Book Name:Faizan e Peer Meher Ali Shah

اب علاج کی ضرورت نہیں یہ کہہ کر مىرى نظروں سے غائب ہوگئے، ىہ حضرت پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہکے وصال کے 23 برس بعد  1960ءکا واقعہ ہے۔([1])

ایک فتنے کی سرکُوبی!

حضرت پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ۱۳۰۷ ھ بمطابق1890ء میں حرمین شریفین کی زیارت کے لئے گئے تو مکہ مکرمہ میں حضرت حاجی امدادُاللہ مہاجر مکی  چشتی صابری رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ سے ملاقات ہوئی، وہ آپ کے علم وفضل سے بہت متاثر ہوئے ۔حضرت پیرصاحب چاہتے تھے کہ حرمین طیبین ہی میں قیام کیا جائے مگرحضرت حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے بتاکیدمُراجعت (واپس جانے )کا حکم دیا اور فرمایا :  ہندوستان میں عنقریب فتنہ برپا ہونے والا ہے لہذاآپ اپنے ملک ہندوستان واپس چلے جائیں کیونکہ  بالفرض آپ ہند میں خاموش ہوکر بیٹھ بھی جائیں گے تو پھر بھی وہ فتنہ ترقی نہ کرسکے گا۔(پیر صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ فرماتے ہیں)پس ہم حضرت حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کے اس کشف کو اپنے یقین کی رُوسے مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتے ہیں ۔

حضرت حاجی امدادُاللہ مہاجرمکی رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہکی پیشنگوئی کے مطابق آپ کی مَساعیِ جمیلہ نے فتنہ ٔقادیانیت کی سازشوں پر پانی پھیر دیا ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے۱۳۱۷ھ بمطابق 1899ء میں شمس الہدایہ نامی کتاب لکھ کر حیاتِ مسیح عَلَیْہِ السَّلَام پر زبردست دلائل قائم کئے، مرزا قادیانی ان دلائل کا جواب تونہ دے سکا البتہ مناظرے کا چیلنج  کر دیا، 25جولائی 1900ء کی تاریخ مُناظرہ کے لئے طے پائی ، چنانچہ  مقرّرہ تاریخ  کو حضرت پیرصاحب اور عُلمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کی بہت بڑی جماعت مقررہ تاریخ  کو بادشاہی مسجدمرکزُ الاولیاءلاہور پہنچ گئی لیکن مرزاقادیانی کو سامنے آنے کی جرأت نہ ہوسکی۔([2])

مِہر مُنیر کے مُؤلّف مولانا فیض احمد صاحب 1963ءمیں قبلہ غلام مُحی الدین عرف’’بابو جی‘‘رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کے ساتھ حرمین شریفین حاضر ہوئے تو مدینہ منوّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً       میں قُطب ِمدینہ حضرت مولانا  ضیاءُ الدّین احمد مدنی رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی بارگاہ میں بھی حاضر ہوئے اورآپ سے پوچھا کہ کیا اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان عَلَیْہ رحمۃ الرحمناورقبلۂ عالم پیر مِہر علی شاہ  رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی ملاقات ثابت ہے؟ تو سیدی قطب مدینہ نے ارشاد فرمایا :  اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ اور پیر مِہر علی شاہ صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی ملاقات کا ثُبُوت تو نہیں ملتا(یعنی مجھ تک یہ بات نہیں پہنچی)  ا لبتہ حضرت ِاعلیٰ گولڑوی رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کا ذکر ِخیر اور مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوے کے خلاف آپ کے مُجاہدانہ کارناموں کا تذکرہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی مجالس میں بارہا سنا جاتا رہا ۔([3])

آپ کی تصانیف کے نام

(1)سیف چشتیائی (2)شَمْسُ الْھِدَایَة(3) تَحْقِیْقُ الْحق(4)اَلْفُتُوْحَاتُ الصَّمَدِیَّة (5)اِعْلاءُ کَلِمَة ِاللّٰهِ فِی بِیانِ مَااُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰه(6)فتاویٰ مِہریہ۔

    مَرَضُ الموت اوروصالِ پُرملال!

ماہِ صفر المظفّرمىں حضرت پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کو زکام اورمیعادى بُخار کا عارضہ لاحق ہوا، آخ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ رى تىن روز ىہ کىفىت رہى کہ بار بار دستِ حق دُعا کے لىے اٹھاتے اور کبھی مُبارک چہرے تک توکبھى پىشانى تک اُٹھاتے، کبھى نىاز مندوں کى اصرار پر چشمِ حق وا فرماتے(آنکھیں کھولتے)، بالآخربروز ہفتہ۲۹ صفر ۱۳۵۶ھ بمطابق 11مئى 1937ء بروز بُدھ صبح کے وقت داہنے ہاتھ کى نبض رک رک کر چلتى تھى اور بائىں ہاتھ کی نبض حسبِ معمول جارى تھى پھرآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نےاسم ذات شرىف ’’اللہ“ اىک دفعہ ہی آہستہ مگر اىسى طوىل اورعمىق آواز مىں زبانِ شوق اور قلبِ عرفان سے ادا فرماىا کہ اس کى گونج آپ کے دماغ عالی سے قدم مبارک کے ناخنوں تک سارے بدنِ اطہر مىں رگ و رىشہ اور سىنہ مجلى (شفاف سینے)کى وسىع گھاٹىوں مىں پھىل گئى، اور کچھ ہی دیر میں آپ وصال فرما گئے۔([4])

آپ کا مزارِ فائض الانوار گولڑہ شریف(ضلع راولپنڈی، پنجاب ، پاکستان) میں موجود ہے جہاں پریشان حال لوگ اور دیگر عقیدت  مندحاضر ہوکر فیضیاب ہوتے ہیں خاص کر  ۲۹ صفرُ المُظفر کو آپ کے عُرسِ مُبارک کے موقع پرعقیدت مندوں کا ہُجوم قابلِ دید ہوتا ہے اور نہایت ہی تُزک و احتشام کے ساتھ آپ کا عُرس منایا جاتا  ہے علاوہ ازیں مزار شریف پرہرسال حُضورسیدناغوث اعظمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْاَکرَم کا عُرس بھی منایا جاتاہے۔([5])

 



[1]     مِہر منیر، ص۵۹۵

[2]      تذکرہ اکابر اہلسنت، ص۵۳۸

[3]      لمعاتِ قُطبِ مدینہ، ص۲۷، ملخصاً، مطبوعہ دار الفیض گنج بخش لاہور

[4]     مِہر منیر، ص۳۳۵، ملخصاً

[5]     تذکرہ اکابر اہلسنت، ص۵۴۱، بتغیرقلیل، فریڈ بُک اسٹال



Total Pages: 8

Go To