Book Name:Faizan e Peer Meher Ali Shah

اصول، منطق، قطبی، معقول ، ریاضی اور مختلف عُلوم و فُنون کی کتابیں پڑھیں، البتہ اکثر وبیشتر کتب انگہ (وادیِ سون سکیسر ضلع خوشاب) میں شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے مریدِ خاص مولانا سلطان محمود سیالوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی سے پڑھیں اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کے  دستِ اقدس پربیعت ہوئے اور خلافت واجازت سے مُشرّف ہوئے۔نیزاس سے پہلے اپنے والدگرامی کےماموں حضرت پیر سیّدفضل دین قادری رزاقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْکافی  سے بھی آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں خلافت حاصل تھی ۔([1])

دورانِ تعلیم جُود وسخاوت

حضرت پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے دورِ طالبِ عِلمی ہی سے ریاضت و مجاہدات کو اپنا معمول بنالیا تھا۔چنانچہ دورانِ تعلیم آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کو گھر سے ماہانہ طور پر جو خرچ  بھیجا جاتا آپ اسے غریب طلبہ میں تقسیم فرمادیتے اور خود عموماً روزہ رکھتے یا فاقہ کرتے۔البتہ شدید بھوک کے عالم میں طلبہ کا بچا ہوا کھانا تناول فرما لیتے آپ کے اس ایثار ، جودو سخااور ریاضت و مُجاہدےکو دیکھ کر وہاں کے تمام طلبہ اور دیگرلوگوں کے دلوں میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی عقیدت و محبت گھر کر گئی  ۔([2])  

سُبْحٰنَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   بیان کردہ واقعے سے پتا چلتا ہے کہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   کے برگُزیدہ بندے اپنی ضروریات کو دُوسروں کی ضروریات پر قُربان کردیا کرتے تھے لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ اپنے اسلاف اور بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کےنقشِ قدم پر چلتے ہوئے مُسلمانوں کی خیرخواہی کِیا کریں، ان کے ساتھ حُسنِ سُلوک سے پیش آئیں اور اپنی مَن پسند چیزیں اُن پر ایثار کرنےکاجذبہ پیدا کریں نیز حسبِ استطاعت ان کی پریشانی دُور کرکے دین و دُنیا کی بھلائیوں کے حقدار بن جائیں۔

عبادت وریاضت میں استقامت

مولانا محبوبِ عالَم  ہزاروی جوکہ سفروحضر میں حضرت پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کے ساتھ رہنے والے اورآپ کے مُقربِ خاص تھے، آپ فرماتے ہیں کہ پیر صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ یادِ الٰہی میں رات جس پہلو پر بىٹھ جاتے صبح صادق تک بےخُودی  کے عالم میں اُسى پہلو پر بىٹھے رہتےاور ذرہ برابر حرکت نہ کرتےحتی کہ موسم ِسرما کى طوىل اور برفانى راتىں صرف اىک کمبل مىں گزار دىتے، صبح کے وقت کمبل پر برف جمى ہوتى جسے اٹھ کر جھاڑ دىتےنیز آپ کے اندر عشقِ الٰہى کی اس  قدر حرارتو حِدّت (گرمی)ہوتی  کہ تالاب کے جمے ہوئے پانی مىں  غُسل فرماتے اور برف ہٹا ہٹا کر غوطہ لگاتے، عموماًعشا کے وضو سے فجر  کى نماز ادا فرماتے (گویا ساری  رات مصروفِ عبادت رہتے)، مُسلسل دوزانو بیٹھ کر مُراقبہ کرنے کے باعث آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی رانىں جواب دے گئیں جس کی وجہ سے چلنا پھرنا دُشوار ہوگىا ، ایک ماہر طبىب نے روزانہ مالش  اور عصر کى نماز کے بعد گُھڑ سواری  کرنے کی تجویز دی جس سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ      کافی  افاقہ ہوا۔([3])

حُقوقُ العباد کی پاسداری!

