Book Name:Madani Wasiyat Nama

جہاں  کی سعادتیں  ہی سعادتیں  ہیں۔ آہ!  ورنہ جہاں  مقدّر…

 {۱}     اگر عالَمِ نزع میں  پائیں  تواُس وقت کا ہر کام سنت کے مطابق کریں ، ممکنہ صورت میں  سیدھی کروٹ لٹا کر چہرہ قبلہ روکریں۔  یاسین شریف بھی سنائیں  اور کلمۂ طیّبہ سینے پر دم آنے تک مُسَلسَل بآواز پڑھاجائے۔

 {۲}    بعد قبضِ روح بھی ہر ہر معاملے میں  سنتوں  کا لحاظ رکھیں  ، مَثَلاًتجہیزو تکفین وغیرہ میں  تَعْجِیل  (یعنی جلدی)  اورزیادہ عوام اکٹھی کرنے کے شوق میں  تاخیر کرنا سنت نہیں۔  بہارِ شریعت حصہ4 میں  بیان کئے ہوئے احکام پر عمل کیا جائے ۔  خصوصاً تاکید اشد تاکید ہے کہ ہرگزنوحہ نہ کیاجائے کیوں  کہ یہ حرام اور جہنَّم میں  لے جانے والاکام ہے۔

 {۳}   قَبْر کا سائز وغیرہ سنّت کے مطابق ہو اورلحد بنائیں  کہ سنت   ([1]) ہے۔

 {۴}   اندرونِ قبر دیواریں  وغیرہ کچی مٹی کی ہوں ، آگ کی پکی ہوئی اینٹیں  استعمال نہ کی

              جائیں ، اگر اندر میں  پکی ہوئی اینٹ کی دیواریں  ضروری ہوں تو پھراندرونی حصہ مٹی کے گارے سے اچھی طرح لیپ دیا جائے۔  

 {۵}    ممکن ہو تو اندرونی تختوں  پر یاسین شریف، سورۃُ الملک اور درودِتاج پڑھ کر دم کر دیا جائے۔  

 {۶}    کفنِ مسنون خود سگ مدینہ عُفِیَ عنہُ کے پیسوں  سے ہو۔ حالتِ فقر کی صورت میں کسی صحیحُ الْعَقیدہ سنی کے مال حلال سے لیا جائے۔  

 {۷}   غسل بارِیش ، باعمامہ وپابند سنت اسلامی بھائی عین سنت کے مطابق دیں   (ساداتِ کرام اگرگندے وجود کوغسل دیں  تو سگ مدینہ  عُفِیَ عنہُ اسے اپنے لئے بے ادَبی تصور کرتا ہے)

 {۸}   غسل کے دَوران ستر عورت کی مکمَّل حفاظت کی جائے اگر ناف سے لے کر گھٹنوں  سمیت کتھی یا کسی گہرے رنگ کی دو موٹی چادریں  اُڑھا دی جائیں تو غالِبًا ستر چمکنے کا اِحتمال جاتا رہے گا۔ ہاں  پانی ظاہری جسم کے ہر حصے بلکہ روئیں  روئیں  کی جڑسے لے کرنوک پر بہنا لازِمی ہے۔

 {۹}    کفن اگر آب زم زم یا آب مدینہ بلکہ دونوں سے تر کیا ہوا ہو تو سعادت ہے۔  کاش!  کوئی سیِّد صاحب سر پر سبز عمامہ شریف سجادیں۔  ([2])

 {۱۰}   بعدِ غسل میِّت، کفن میں  چہرہ چھپانے سے قَبْل ، پہلے پیشانی پر اَنگُشْت شہادت سے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط   لکھئے۔  

 {۱۱}        اسی طرح سینے پر: لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 {۱۲}   دل کی جگہ پر: یا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 {۱۳} ناف اور سینے کے درمیانی حصہ کفن پر: یا غوثِ اَعظَم دستگیر رضی اللہ تعالٰی عنھ یا امام ابوحَنِیْفَہ رضی اللہ تعالٰی عنھ  یا اِمام اَحْمَد رضا رضی اللہ تعالٰی عنھیا شیخ ضیاء الدین رضی اللہ تعالٰی عنھ شہادت کی انگلی سے لکھیں۔

 {۱۴} نیز ناف کے اوپر سے لے کر سرتک تمام حصہ کفن پر  (علاوہ پشت کے)  ’’مدینہ مدینہ‘‘لکھا جائے ۔ یاد رہے ! یہ سب کچھ روشنائی سے نہیں  صرف اَنگُشْت شہادت سے لکھناہے اور زہے نصیب کوئی سیِّد صاحب لکھیں۔

 {۱۵} دونوں  آنکھوں  پرمدینۃُ المُنَوَّر ہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً  کی کھجوروں  کی گٹھلیاں  رکھ دی جا ئیں  ۔

 {۱۶}   جنازہ لے کر چلتے وقت بھی تمام سنتیں  ملحوظ رکھئے۔

 



[1]     قبر کی دو قسمیں ہیں (۱)  صندوق  (۲) لَحْد: لَحد بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ قبر کھودنے کے بعد میِّت رکھنے کیلئے جانب قبلہ جگہ کھودی جاتی ہے ۔  لَحد سنّت ہے اگر زمین اِس قابِل ہو تو یہی کریں اور اگر زمین نرم ہو تو صندوق میں مضایقہ نہیں ۔ ہو سکتا ہے گورکَن وغیرہ مشورہ دیں کہ سلیب اندرونی حصے میں ترچھی کر کے لگا لو مگر اس کی بات نہ مانی جائے۔  

[2]      صِرْف علماء ومشائخ کو باعمامہ دفن کیا جاسکتاہے، عام لوگوں کی میِّت کومع عمامہ دفنانا منع ہے۔  ؎



Total Pages: 7

Go To