Book Name:Faizan e Peer Meher Ali Shah

ولادت اور سلسلہ ٔنسب

ماہِ شریعت ، مِہرِطریقت، حضرت سیِّدُناپیر مِہرعلی شاہ گولڑوی بن حضرت مولانا پیر سید نذردین شاہ قُدِّسَ سِرُّہُما یکم رمضان المبارک۱۲۷۵ھ بمطابق 1859ء بروز پیر گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی (پنجاب، پاکستان)میں پیدا ہوئے، آپ کا سلسلہ نسب ۲۵ واسطوں سے حضرت سیدنا غوث اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم  اور ۳۶ واسطوں سے حضرت سیدنا امام حسن  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  تک پہنچتا ہے۔([1])

ولادت کی خبر!

حضرت قبلۂ عالم پیر مِہر علی شاہ  رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی ولادتِ باسعادت کی  خوشخبری کا آپ کے خاندان کے بعض افراد کو پہلے ہی عِلم ہوچکا تھا، خاص کر آپ کے والدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم   اورحضرت پیرسیّد فضل دین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِین  جو آپ کے والد کے ماموں اور آپ کے شیخِ طریقت بھی تھےپہلے ہی یہ بات جانتے    تھے کہ  اس گھر میں ایک نورانی چراغ روشن ہونے والا ہے، نیز آپ کی ولادت سے چند روز پہلے ایک عمر رسیدہ مجذوب بُزرگ خانقاہ میں آکر مقیم ہوگئے  اور عنقریب پیدا ہونے والے مقبولِ خدا کی آمداور زیارت کا ذکر کرتے تھے، چنانچہ جب حضرت کی ولادت ہوئی تو یہ مجذوب حرم سرائے کی ڈیوڑھی(دہلیز) میں پہنچے اور آپ کو باہر منگوا کر ہاتھ پاؤں چومے اور رخصت ہوگئے۔([2])

تعلیمی قابلیت

آپ کو قرآنِ کریم پڑھنے کے لیے خانقاہ کے درس میں اور اُردو فارسی کے لئے مدرسے میں داخل کیا گیا، اس وقت آپ اس قدر چھوٹے تھے کہ خادم اٹھا کر لاتااور لے جاتا تھا، جب امتحان کا دن آیا تو مدرسے کے تمام طلبہ کو راولپنڈی لے جایا گیا، اُس وقت بھی آپ کو خادم نے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا، امتحان لینے والے نے  سب سے پہلے  آپ ہی سے سوال کیاجس پر آپ نے فوراًصحیح جواب دےدیا، یہ دیکھ کر امتحان لینے والا حیران رہ گیا اور یہ کہہ کر ساری جماعت کو پاس کردیا کہ جب اِس قدر کم سِن بچہ صحیح جواب دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ استاد کی تعلیم اچھی ہے اور تمام طلبہ لائق ہیں۔([3])

حیرت انگیز قُوّتِ حافظہ

بچپن ہی میں حضرت پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی قُوّتِ حافظہ کایہ عالم تھا کہ ناظرہ قرآنِ پاک  پڑھنے کے دوران آپ روزانہ کا سبق کسی کے کہے بغیر زبانی یاد کرلیا کرتے اور بغیر دیکھے ہی سُنادیا کرتے تھےحتی کہ جب ناظرہ مکمل ہوا تو اس وقت آپ کو پورا قرآنِ پاک حفظ ہوچکا تھانیزقرآنِ پاک پڑھنے کے بعدآپ کے والد حضرت مولانا پیر سید نذردین شاہ قُدِّسَ سِرُّہُ نے عربی، فارسی اور صرف و نحو کی ابتدائی  تعلیم کے لیےحضرت مولانا غُلام مُحِیُّ الدّین ہزاروی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کو مقرر فرمایا ، ایک روز استاد صاحب نے پوچھا : بیٹا!مُطالعہ کرکے آتے ہو یا نہیں؟ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اس وقت تک لفظِ مُطالعہ کا صحیح مطلب بھی معلوم نہ تھا، میں سمجھا کہ ’’مُطالعہ ‘‘زبانی یاد کرنے کو کہتے ہیں لہٰذا اگلے روز میں نے پورا سبق زبانی سُنا دیا جس پر  اُستاد صاحب کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔([4])

