Book Name:Faizan e Peer Meher Ali Shah

رىاست حىدرآباد دکن کے اىک رئىس نواب ولىُ الدَّولہحضرت سے بىعت تھے۔بىمارى کے سلسلہ مىں ڈاکٹروں نے انہىں بحرى ہوا خورى کے لىے لندن جانے کا مشورہ دىا، نواب صاحب نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کى خدمت مىں اجازت کے  لىے عريضہ لکھا تو آپ نے لکھ بھىجا کہ اگر بحرى ہوا ہى کھانا ہے تو بجائے لندن کے حج بىتُ اللہاورمدىنہ شرىف کى زىارت کو جائیے، بحرى ہواخورى کا مقصد بھى پورا ہوجائے گا، نواب صاحب کو شراب کى عادت تھى، اسى سال نواب صاحب بہاولپور اور ان کے ہمراہ پیر مِہر علی شاہ صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ  کے نیاز مند اور جامعہ عباسیہ بہاول پور کے شىخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹویرَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ  بھى حج کیلئے گئے جب جدہ پہنچے تو انہىں دىکھا کہ نواب ولى الدولہ نے شراب کے تمام بکس جو ہمراہ تھے سمندر مىں پھنکوادىئے اور سچے دل سے توبہ کى، حج کرنے کے بعد مدىنہ عالىہ پہنچ کر فوت ہوگئے، تقرىباًڈىڑھ گھنٹہ تک ان کا جنازہ روضہ عالىہ کے سامنے رکھا رہا، دىکھنے والے رشک کرتے تھے کہ ىہ کون خوش نصىب انسان ہے! حضرت شىخ الجامعہ نے اٹھ کرتعارف کراىاکہ ىہ مىراپىربھائى ہے۔حضرت امیرِملّت پىرسیِّدجماعت على شاہ محدث على پورى رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ  بھى وہاں موجود تھے، انہوں نے فرماىا لوگوں، دىکھو باخدا انسان(ولیُ اللہ) سے تعلق ونسبت کے کىسے عمدہ نتائج پىدا ہوتے ہىں۔([1])

(2) حادثے سے بچالىا !

حاجى محمد اىوب صاحب  رات کے وقت اىران مىں سفر کررہے تھے نىند کے غلبہ  مىں اونگھ رہے تھے، خواب مىں دىکھا کہ حضرت  قبلہ عالم پیر مِہر علی شاہ قُدِّسَ  سِرُّہُ فرما رہے ہىں ، لارى (گاڑی )کو روکو آگے گڑھا ہے، انہوں نے فوراً لارى کو رکواىا اور اتر کر دىکھا تو صرف چند گز کے فاصلہ پر سامنے اىک بہت بڑھا گڑھاموجود تھا۔([2])

(3)اپاہج تندرُست ہوگیا!

مُضافاتِ خوشاب کے رہنے والے اىک شاہ صاحب دونوں پاؤں سے اپا ہج و مفلوج تھے جب  گولڑہ شرىف آئے اور کچھ عرصہ حضرت قبلہ عالمقُدِّسَ  سِرُّہُسے دوا اور دم کراتے رہے، وہ مسجد کے سامنے پڑے رہتے تھے ، آپ نماز کو جاتے ہوئے اکثر  اُنہیں دم دىا کرتے، ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے اُن سیّدزادے سے فرماىا کہ ابھى وقت نہىں آىا آپ فى الحال گھر چلے جائیں، چُنانچہ وہ چلے گئے ، کافی عرصے بعد سىال شرىف کے سفر مىں خوشاب کے رىلوے اسٹىشن پر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ  نے انہىں گھٹنوں کے بل رىنگتے ہوئے دىکھ کر پہچان لیا اور فرماىا، آئیے شاہ صاحب اب وقت آگىا ہے کہ مىں آپ کے لئے دُعا کروں، جب ہاتھ اُٹھا کر دُعا فرمائى حیرت انگیز طور پر شاہ صاحب اسى وقت سب لوگوں کے سامنے اٹھ کھڑے ہوگئےاور  اپنے پیروں پر چل کر شہر چل دئے۔([3])

(4)غوثِ پاک کا دیدار!

