Book Name:Madani Wasiyat Nama

{۳۱}           وصیت ضَروری وصیّت: دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ساتھ ہر دم وفادار رہئے،  اس کے ہررکن اور اپنے ہر نگران کے ہر اس حکم کی اطاعت کیجئے جو شریعت کے مطابِق ہو شوریٰ یا دعوت اسلامی کے کسی بھی ذمّے دار کی بلااجازت شَرْعی مخالفت کرنے والے سے میں  بیزار ہوں ،  خواہ وہ میراکیساہی قریبی عزیز ہو ۔  

 {۳۲}         ہر اسلامی بھائی ہفتے میں  کم از کم ایک بار علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں  اوّل تا آخرشرکت کرے اور ہر ماہ کم از کم تین دن،  بارہ ماہ میں  30دن اور زندگی میں  یَکْمُشْتکم از کم بارہ ماہ کے لئے مَدَنی قافلے میں  سفرکرے۔  ہر اسلامی بھائی اور  ہر اسلامی بہن اپنے کردار کی اصلاح پر استقامت پانے کے لئے روزانہ فکر مدینہ کرکے ’’ مَدَنی انعامات‘‘  کا رِسالہ پر کرے اور ہر ماہ اپنے ذمّے دار کوجمع کروائے ۔  

 {۳۳} تاجدارِ مدینہ ، سرور قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیمَحَبّت وسنّت کاپیغام دنیا میں  عام کرتے رہئے۔  

 {۳۴}         بد عقیدگیوں  اور بد اعمالیوں  نیز دنیا کی بے جامَحَبّت،  مال حرام اورناجائز فیشن وغیرہ کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھئے۔ حسن اخلاق اور مَدَنی مٹھاس کے ساتھ نیکی کی دعوت کی دھومیں  مچاتے رہئے ۔

 {۳۵}     غصہ اور چڑچڑا پن کو قریب بھی مت پھٹکنے دیجئے ورنہ دین کا کام دشوار ہوجائے گا۔  

{۳۶}          میری تالیفات اور میرے بیان کی کیسٹوں  سے میرے ورثاء کو دنیا کی دولت کمانے سے بچنے کی مَدَنی التجا ہے ۔

 {۳۷}        میرے ’’ترکے‘‘  وغیرہ کے معاملے میں  حکم شریعت پر عمل کیا جائے۔  

 {۳۸}         مجھے جو کوئی گالی دے ، برا بھلا کہے، زخمی کردے یا کسی طرح بھی دل آزاری کا سبب بنے میں  اُسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے پیشگی معا ف کرچکا ہوں۔

 {۳۹}         مجھے ستانے والوں  سے کوئی انتقام نہ لے۔  

 {۴۰}         بالفرض کوئی مجھے شہید کردے تو میری طرف سے اُسے میرے حقوق معاف ہیں  ۔  ورثاء سے بھی درخواست ہے کہ اسے اپنا حق معاف کر دیں  ۔  اگر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت کے صدقے محشر میں  خصوصی کرم ہوگیا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے قاتل یعنی مجھے شہادت کا جام پلانے والے کوبھی جنت میں  لیتا جاؤں  گابشرطیکہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو۔  (اگر میری شہادت عمل میں  آئے تو اس کی وجہ سے کسی قسم کے ہنگامے اور ہڑتالیں  نہ کی جائیں۔ اگر ’’ ہڑتال‘‘ ا س کا نام ہے کہ زبردستی کاروبار بند کروایا جائے،  دکانوں  اور گاڑیوں  پر پتھراؤوغیرہ کیا جائے توبندوں  کی ایسی حق تلفیاں  کرناکوئی بھی مفتیِ اسلامجائز نہیں  کہہ سکتا ، اِس طرح کی ہڑتال حرام اور جہنّم میں  لے جانے والا کام ہے ۔  )

            کاش! گناہ بخشنے والا خدائے غفّار عَزَّ وَجَلَّ مجھ گنہگار کو اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طفیل معاف فرمادے۔ اے میرے پیارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !  جب تک زندہ رہوں  عشق رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں  گم رہوں  ، ذکر مدینہ کرتا رہوں ،  نیکی کی دعوت کیلئے کوشاں  رہوں ، محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت پاؤں  اور بے حساب بخشا جاؤں  ۔ جنَّتُ الفِردَوسمیں  پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پڑوس نصیب ہو ۔  آہ !   کاش!  ہر وقت نظّارۂ محبوب میں  گم رہوں۔  اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!  اپنے حبیب پر بے شمار درودو سلام بھیج، ان کی تمام امت کی مغفرت فرما۔  آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم یا الٰہی!  جب رضاؔ خواب گراں  سے سر اُٹھائے

دولت بیدار عشق مصطفٰے کا ساتھ ہو

  ’’ مَدَنی وصیّت نامہ‘‘  پہلی بارمُحَرَّمُ الحرام۱۴۱۱ھ مطابق 1990 ء مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً سے جاری کیا تھاپھر کبھی کبھی تھوڑی بہت ترمیم کی گئی تھی،  اب مزید   بعض ترامیم کے ساتھ حاضر کیا ہے۔  

                                                                                                                                                                                                                            غم مدینہ ،  بقیع ،

مغفر ت اوربے حساب

جنّت الفردوس میں

آقا کے پڑوس کاطالب

 



Total Pages: 7

Go To