Book Name:Faizan e Peer Meher Ali Shah

ساڑھے بارہ بجے حجرہ مىں تشرىف لے جاتے ، کھاناکھا کر قىلولہ فرماتے، تقرىباً اىک گھنٹےبعداُٹھ کروضو کرتے اور اوّل وقت میں نماز ظہر پڑھنے کے لىے مسجد تشرىف لے جاتے، ظہر کے بعد  حجرہ شرىف مىں جا کر ذکرِ الہى مىں مشغول رہتے مگر اس وقت اگر کوئى آدمى کچھ عرض کرنا چاہتا تو اسے اجازت ہوتى تھى بلکہ بعض دفعہ مخصوص لوگوں کى مختصر سى خاص مجلس بھی مُنعقد ہوتى، پھر اسى وضو سے نمازِ عصر ادا فرماتے، عصر کے بعداپنے سامنے ختم شرىف خواجگان چشتىہ و قادرىہ پڑھواتے اور اىصالِ ثواب کے بعد مسجد سے نکل کر کبھى حجرہ مىں چلے جاتے اور کبھى گھوڑے پر سوار ہو کر تىن چارمىل  دوربستى مىرآبادىہ تشرىف لے جاتے کبھی تو اس سے بھى آگے، نماز مغرب اور نماز عشا باہر ہى ادا کرتے اور وہىں ذکر و شغل جارى رہتا، کافى رات گئے واپس آکر کھانا تناوُل فرما تے اورسوجاتے، تِہائى رات باقى رہے پھر بىدار ہو کر تہجد کى تىارى فرماتے اور وضو کے بعد سبز چائے نوش فرماتے۔([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

    زبان کا قُفلِ مدینہ([2])

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی عادت مبارکہ تھى کہ باتىں بہت کم کرتے تھے، مجلس مىں بىٹھتے تو بھى ذکر مىں مشغول رہتے، تلقىن و تدرىس کے دوران بھى ذکر جارى رہتا تھا کسى نے کوئى عرض کرنا چاہی آپ نے اجازت عطا فرمائى، وہ بىان کرتا رہتا، آپ سنتے بھى رہتے اور تسبىح بھى چلتى رہتى، اس نے عرض ختم کى، آپ نے جواب ارشاد فرماىا، اور تسبىح پھر شروع ہوگئى۔([3])

پیٹ کا قُفلِ مدینہ([4])

تاجدار گولڑہ پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ اپنی عمر کے آخری ایام مىں جب صاحبِ فراش ہوگئے، توفرماىا کرتے کہ میں نے چھتىس سال سے زیادہ خوراک استعمال کرنا ترک کررکھا ہے، ہفتے بھر میں مىرى مجموعى خوراک غالباً دو تىن چھٹانک سے زىادہ نہىں ہوگی اوراب تومعدےکو ہضم کى عادت نہىں رہى، جو چىز معدےمىں جاتى ہے وہىں رکھى رہتى ہے۔([5])

دُعا کی برکت سے بارش ہوگئی!

اىک انگرىزافسر راولپنڈى مىں بطورڈپٹى کمشنر تعىنات ہوا جو پہلے فوج مىں بھی رہ چکا تھا ، اس نے دىہاتى دورہ کے سلسلہ مىں گولڑہ شرىف کے قرىب کیمپ لگواىا،  اسے توقع تھى کہ پىر صاحب مُلاقات کے لىے آئىں گے مگر آپ نہ گئے، آخر اس نے دربار شرىف کے بالکل قرىب کیمپ لگواىا اور مقىم ہوا۔ مَلِک گُلاب خان اور دىگر نىاز مندوں نے آپ کى خدمت مىں عرض کى کہ مقامى افسر ہے مُناسب معلوم ہوتا ہے کہ آج عصر کے بعد جب آپ سوارى کى غرض سے تشرىف لے جائىں تو کچھ دیرتوقف فرما کر ڈپٹى کمشنر سے ملتے جائىں مگر آپ نے اُس روز سوارى کے وقت کیمپ کا راستہ ہى چھوڑ دىا، چنانچہ ڈپٹى کمشنر صاحب نے واپس راولپنڈى پہنچ کر حضرت کى طرف اىک چٹھی بھىجى کہ آپ بروز سوموار تىن بجے مىرى کوٹھى پر آکر مجھ سےملىں، حضرت نے اس چٹھی کے پیچھے لکھا کہ مُلاقات کى دووجہىں ہوسکتى ہىں، اىک ىہ کہ مجھے آپ سے کوئى کام ہو، سو مجھے تو آپ سے کوئى کام نہىں ہے اور دوسرى وجہ ىہ کہ آپ کومجھ سے کوئى کام ہو، اگر اىسى بات ہے تو پھر آپ کو ىہاں مىرے پاس آنا چاہىے، کىونکہ ہمىشہ ضرورت مند کو ہى جانا پڑتا ہے، اىک غىر ضرورت مند کو حاضرى کا حکم دىنے کے مُعاملے میں آپ کو دوبارہ غور کرناچا ہیے۔