خان بہادر غلام رسول خان اىک بار گولڑہ شرىف حاضر ہوئے اورعرض کىا کہ مىں بغداد شرىف جانے کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ  نے فرماىا :  بغداد والوں  کى مہربانى ہو تو ىہاں بھى زىارت ہوسکتى ہے ، بس اتناکہنا تھا کہ  خان صاحب  اُسى وقت جاگتی آنکھوں سے حضور غوثُ الاعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم  کى زىارت سے مشرف ہوگئے۔([4])

(5) کنویں کا کھارا پانی میٹھا ہوگیا

حضرت پیر سیّد مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کى خدمت مىں سىد صدىق شاہ صاحب نے عرض کىا کہ گاؤں مىں بہت سارا روپىہ خرچ کرکے کنواں کھدواىا گىا ہے جس کا پانى بہت کھارا ہے، لوگ بہت دور اىک پہاڑى چشمہ سے میٹھا پانى لاتے ہىں جس کی وجہ سے اُنہیں کافی تکلیف کا سامنا ہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے کچھ پانى دم کرکے دىا جس کے ڈالنے سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّ  وَجَلَّ  کنویں کا کھارا  پانی  مىٹھا ہوگىا، اور آج تک لوگ اُس سے مستفیض ہورہے ہیں ۔([5])

(6) قوتِ گویائی لوٹ آئی!

حضرت پیر صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کے پاس پشاور مىں ایک شخص اپنے چودہ سالہ بیٹے کو لے حاضر ہوااورعرض کىا کہ تقریباًچھ مہىنے پہلے ىہ اىک وادى مىں بکرىاں چرانے گىا تھا، واپس آىا تو زبان بند تھى، آج تک بات نہىں کرسکا، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے لڑکے سے فرماىا ، لڑکے کىا تمہارا باپ ٹھىک کہہ رہا ہے؟اس نے فوراً اُس کی زبان ٹھیک ہوگئی اور اُس نے جواب دیا :

 ’’ جی ہاں میرا باپ ٹھیک کہہ رہا ہے۔‘‘ آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے فرماىا :  اب بات کِىا کرنا۔([6])

(7)جاں بلب مریض شِفا پاگیا

ملک غلام صمدانى صاحب اىک مُہلِک مرض مىں مُبتلا ہوئے۔ جس مىں حلق اور ناک سے بے تحاشا خون جارى ہوگىا اپنے گاؤں سے مىو ہسپتال لاہور پہنچائے گئے، جہاں مىڈىکل افسر نے لاعِلاج قرار دىا، ان کے عزىز کپتان ملک محمد صادق صاحب ان امراض کے اىک ماہر ڈاکٹر کوو ہاں لے گئے، اس نے کہا حالت خطرناک ہے مرىض کو مىرے کلىنک مىں لے چلو، خون کثرت سے بہہ رہا تھا اور انتہائى ضعف کى حالت تھى، لىکن اچانک مرىض نے آنکھىں کھول دىں اور ہاتھ سے اشارہ کىا کہ سامنے سے ہٹ جاؤ، کمرہ کے دروازہ کى طرف دونوں ہاتھ پىشانى پر رکھ کر سلام کىا، پھر اىک جُھرجُھرى لے کر اُٹھ بىٹھےاور اسى لمحہ خون بہنابند ہوگىا، اور کمزوری بھی اس حد تک کم ہوگئی کہ باتىں کرنے لگے، کہا مىرا مُعالج پہنچ گىا ہے، اب کسى اور سے علاج کى ضرورت نہىں، بعد میں بتایا کہ حضرت قبلہ عالم پیر مِہر علی شاہ قُدِّسَ  سِرُّہُ تشرىف لائے تھے، دروازہ مىں کھڑے ہو کر درىافت فرماىا : تمہىں کىا ہوگىا ہے؟ مىں نے سلام کىا تو ہاتھ اٹھا کر دُعا فرمائى اور ہاتھ سے اشارہ فرماىا ، گوىا کہہ رہے ہىں کہ ىہاں سے چلے جاؤ



[1]      مِہر منیر، ص۲۹۶، بتغیر قلیل

[2]      مِہر منیر، ص۳۲۵

[3]      مِہر منیر، ص۵۸۵

[4]      مِہر منیر، ص۵۹۱

[5]      مِہرمنیر، ص۵۹۱، ملخصاً

[6]      مِہرمنیر، ص۵۹۲



Total Pages: 8

Go To