Book Name:Faizan e Peer Meher Ali Shah

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فیضانِ پیر مِہر علی شاہ

دُرودِ پاک کی فضیلت

حضرتِ سَیِّدُنا ابو دَرْداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایت ہےحضورنبیِ کریم، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا : جوشخص صبح و شام مجھ پر دس دس بار دُرود شریف پڑھے گا بروزِ قِیامت میری شَفاعت اُسے پہنچ کررہے گی۔([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماہِ شَریْعت، مِہر ِطَریْقت، تاجدارِگولڑہ حضرت پیر سیِّدمِہرعلی شاہ گولڑوی گیلانی چشتی نظامی   قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی کو سفرِمدینہ کے دوران جو ایمان افروز واقعہ پیش آیا اُس کا ذکر شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی کتاب ’’عاشقانِ رسول کی 130 حکایات ‘‘ میں یوں فرمایا ہے :

زیارتِ مکینِ گنبدِ خضرابمقام وادیِ حمرا

تاجدارِ گولڑہ حضرت پیر مِہر علی شاہ صاحِب رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہفرماتے ہیں : مدینۂ  عالیہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً        کی سفر میں بمقام وادیِ حمرا ڈاکوؤں کے حملے کی پریشانی کی وجہ سے مجبوراً عشاء کی سنّتیں مجھ سے رَہ گئیں ، مولوی محمد غازی ، مدرَسۂ صَولَتِیہ میں شَغَلِ تعلیم وتدریس چھوڑکرحُسنِ ظن کی بِناءپربَغَرَضِ خدمت اِس مُقدس سفر میں میرے شریک ہوئے تھے۔اِن رُفَقاء کی مَعِیَّت میں مَیں قافلے کےایک طرف سوگیا، کیا دیکھتا ہوں کہ حضور جانِ عالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم   سیاہ عربی جُبّہ زیبِ تن فرمائے تشریف لاکراپنے جمالِ باکمال سے مجھے نئی زندَگی عطافرماتے ہیں، ایسامعلوم ہوا کہ میں ایک مسجِدمیں بَحالَتِ مُراقبہ دوزانوبیٹھاہوں، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے قریب تشریف لاکرارشادفرمایاکہ آلِ رسول کوسُنّت ترک نہیں کرناچاہیے۔ مَیں نے اِس حالت میں آنجناب کی دوپِنڈلیوں کوجوریشم سے بھی زیادہ لطیف تھیں اپنے دونوں ہاتھوں سے مضبوط پکڑکرنالہ وفُغاں کرتے(یعنی روتے بلکتے) ہوئے، اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُولَ اللّٰہ کہناشُروع کیااورعالَم ِمدہوشی میں روتےہوئے عرض کی کہ حُضُورکون ہیں؟جواب میں وُہی ارشادہوا کہ آلِ رسول کو سُنّت ترک نہیں کرنا چاہیے۔ تین باریِہی سُوال وجواب ہوتے رہے۔تیسری بارمیرے دل میں ڈالاگیاکہ جب آپ نِدائے یَارَسُولَ اللّٰہسے مَنْع نہیں فرمارہے توظاہر ہے کہ خود آنحضرت ہیں، اگر کوئی اور بُزُرگ ہوتے تو اس کلمے سے مَنْع فرماتے، اُس حسن و جمالِ باکمال کے مُتَعلِّق کیاکہوں!اُس ذَوق ومستی وفیضانِ کرم کےبیان سے زَبان عاجزہے اورتحریر لنگ (لاچار)البتَّہ بادہ خَوارانِ عشق ومَحَبَّت (یعنی شرابِ محبت پینے والوں)کےحَلْق میں ان اَبیات(یعنی اشعار)سے ایک جُرْعہ (یعنی گھونٹ)اوراُس نافَۂ مُشک(مُشک کی تھیلی)سے ایک نَفحہ(خوشگوارمہک)ڈالنامناسب معلوم ہوتا ہے۔ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

وادیِ حمرا مىں نبىِ کرىم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے دىدارِ پُر انوار سے مشرف ہونے والے مذکورہ واقعے اور وقتِ دیدار طاری ہونے والی کیفیت کو یاد کرکے ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناپیر مِہرعلی شاہ گولڑوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیکے جذبات مچل گئے، دل کو بیقراری اور آنکھوں سے اشکباری ہونے لگی تو آپ نے اپنے مشہور نعتیہ کلام میں اس کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔([3])

اَج سِک مِتراں دِی وَدھیری ہے      کیوں دلڑی اداس گھنیری ہے

لُوں لُوں وِچ شوق چنگیری اے       اَج نیناں لائیاں کیوں جَھڑیاں

سُبْحَانَالله مَااَجْمَلَكَ                                               مَااَحْسَنَكَ مَااَکْمَلَكَ

کتھے مِہر علی کتھے تیری ثنا          گستاخ اکھیں کتھے جا اڑیاں

اشعارکا مفہوم : آج دل بہت زیادہ اداس ، جسم کے ہرہر لوں (بال بال )میں شوق کی بہار اور آنکھوں سے آنسو کیوں رواں ہیں؟اس لئے کہ محبوب کی یاد نے آستایا ہے۔([4])

آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم اس قدر صاحبِ حُسن وجمال اور صاحبِ کمال ہیں  کہ مجھ جیسے حقیر سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی ثناء ممکن ہی نہیں بلکہ اس سے میری کوئی مناسبت نہیں، کہاں میں اورکہاں آپ کی ذات اقدس؟ زیارت و دیدار کا شرف فقط آپ کی کرم نوازی ہے ورنہ میری آنکھیں اس لائق کہاں، ان سے بھی لگنے اور تکنے کی جسارت ہوگئی ہے۔([5])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس ایمان افروز واقعے سے جہاں حضرت سیِّدُنا پیرمِہرعلی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کے عشقِ رسول کا پتا چلتا ہے وہیں اتباعِ شریعت کی عظمت اور رسولِ کائنات، سرورِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں  پر عمل کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہےکہ پریشانی کے عالم میں مجبوراًسنتیں چھوٹنے پر بھی پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اپنے نواسے کو احساس  دِلایا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ  رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی سنّتوں کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور کسی صورت تَرک نہ کریں ۔

 

 



[1]     الترغیب والترھیب، كتاب النوافل، ۱/ ۳۱۲، حدیث : ۹۹۱، دار الفکر بیروت

[2]     عاشقانِ رسول کی 130 حکایات ، ص ۱۵۰، مکتبۃ المدینہ

[3]     مِہرمنیر، ص۱۳۲، ملخصاً، نظریہ پاکستان پرنٹر

[4]     شرح سِک مِتراں دی، ص۴۷، کاروانِ اسلام  پبلیشر

[5]     شرح سِک مِتراں دی، ص۳۸۳



Total Pages: 8

Go To