حضرت پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نہ صرف خوفِ خدا اورعشقِ مُصطفے رکھنے والے بُزرگ تھے بلکہ حُقوق العباد کا بھی بہت لحاظ رکھا کرتے تھے۔آئیے اس کی ایک جھلک اس واقعے میں مُلاحظہ کیجئے۔انگہ (ضلع خوشاب)کی آبادی سے کچھ فاصلے پر ایک ویران مسجدتھی جس کے مُتَعلِّق لوگوں میں مشہور تھایہ مسجد آسیب زدہ اور جنات کامسکن ہےاسی وجہ سے  کوئی بھی شخص شام کے بعد اُدھر کا رُخ نہ کرتا تھا، لیکن حضرت پیر صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کا معمول تھا کہ روزانہ عشاء کی نماز کے بعد اسی مسجد میں جا کر اپنے وظائف و اَوراد پڑھا کرتے تھے البتہ اپنے  اسباق اور درسی کتابوں کا مطالعہ وہاں سے واپس آکر مدرسے میں کیا کرتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ اُس مسجد میں جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مجھے بعض وظائف بلند آواز میں پڑھنے ہوتے تھے لہٰذا میں نہیں چاہتا تھا کہ میری  آواز دُوسروں کے آرام و سکون میں خلل کا باعث ہو۔([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی حُقوق العباد کا معاملہ نہایت سخت ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم بھی خوب اچھی طرح غور کرلیں کہ کہیں ہماری عادات و معمولات اور طرزِ زندگی وغیرہ کی وجہ سے کسی مُسلمان کو تکلیف تو نہیں ہورہی اور اگر ایسا ہے تو دُنیا و آخرت کی پریشانیوں سے بچنے، بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین سے اپنی سچی عقیدت کا اظہار کرنے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ   اور  اُس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      کو راضی کرنے کے لئے فوراًہر اُس کام سے باز آجائیں جس سے مُسلمانوں کو تکلیف پہنچے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جانوروں پر بھی رحم

ایک دفعہ آپ کے استادِ مُحترم کے صاحبزادے کے پاؤں میں ورم آگیا جس پر باندھنے کے لیے حضرت پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ اَرنْڈ ([5])کے پتے ایک رومال میں رکھ کرلارہے تھے ، راستے میں آپ نے دو بھیڑیوں کو دیکھا کہ انہوں نے ایک گدھی کو گھیر کر گرالیا، قریب ہی اس گدھی کا بچہ بھی موجود تھا جو اس خطرناک صورتِ حال میں بھی  جان بچا کربھاگنے کے بجائے بڑی بے چینی سے اپنی ماں کے اِردگرد چکر کاٹنے لگا، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ  کو  اُس گدھی اور اُس کے بچے پر بڑا ترس آیا ، چنانچہ بے اختیار دوڑ کر وہاں جا پہنچے اور گدھی کو چھڑانے کی غرض سے رومال میں بندھے ہوئے پتے بھیڑیوں کے منہ پر مارنے لگے، چند کسان کچھ فاصلہ پر ہل چلا رہے تھے، انہوں نے چلّا کر آپ کوروکناچاہا اور بھاگ کر وہاں پہنچ گئے مگر اس دوران بھیڑیئے گدھی کو معمولی زخمی کرکے بھاگ چکے  تھے، کسانوں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کو سمجھایا  کہ جب درندہ شکار پر ہو تو اس کے اور اس کے شکار کے بیچ  مُداخلت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ایسی صورت میں وہ انسان پر بھی حملہ کرنے سے نہیں چوکتا ، اور پھر آپ تو ابھی چھوٹے بچے ہیں آخر آپ نے ایسا کیوں کیا؟آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے فرمایا : مجھ سے گدھی کے بچے کی حالت نہیں دیکھی گئی جو ماں کی محبت میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بے قراری



[1]      تذکرہ اکابر اہلسنت، ص۵۳۶، بتغیر قلیل

[2]      مِہرمنیر، ص۶۸ ملخصاً

[3]     مِہر منیر، ص۱۴۸، ملخصاً

[4]      مِہرمنیر، ص۶۹، ملخصاً

[5]     چوڑے چوڑے پتوں والاایک درخت جس کے بیج کی گری سے ارنڈی کا تیل جسے کسٹر آئل بھی کہتے ہیں نکالا جاتا ہے۔



Total Pages: 8

Go To