Book Name:Fatawa Razawiyya jild 29

 

 

 

 

تشریح ابدان

 

مسئلہ ۱۶:                 مرسلہ مولوی نواب محمد سلطان احمد خان صاحب                           ۲۹ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ

زید کہتا ہے حال میں دو شخص ایسے پائے گئے ہیں جن کے دو دو دل ہیں اور ڈاکٹر وں نے بھی اس کو اپنے طور پر جانچ کیا ہے بکر کہتا ہے کہ ایك شخص کے دو دل نہیں ہوسکتے کیونکہ الله تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:

" مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلْبَیۡنِ فِیۡ جَوْفِہٖ ۚ"[1]۔

اﷲ تعالٰی نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے۔(ت)

اس پر خالد کہتا ہے خدا ئے تعالٰی نے یہ بھی تو فرمایا ہے:

" ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمْ فِی الۡاَرْحَامِ کَیۡفَ یَشَآءُؕ"[2]۔

وہی ہے جو تمہاری تصویر بناتاہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے)

پس یہ امر عجائبِ صنع باری سے ہے جیسے کہ ایك شخص ایسا بھی موجود ہے جس کا دل داہنی طرف ہے اسی طرح عجیب الخلقت بچے ہمیشہ پیدا ہوتے رہتے ہیں کیا انسان کیا جانور اور پہلی آیت تو اس شخص کے بارے میں اتری ہے جو دعوی کرتا ہے کہ اس شخص کے دو دل ہیں لہذا میں نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ علم و فہم رکھتاہوں۔چونکہ اس وقت میں لوگ طرح طرح سے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ تھے اس لیے اس شخص نے


 

 



[1] القرآن الکریم ۳۳/ ۴

[2] القرآن الکریم ۳/ ۶



Total Pages: 750

Go To