     قاضى سراج الدىن بىرسٹر اُس زمانہ مىں سرکارى وکىل تھے ، ڈپٹى کمشنر نے انہىں مشورہ کے لىے بلاىا، قاضى صاحب نےسمجھاىا کہ آپ اىسے شخص سے الجھنا چاہتے ہىں جو خدا کے سوا دنىا اور مافىہا (جو کچھ دُنیا میں ہے)سے کوئى تَعلُّق نہىں رکھتا۔ چنانچہ یہ بات ڈپٹى کمشنر کى سمجھ مىں آگئى اور اس نے حضرت قبلہ عالم قُدِّسَ  سِرُّہُ کو اطلاع بھجوائى کہ مىں خود ملاقات کے لىے آؤں گا، چنانچہ تىسرے چوتھے روز اپنى بیوی و لڑکى سمىت آىا، ملاقات پر حضرت قبلہ عالم رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے ڈپٹى کمشنر صاحب سے  ہاتھ ملاىا، مگر جب مىم صاحب نے ہاتھ بڑھاىا تو آپ نے اپنا ہاتھ کھىنچ لىا، اس نے اپنے خاوند سے کہا کہ شاىد مىں بہت گنہگار ہوں اس لىے پىر صاحب نے مجھ سے ہاتھ نہىں ملانا چاہا ، ڈپٹى کمشنر صاحب نے ان الفاظ کى ترجمانى حضرت سے کى تو آپ نے فرماىا :  ىہ بات نہىں بلکہ مذہبِ اسلام مىں غىر عورتوں سے ہاتھ ملانے کى اجازت نہىں۔ دورانِ گفتگو ڈپٹى کمشنر نے سوال کىا کہ آپ کے پاس کوئى جاگىر ہے؟ تو حضرت نے فرماىا کہ مشرق سے مغرب تک حضرت غوث پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کى جاگىر ہے جو ہمارے جدِّاَمجد(دادا مُحترم) ہىں، اور ىہ سارا مُلک ہمیں جاگىر مىں ملا ہوا ہے، لڑکى نے حضرت کے ہاتھ والى تسبىح کے بارے میں پوچھا کہ ىہ کىا چىز ہے؟ فرماىا اس پر مىں اپنے مالک کا نام لىتا ہوں، اس نے پوچھا آپ کا مالک آپ کو تنخواہ کىا دىتا ہے ، آپ نے فرماىا آپ لوگوں کى طرح تنخواہ مقرر نہىں بلکہ مىرا مالک مىرى تمام ضرورىات کے مطابق عطا  کرتا ہےبلکہ بے حد و حساب دىتا ہے پھر وہ پوچھنے لگى کہ کىا آپ جو کچھ اپنے خدا  سے مانگىں وہ آپ کو دىتا ہے، آپ نے فرماىا  اگر وہ چىز ہمارے لىے بہتر ہو تو عطا فرماتا ہے اور اگر اس مىں ہمارا نقصان ہو تو نہىں دىتا جىسے بچہ روٹى کو ہاتھ مارتا ہے مگر ماں اُسے دودھ دىتى ہے کىونکہ بچے کا معدہ روٹى کو ہضم نہىں کرسکتا۔

چونکہ گرمى کا موسم تھا اور بارش کى ضرورت محسوس کى جارہى تھى لہٰذا لڑکى نے کہا، اگر اىسى بات ہے تو آپ بارش کے لىے دُعا کرىں کىونکہ آج کل بارش ہمارے لىے مُفىد معلوم ہوتى ہے۔حضرت اُس کى اِس عقلمندی پر مسکرائے اور فرماىا ہم دُعا کرتے ہىں اگر بارش مُفىد ہے تو ہوجائے گى پھر تمام حاضرىن کو مخاطب کرکے بارش کے لىے دُعا کرائى، اور ساتھ ہى خود بھى ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگى، چُنانچہ اسى روز بارش ہوگئى۔([6])

غیر عورَتوں سے ہاتھ ملانے کا عذاب

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس واقعے سے جہاں حضرت سیِّد پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی ایک کرامت کا پتا چلا وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ شرعی اُصولوں کی کس قدر



[1]     مِہر منیر، ص۳۱۱، ملخصاً

[2]      دعوت اسلامی کے مدنی ماحول میں زبان کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضگی والے کاموں سے بچانے اور فضول گوئی کی عادت نکالنے کے لیے ضروری باتیں بھی کم لفظوں میں لکھ کر یا اشاروں میں کرنا اورفضول بات منہ سے نکل جانے کی صورت میں نادم ہوکر درود شریف پڑھ لینا  ”زبان کا قفل مدینہ “کہلاتا ہے۔(جنت کے طلبگاروں کیلئے مدنی گلدستہ، ص۱۱۸)

[3]     مِہر منیر، ص۳۱۳

[4]     دعوت اسلامی کے مدنی ماحول میں پیٹ کو حرام غذا سے بچانا اور حلال خوراک بھی بھوک سے کم کھانا ”پیٹ کا قفلِ مدینہ“کہلاتا ہے۔(پیٹ کا قفل مدینہ، ۶۴۳)

[5]     مِہر منیر، ص۳۱۵

[6]     مِہر منیر، ص۲۸۷



Total Pages: 8

Go To