Book Name:Faizan e Peer Meher Ali Shah

سے اس کے اِردگرد ہی بھاگتا رہا ۔([1])

علمِ دین سیکھنے سکھانے کا شوق

حضرت پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کوپڑھنے پڑھانے کا اِس قدر شوق تھا کہ بسا اوقات موسمِ سرما کی طویل راتوں میں عشاء کی نماز کے بعد مطالعہ کرنے بیٹھتے تو پڑھتے پڑھتے صبح کی اذان ہوجاتی نیز اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ چھوٹے درجے کے طلبہ  کو بھی پڑھایا کرتے اور ان کی تعلیمی اُلجھنیں دُور کیا کرتے تھے حتی کہ رفتہ رفتہ آپ کے پاس پڑھنے والے طلبہ کی تعداداتنی زیادہ ہوگئی کہ آپ نے انگہ کا قِیام ترک کرکے شکر کوٹ میں رہائش اختیار فرمالی اور پھر دن کے وقت انگہ میں اپنی تعلیم حاصل کیا کرتے اور شام کو شکر کوٹ جا کر طلبہ کو پڑھایا کرتے ۔([2])

دینی مدارس سے مَحَبّت

حضرت پیر صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ دىنى مدارس سے بہت محبت کیا کرتے تھے، مدارس سے محبت اوران کی تعمیر و ترقى مىں آپ کى دل چسپى کا اندازہ اُن بیانات و پىغامات سے لگاىا جاسکتا ہے جوآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ وقتاً فوقتاًمختلف دینی اداروں کے افتتاحى اِجلاس مىں خود تشرىف لے جا کر دىئے ىا لکھ کر بھجوائے، جیساکہ ایک مرتبہ دسمبر  1912ءکو مرکز الاولیاء لاہور میں ایک اجتماع مُنعقد ہواتو حضرت پیر صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی شرکت کى اِطلاع پا کر لوگ دُور دُور سے اس میں شریک ہوئے ، بیان کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کے ترغیب دِلانے پر اِس قدر چندہ جمع ہوا کہ بىان نہىں کىا جاسکتا، روپوں اور اشرفىوں کا ڈھىر لگ گىا اور یہ سب دینی مدارِس کی تعمیر و ترقی کے لئے تھا۔([3])

عشقِ رسول میں وارفتگی

مولانامحبوب عالم ہزارویرَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ بیان فرماتے ہیں : مرکز الاولیاء لاہور کے ایک عاشقِ رسول نے سرورِ کائنات شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ       کی شان میں کچھ اشعار لکھے جس میں شوقِ وصال اور دردِ فراق کا بیان بھی تھاجب یہ اشعار حضرت کی نظر سے گزرےتو آپ پر رقت طاری ہوگئی چنانچہ مجھے کہلا بھیجا کہ میرے وظائف ولوازماتِ سفراسٹیشن پر پہنچادواورخوداچانک حج و زیارتِ مدینہ کے سفر پر روانہ ہونے کے ارادے سے اسٹیشن کی طرف چل دیے، جب میں ضروری چیزیں لے کر پہنچا تو آپ نے مرکز الاولیاءلاہور کاٹکٹ لیا اور مجھ سے فرمایا کہ سفر طویل ہے شام تک کسی سے ذکر نہ کرنا، ٹرین چلی تو میں بے اختیار رودیا کیونکہ نہ تو گھر میں کسی کو خبر تھی اور نہ ہی کسی  طالبِ علم کو یہ بات معلوم تھی کہ آپ سفر پر جارہے ہیں البتہ چند روز کے بعد آپ کا خط موصول ہواجس سے معلوم ہوا کہ بیتُاللہ شرىف اورمدىنۂ منورہ جانے کا ارادہ ہے۔مرکز الاولیاء لاہور پہنچ کر اپنے دىرىنہ عقىدت مند اور پىر بھائى حافظ محمد دىن سیالوی سے فرماىا کہ حج کا ارادہ ہے، انہوں نے اُسى روز اپنے بچوں کی والدہ کے  زىورات رہن رکھے اور ان کے ساتھ شریکِ سفر ہوگئے، بمبئى سے جہازپر سوار ہوئے جو بابُ المدینہ کراچى اور کامران ہوتا ہوا جدہ پہنچا، بمبئى مىں اىک پُراسرار شخصىت سے چند روز مُلاقات رہى، وہ آپ کى روانگى اور جہاز مىں سوار ہونے کے وقت بمبئى مىں ہى رہ گئے تھے، مگر جب جہازباب المدینہ  کراچى پہنچا تو پہلے ہى بندرگاہ پر موجود تھے حافظ محمد دىن سیالوی نے ازارہِ تعجب اس کے مُتَعلِّق درىافت کىا تو آپ نے اس قسم کے سوالات پوچھنے سے منع فرمادىا۔ ([4])

احکامِ الٰہی کی پابندی!