    بچپن کی بعض عادات

حضرت قبلہ عالم پیر مِہرعلی شاہ گولڑوی   عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرمایا کرتے تھے کہ بچپن میں مجھے آبادی سے وحشت اور ویرانوں سے اُنسِیّت (محبّت)سی محسوس ہوتی، میں ابھی اتنا چھوٹا تھا کہ گھر کے دروازوں کی اندر والی درمیانی زنجیر تک میرا ہاتھ نہ پہنچتا تھا جس کی وجہ سے میں کسی چیز پر کھڑے ہوئے بغیر اُسے کھول نہ سکتا تھالہٰذا جب شام ہوتی ایک چٹو (ہاون جس میں مصالحہ جات کوٹتے ہیں)دھکیل کر دروازہ کے قریب رکھ دیتا، رات کو والدین کے سونے کے بعد اس پرچڑ ھ کرزنجیر کھولتا اورباہر نکل جاتا، یوں رات کابیشتر حصہ کبھی صاف پانی کے پہاڑی نالے اور جھاڑیوں کے پاس گزارتا اور کبھی جنگل میں پھرتا رہتا، جب ذرا بڑا ہوا تو طبیعت میں اس قدر گرمی پیدا ہوگئی کہ سخت سردی کے ایام میں بھی بعض اوقات نالے کے ٹھنڈے پانی میں غسل کرتا اور یخ بستہ (برف کی طرح جمے ہوئے) پانی کے ٹکڑوں کو جسم پر ملا کرتا، کبھی کافی رات گئے دینی کتابوں کے مطالعے سے فارغ ہو کر کمرے سے باہر نکلتا تو موسم کی سرد پہاڑی ہوا کے جھونکوں سے ایسی تسکین ہوتی جیسے گرمیوں میں کسی تشنہ کام (پیاسے)کو آبِ خُنک (ٹھنڈے پانی )سے ہوتی ہے۔([5])

مادر زاد ولی

ایک مرتبہ پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کے اُستاد حضرت مولانا غُلام مُحِیُّ الدّین ہزاروی رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے دورانِ سبق کتاب کے ایسے حصے کی عبارت یاد   کرکے آنے  کی ہدایت کی جو دیمک لگ جانےکی وجہ سے  اس قدرمِٹ چکی تھی کہ  پڑھی نہیں جاسکتی تھی، جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ نے عُذر پیش کِیا کہ جو عبارت کتاب میں موجود ہی نہیں اسے کیسے یاد کیا جاسکتا ہے تو اُستاد صاحب نے  غالباً  آپ کے مادر زاد ولی ہونے کی  تصدیق کی غرض سے کہا کہ میں نہیں جانتا ، اگر کل یہ عبارت یاد نہ ہوئی تو سزا ملے گی، آپ فرماتے ہیں کہ میں آبادی سے باہر ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر مطالعہ وغیرہ کیا کرتا تھااُس دن بھی کافی دیر تک میں وہیں بیٹھا کتاب کی دیمک زدہ عبارت کوسمجھنے کی کوشش کرتا رہامگر بے سُود(کوئی فائدہ نہ ہوا)، آخر کارسر اٹھا کر بارگاہِ الٰہی  عَزَّ  وَجَلَّ  میں عرض کی :  اے اللہ(عَزَّ  وَجَلَّ)بے شک تو جانتا ہے  کہ یہ عبارت کیاہے ، اگر تو مجھے بتادے تو میں استاد کی سزا سے بچ جاؤں گا۔یہ کہنا تھا کہ اچانک درخت کے پتوں میں ایک سبزی مائل عبارت نمودار ہوئی جسے میں نے حفظ کرلیا اور اُسی وقت جا کر وہ عبارت استاد صاحب کو سُنادی، انہوں نے کچھ شبہ کا اظہار کیا تو میں نے کہا :  مجھے اس کے صحیح ہونے کا اس قدر یقین ہے کہ اگر اس کتاب کے مصنف بھی قبر سے نکل کر آجائیں اور اِسے غلط کہہ دیں تو میں ہرگز  نہ مانوں گا، چنانچہ استاد صاحب اسی روز روالپنڈی گئے اور ایک مکمل نسخےسے جب میری سُنائی  ہوئی عبارت کومِلا کر دیکھا تو صحیح پا کر نہایت حیران ہوئے۔([6])

آپ کے اسا تِذ ہ !

قُرآنِ مجید پڑھنے کے بعدحضرت پیر مِہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہنے مولانا غُلام مُحی الدین ہزاروی ، مولانا محمد شفیع قُریشی  ، استاذ الکل مولانا لُطفُاللہ علی گڑھی  وغیرہ مشہور اساتذہ سے نحو، کافیہ،



[1]      تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص۵۶

[2]      مِہرمنیر، ص۶۴، ملخصاً

[3]      مِہرمنیر، ص۶۵، ملخصاً

[4]      مِہرمنیر، ص۶۵ ملخصاً

[5]   

Total Pages: 8

Go To