Book Name:Madani Wasiyat Nama

ایک بار سارے بدن پر پانی بہانا فَرْض ہے اور تین بار سنت۔  (غسلِ میِّت میں  بے تحاشہ پانی نہ بہائیں آخرت میں  ایک قطرے قطرے کاحساب ہے یہ یاد رکھیں )

مرد کوکفَن پہنانے کا طریقہ

          کفن کو ایک یاتین یا پانچ یا سات بار دُھونی دے دیں۔ پھر اِس طرح بچھائیں  کہ پہلے لفافہ یعنی بڑی چادر اس پر تہبند اوراس کے اوپر کفن رکھیں ،  اب میِّت کو اِس پر لٹائیں  اور کَفْن  پہنائیں ،  اب داڑھی  (نہ ہو تو ٹھوڑی پر) اور تمام جسم پر خوشبو مَلیں ، وہ اعضاء جن پر سجدہ کیا جاتا ہے یعنی پیشانی ، ناک،  ہاتھوں ،  گھٹنوں  اور قدموں  پر کافور لگائیں۔ پھر تہبند اُلٹی جانب سے پھر سیدھی جانب سے لَپیٹیں  ۔ اب آخرمیں  لفافہ بھی اسی طرح پہلے الٹی جانب سے پھر سیدھی جانِب سے

 عورت کو کفن لَپیٹیں  تاکہ سیدھا اُوپر رہے۔ سَر اور پاؤں  کی طرف باندھ دیں۔ پہنانے کا طریقہ

           کَفْن پہنا کر اُس کے بالوں  کے دوحصّے کرکے کَفْن کے اوپر سینے پر ڈال دیں  اوراوڑھنی کو آدھی پیٹھ کے نیچے بچھا کر سر پر لاکر منہ پر نقاب کی طرح ڈال دیں  کہ سینے پر رہے۔ اِس کا طول آدھی پشت سے نیچے تک اور عَرْض ایک کان کی لوسے دوسرے کا ن کی لو تک ہو۔ بعض لوگ اوڑھنی اس طرح اڑھاتے ہیں  جس طرح عورتیں  زندگی میں  سر پر اوڑھتی ہیں  یہ خلافِ سنّت ہے ۔ پھر بدستور تہبند و لفافہ یعنی چادر لَپیٹیں۔  پھر آخر میں  سینہ بند پستان کے اوپر والے حصّے سے ران تک لاکرکسی ڈوری سے باندھیں۔   ([1])

بعد نَمازِ جنازہ تدفین    ([2])

     {۱}  جنازہقَبْر سے قبلے کی جانِب رکھنا مُسْتَحب ہے تاکہ میِّت قبلے کی طرف سے قَبْر میں  اتاری جائے۔  قَبْر کی پائِنْتی (یعنی پاؤں  کی جانِب والی جگہ) رکھ کر سَر کی طرف سے نہ لائیں  ([3])  {۲}  حسبِ ضَرورت دو یاتین  (بہتر یہ ہے کہ قَوی اور نیک) آدَمی َقَبْر میں  اُتریں  ۔  عورَت کی میِّت مَحارِم اُتاریں یہ نہ ہوں  تو دیگر رِشتے دار یہ بھی نہ ہوں  تو پرہیز گاروں  سے اُتر وائیں  ([4])   {۳}  عورت کی میِّت کواُتارنے سے لے کر تختے لگانے تک کسی کپڑے سے چُھپائے رکھیں   {۴}   قَبْر میں  اُتارتے وَقْت یہ دُعا پڑھیں :بِسْمِ اللہِ وَبِاللہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ  رَسُوْلِ اللہ  ([5])   {۵}  میِّت کو سیدھی کروٹ پر لِٹائیں  اور اُس کا مُنہ قبلے کی طرف کردیں اورکفن کی بندِش کھول دیں  کہ اب ضَرورت نہیں ، نہ کھولی تو بھی حَرَج نہیں   ([6])  {۶}   قَبْر کچّی اینٹوں   ([7]) سے  بند کردیں  اگر زَمین نَرْم ہو تو  ( لکڑی کے)  تختے لگانا بھی جائز ہے  ([8])  {۷}  اب مِٹّی دی جائے،  مستحب یہ ہے کہ سرہانے کی طرف سے دونوں  ہاتھوں  سے تین بار مٹّی ڈالیں۔ پہلی بارکہیں  مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ  ([9]) دوسری بار وَفِیْھَا نُعِیْدُ کُم ([10]) تیسری بار وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی ([11])  کہیں۔ اب باقی مِٹّی پھاؤڑے وغیرہ سے ڈال دیں   ([12])  {۸}  جتنی مِٹّی قَبْر سے نکلی ہے اُس سے زیادہ ڈالنا مکروہ ہے ([13])  {۹}  قَبْر اُونٹ کے کوہان کی طرح ڈھال والی بنائیں  چَوکُھونٹی  (یعنی چار کونوں  والی جیسا کہ آجکل تدفین کے کچھ روز بعد اکثر اینٹوں  وغیرہ سے بناتے ہیں ) نہ بنائیں  ([14])  {۱۰}   قَبْر ایک بالِشت اونچی



[1]      آج کل عورتوں کے کفن میں بھی لفافہ ہی آخر میں رکھا جاتا ہے تو اگر کفنی کے بعد سینہ بند رکھا جائے توبھی کوئی مضایقہ نہیں مگر افضل ہے کہ سینہ بند سب سے آخرمیں ہو۔   

[2]      جنازہ اُٹھانے اور اس کی نماز کا طریقہ ’’نماز کے اَحکام ‘‘میں مُلاحَظہ فرمائیے۔

[3]      بہارِ شریعت ج۱ص۸۴۴

[4]      عالمگیری ج ۱ ص۱۶۶

[5]      تنویر الابصار ج۳ص۱۶۶

[6]      عالمگیری ج۱ص۱۶۶،جوہرہ ص۱۴۰،

[7]    قبر کے اندورنی حصّے میں آگ کی پکّی ہوئی اینٹیں لگانا منع ہے مگر اکثر اب سیمنٹ کی دیواروں اور سلیب کا رواج ہے لہٰذا سیمنٹ کی دیواروں اور سیمنٹ کے تختوں کا وہ حصّہ جو اندر کی طرف رکھنا ہے کچی مِٹّی کے گارے سے لیپ دیں۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ مسلمانوں کو آگ کے اثر سے محفوظ رکھے۔  آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم ۔

[8]      بہارِشریعت ج۱ص۸۴۴

[9]      ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا۔

[10]      اور اسی میں تمہیں پِھرلے جائیں گے۔   

[11]      اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔

[12]      جوہرہ ص۱۴۱ ،  

[13]      عالمگیری ج۱ص۱۶۶،

[14]      رَدُّالْمُحتار ج۳ص۱۶۹،



Total Pages: 7

Go To