے کے باوجود میرے گھر نہ پہنچنے پر والد صاحب کو اکثر و بیشتر میری تلاش میں نکلنا پڑتا حالانکہ امامِ مسجد ہونے کے ناطے اُنہیں نمازِ فجر پڑھانے کے لئے رات جلدی سونا ہوتا تھا مگر مجھے ان کے آرام میں خلل واقع ہونے کی کوئی فکر نہ تھی اور نہ ہی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ان کی عزت و وقار کے داغدار ہونے کا کچھ احساس ،  روز بروز اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتوں سے بیزار ہو کر والد صاحب نے بارہا مجھے اپنے پاس بٹھاکر سمجھاتےہوئے اس قسم کی حرکتوں سے باز رہنے کی نصیحت بھی کی مگر میں ایک کان سے سنتا اور دوسرے سے نکال دیتا۔ زندگی کے صبح و شام بظاہر بڑے حسین گزر رہے تھے لیکن در حقیقت قابلِ ندامت تھے،  وہ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا مجھ پر احسان ہوا کہ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت مدینۃ الاولیاء (ملتان) میں ہونے والے بین الاقوامی تین روزہ سنتوں بھرے اجتماع میں والد صاحب کے ساتھ جانے کی سعادت مل گئی ورنہ آخرت میں نجانے میرا کیا انجام ہوتا۔ اجتماع میں تلاوت،  نعت،  بیانات اور ذکر اللّٰہ سے میں بیحد متأثر ہوا اور بالخصوص آخر میں ہونے والی رقت انگیز دعا نے دل پر گہرا اثر کیا،  میری آنکھوں سے ندامت کے مارے ٹپ ٹپ گرنے والے آنسوؤں سے میرا دامن بھیگ گیا،  میں نے دورانِ دعا عہد کیا کہ آئندہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی والے کاموں سے بچوں گا اور نیک کام کروں گا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے کرم سے مجھے نیکیوں کی توفیق ملی اور میں نے نماز پڑھنا شروع کر دی،  دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے استقامت کی دولت بھی ملی اور مسلسل چار ماہ تک میری کوئی نماز قضا نہیں ہوئی مگر بد قسمتی سے ایک بار پھر برے دوستوں کی صحبت میں بیٹھنے لگا کہتے ہیں کہ ’’ صحبت اثر رکھتی ہے  ‘‘ لہٰذا میں ایک مرتبہ پھر گناہوں بھری زندگی گزارنے لگا،  گناہوں کی نحوست میرے نامۂ اعمال کو سیاہ کرنے لگی اور یوں رفتہ رفتہ میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے دور ہوتا چلا گیا۔ جب مدنی ماحول سے محرومی کو کافی طویل عرصہ بیت گیا توایک روز اتفاقاً ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی سے میری ملاقات ہوئی،  ایک دوسرے سے باہمی اجنبیت کے باوجود انہوں نے جب نہایت محبت کے



Total Pages: 10

Go To