اىک مرتبہ شاہراہِ اعظم پر سنگِ جانى کى طرف سے واپس آتے ہوئے حضرت پیر صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نےدورانِ سفر فرماىا کہ نمازِ مغرب کا وقت قرىب ہے کسی مُناسب  مقام پر   کار کو روک لیں تاکہ نماز ادا  کی جائے، اىک صاحب نے عرض کى کہ ابھى سورج غروب نہىں ہوا، نماز کے وقت تک گولڑہ شرىف کے موڑ پر واقع خانقاہ تک پہنچ جائىں گے، چنانچہ سفر جارى رکھا گىا، ابھی زیادہ  دیرنہ گُزری تھی کہ جُھنگى سىّداں کے قرىب اچانک کار سڑک سے اُتر کر اُلٹ گئى، حضرت پیر صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ    اور بابو جى تو باہر گرے مگر مولانا محبوب عالم ہزاروی اور ڈرائىور کار کے نىچے آگئے، جب ان کو باہر نکال لِیا گیا تو  حضرت پیر صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے فرماىا کہ ىہ  تکلىف و آزمائش  نماز ِمغرب مىں تاخىر کا خوف نہ کرنے پر غىرتِ الٰہی کے باعث پىش آئى ہے ، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  سود مند ثابت ہوگى۔([5])

عبادات ومعمولات

حضرت پیر سیِّد مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ہمىشہ ذِکر و شغل اور ارشادِ مخلوق (لوگوں کو نیکی کی دعوت دینے)مىں وقت صرف فرماتے تھے ، فجر کى نماز کى سنتىں پڑھ کر حجرہ شرىف سے مسجد مىں تشرىف لاتے، امام کا انتظار فرماتے جب کبھى امام صاحب بوجہ بارش ىا بىمارى کے نہ آسکتے تو کسى دوسرے قابلِ امامت مُخلص کو امام بنالىتے، فرض نماز کی ادائیگی کے بعد آیۃُ الکرسى سُبْحٰنَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور اَللہاَکۡبَر پڑھ کر دُعا مانگا کرتے تھے، پھر ذکرِ جہر فرماتے اورتىن چاربارکلمہ شرىف پڑھ کر دوبارہ دُعا فرماتے ، پھر مکرر ذکر کلمہ شرىف بالجہر فرما کرتىسرى دفعہ دُعا مانگا کرتے ، اس کے بعد عادت مبارک تھى کہ دس بجے تک اوراد و و ظائف مىں مشغول رہتے، کبھى ىہ شغل مسجد مىں ہى ادا  ہوتا اورکبھى حجرہ شرىف مىں، اس شغل کے دوران کسى کے ساتھ کلام نہىں فرماتے تھے، و ىسے بھى آپ کا قدرتى رُعب اىسا تھا کہ کسى کو بے تکلف ہو کر گفتگو کرنے کى جرأت نہ ہوتى ۔تقریباًدن کے گىارہ بجے حجرےسے باہر دىوان خانے مىں تشرىف لاتے، اُس وقت ہر شخص کو اپنے معروضات پىش کرنے کى اجازت ہوتى تھى، ا س دوران ارشاد و تلقىن (نیکی کی دعوت) کا سلسلہ بھى جارى رہتا  اور مخلصىن سےگفتگوکا سلسلہ بھى جاری رہتا، تعوىذ اور دم بھى جارى رہتے ۔

 بعض اوقات اسباق کا شغل بھى شروع ہوجاتا، مثنوى شرىف مولانا روم ، فُتوحاتِ مکىہ فُصُولُ الحکم بخارى شرىف، شرح چغمینى وغیرہ مختلف کتابىں آپ کواس مجلس مىں پڑھاتے دىکھاگیاہے، تقریباً



[1]     مِہرمنیر، ص۴۹، ملخصاً

[2]     مِہرمنیر، ص۷۰، ملخصاً

[3]     مِہر منیر، ص۱۴۱بتغیر قلیل

[4]     مِہرمنیر، ص۱۱۶، بتغیر قلیل

[5]     مِہر منیر، ص۳۲۵، ملخصاً



Total Pages: 8

Go To